یہ ناشکرے لوگ؟

یہ ناشکرے لوگ؟
یہ ناشکرے لوگ؟

  

لوگ بڑے بڑے ناشکرے ہیں۔یہ اللہ کے دیئے ہوئے کا بھی شکر ادا نہیں کرتے اور صبر بھی مجبوری کی حالت میں کرتے ہیں۔ یہی دیکھئے کہ آج صبح صبح جب سیر سے فارغ ہو کر محفل یاراں میں آئے تو بات چینی اور آٹے کی شروع ہو گئی، حالانکہ معروضی حالات کی روشنی میں گفتگو اپوزیشن کے گوجرانوالہ والے جلسے کی ہونا چاہئے تھی، لیکن شاید ہم ہی بے خبر ہیں کہ حضرات کو ٹوکنے لگے، لیکن وہ تو بات مکمل کرنے پر مصر تھے۔ایک دوست نے طنزیہ انداز میں مبارک دی اور کہا:”لو بھائی! اب چینی سستی ہونے والی اور آٹا ملنے والا ہے۔ وفاقی وزیر میاں حماد اظہر،ہمارے سابق گورنر، لارڈ میئر لاہور میاں اظہر کے صاحبزادے ہیں، نے کہہ دیا ہے کہ دو تین روز میں چینی15روپے تک سستی ہو جائے گی، ہم سب ان کا منہ دیکھ ہی رہے تھے کہ مرزا صاحب نے مزید گرہ لگائی کہ اب آٹا بھی وافر مقدار میں دستیاب ہو گا، نرخ سرکاری،لیکن چکیوں پر جانے والے عیاش ہوں گے کہ وہاں کے نرخوں میں کمی کے آثار نہیں ہیں،رانا صاحب نے پوچھا: یہ چینی اور آٹا مل بھی جائے گا کہ ابھی تک تو سرکاری آٹا یوٹیلٹی سٹورز پر بھی نہیں ہے۔

یہ سب گفتگو اسی موضوع پر ہو رہی تھی،جو کئی روز سے زیر بحث ہے کہ آٹا اور چینی ضرورت کی اہم خوردنی اشیاء ہیں اور آٹے نے تو پریشان کر رکھا ہے۔یہ80روپے فی کلو تک چلا گیا، روٹی 10 روپے کی ہو گئی اور چینی 115 روپے فی کلو بک رہی ہے، بات چلی تو واضح ہو گیا کہ وزراء حضرات کا یہ سندیسہ درآمدی چینی اور گندم کے حوالے سے ہے کہ قلت محسوس کر کے یہ فیصلہ کیا گیا اور برآمد کرنے والے پاکستان کو درآمد کا سہارا لینا پڑا تاہم میاں حماد اظہر کی طرف سے دی جانے والی خوشخبری سن  کر ہماری ہنسی نکل گئی اور ایسی تھی کہ ٹھسا لگ گیا اور کتنی دیر کھانسنا پڑا۔ یہ کتنی بڑی خوشی ہے کہ 52 روپے فی کلو بکنے والی چینی اب 115 روپے فی کلو بک رہی ہے، اور یہ سب اُس وقت ہوا، جب حکومت ِ وقت نے75روپے فی کلو نرخ ہونے کے بعد ”مافیا“ کے خلاف ایکشن لیا اور اس کے نتیجے میں نرخ115روپے تک چلے گئے، اور اب یہ خوشخبری دی جا رہی ہے کہ یہ چینی چند روز میں 15روپے فی کلو تک سستی ہو جائے گی۔52 روپے تو کجا یہ 75روپے کلو بھی نہیں ملے گی،اب اس پر شکر ادا کریں کہ ماتم کریں۔ محترم وزیر صاحب اچھے بھلے بیرسٹر ہیں اور ان کو بات کرتے وقت یہ خیال بھی نہیں آیا کہ دس، پندرہ روپے سستی ہو گی تو عوامی بجٹ پر کیا اثر پڑے گا۔

یہی صورت حال آٹے کی ہے، ہم جو زرعی ملک اور گندم میں نہ صرف خود کفیل ہیں، بلکہ ”برآمد کی اہلیت بھی رکھتے ہیں، اسی لئے تو گندم برآمد کر دی گئی اور یہ بھی نہ دیکھا گیا کہ اس کے اثرات کیا ہوں گے؟ اور اب روس اور وسطی ایشیا سے درآمد کی جا رہی ہے۔ حماد اظہر نے تو یہ دعویٰ کیا کہ چینی آ گئی تو کنٹرول ریٹ پر فروخت ہو گی اور یوں دس پندرہ فی صد سستی ملے گی کہ ڈیڑھ لاکھ ٹن چینی آ رہی ہے، اب موجودہ نرخوں کے مطابق جب کم قیمت چینی کے نرخ مقرر ہوں گے تو یقینا یہ 95سے ایک سو روپے فی کلو تک ہوں گے اور جناب یہی کنٹرول ریٹ ہو گا، سبحان اللہ!اس پالیسی پر قربان ہونے کو جی چاہتا ہے، اور شاید یہی حال گندم کا ہو گا کہ سرکار کی طرف سے پانچ ارب روپے کی سبسڈی دے کر یہ فلور ملوں کو دی جائے گی، جو سرکاری نرخ پر آٹا مہیا کریں گی۔ سوال پھر یہ ہے کہ کیا یہ آٹا اتنی زیادہ مقدار میں ہو گا اور عام ملے گا؟اب تک تو ایسا ہوا نہیں اور لوگ  چکی ہی کا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں،جو ان سرکاری نرخوں سے کہیں مہنگا ہے،لوگ چکیوں سے دیسی آٹا خریدتے ہیں تو ان کی بہترین خواہش ہے کہ ان کو یہاں سے پرانے نرخ 50روپے فی کلو کے حساب سے نہیں، تو 55سے 60روپے تک ہی مل جائے، لیکن اس کے نرخ تو 80سے82روپے فی کلو ہیں۔

بات شروع ہوئی، سیر صبح کی محفل یاراں سے ہم نے  مفہوم عرض کر دیا تاہم یہ ممکن نہیں تھا کہ آج (جمعہ) کے جلسہ پر گفتگو نہ ہو، ہماری رائے تو تھی کہ جلسہ کامیاب ضرور ہو گا،لیکن فریقین کی توقعات پوری نہیں ہوں گی کہ یہ جلسہ کوئی ”سونامی“ نہیں لائے گا،گوجرانوالہ سے موصول ہونے والی  اطلاعات اپوزیشن کے لئے حوصلہ افزا ہیں، دوستوں نے اتفاق رائے سے بہ فیصلہ سنا دیا کہ حزبِ اختلاف کی یہ کامیابی ہے اور پہلی کوشش ہی مہمیز ثابت ہوئی،ان کو حزبِ اقتدار (حکومت+ وزراء+ ترجمان) کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ ان کی بدولت اس جلسے کو کوریج ملتی رہی کہ ”بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا“ اور یہ بدنام ہونے جا رہا ہے۔

اب تو یہی محسوس ہونے لگا ہے کہ اس تحریک کا نتیجہ بھی سابقہ ادوار کی تحریکوں کے مطابق ہو گا اور اس کی پذیرائی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا،رہ گئی بات نتیجے کی تو ہم پھرایک بات دہرا کر ختم کرتے ہیں،وہ یوں کہ9اپریل 1977ء کو جب ریگل چوک پر گولی چلی اور بعض لوگ جاں بحق اور زخمی ہوئے تو اس روز تھوڑی دیر بعد ہی ہم کو پنجاب اسمبلی کیفیٹیریا میں محترم چودھری اعزاز احسن کی پریس کانفرنس میں شرکت کرنا پڑی۔ وہ اس وقت صوبائی وزیر اطلاعات تھے۔انہوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر وزارت،اسمبلی کی رکنیت اور پیپلزپارٹی سے استعفیٰ دے دیا اور اعلان کر دیا، یہ الگ بات ہے کہ بعد میں وہ یہ وضاحت کرتے رہے کہ انہوں نے وزارت اور رکنیت سے استعفیٰ دیا، جماعت نہیں چھوڑی تھی، اب ہم کیا کہہ سکتے ہیں،ہم نے تو خبر رپورٹ کی تھی، بہرحال چودھری صاحب کی بات مان لیتے ہیں کہ وہ اب بھی جماعت میں ہیں اور1988ء میں وزیر داخلہ بھی تھے۔

مزید :

رائے -کالم -