بیانات میں تضاد ،اکیس سالہ لڑکی کے مقدمہ قتل میں گرفتاروالد،چچا اور ماموں 4روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

بیانات میں تضاد ،اکیس سالہ لڑکی کے مقدمہ قتل میں گرفتاروالد،چچا اور ماموں ...
 بیانات میں تضاد ،اکیس سالہ لڑکی کے مقدمہ قتل میں گرفتاروالد،چچا اور ماموں 4روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

  



راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)تھانہ صدر بیرونی کے علاقہ میں جاں بحق ہونے والی 21سالہ لڑکی کے مقدمہ قتل میں گرفتاروالد،چچا اور ماموں کو عدالت نے4روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا،ابتدائی تفتیش میں تینوں ملزمان کے بیانات میں تضاد پایا جا رہا ہے.

تفصیلات کے مطابق سٹی پولیس آفیسر ڈی آئی جی محمد فیصل رانا نے سنگین نوعیت کے مقدمات پر فالو اپ اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا،انہوں نے ایس پی صدر رائے مظہر اقبال کو دفتر طلب کر کے ان سے21سالہ کائنات بی بی کے مقدمہ قتل کے حوالے سے پراگرس لی،ایس پی نے سی پی او کو بتایا کہ مقتولہ کے وائرل ہونے والے ویڈیو بیان کی روشنی میں پولیس نے اس کے والد ریاست،چچا صادق اور ماموں شہزاد کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا عدالت نے4روزہ جسمانی ریمانڈ پر ملزمان کو پولیس کے حوالے کر دیا،ابتدائی تفتیش میں تینوں ملزمان کے بیانات میں خاصا تضاد پایا جا رہا ہے۔ایس پی نے بتایا کہ ملزمان کی طرف سے متضاد بیانات سے اس واردات میں کئی سنسنی خیز انکشافات کی توقع ہے، تفتیش کو سو فیصد میرٹ پر یکسو کیا جائے گا اگر اس کیس میں بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی اور ملزمان یا سہولت کار بھی شامل ہوئے تو وہ بھی قانون کی شکنجے سے نہیں بچ سکیں گے نہ کوئی بے گناہ جیل جائے گا اور نہ کوئی گناہ گار جیل جانے سے بچ سکے گا۔سی پی او نے ایس پی کو ہدایت کی کہ وہ اس کیس پر اپنی پوری توجہ مرکوز کریں،تفتیشی مراحل کی خود نگرانی کریں،کیوںکہ معاشرے میں لڑکی کی زہر سے موت معاشرتی اقدار پر بہت سے سوالات اٹھا دیتی ہے، ہمیں ان سوالات کا جواب بھی تلاش کرنا ہے۔سی پی او نے کہا کہ جدید سائنسی ٹیکنالوجی آئی ٹی کے اس دور میں بہت سے چھپنے ہوئے کرداروں کو سامنے لانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے،پولیس اس کیس میں جدید سائنسی ٹیکنالوجی کا بھر پور استعمال کرے اس حوالے سے آئی ٹی ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی جائیں،سی پی او نے کہا کہ مجھے اس کیس کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹ رکھا جائے۔

یاد رہے کہ مقتولہ کائنات بی بی کی شادی اس کی مرضی کے خلاف  ہری پور میں فیضان نامی شخص سے ہوئی ،اپنی موت سے قبل مقتولہ کائنات نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں اس نے کہا تھا کہمیری موت کے ذمہ دارمیرا والد ریاست خان چچا صادق خان اور ماموں شہزاد خان ہوں گے،ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے تینوں افراد کو حراست میں لے کر مقدمہ درج کرتے ہوئے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /راولپنڈی