بھیڑوں کی افزائش سے غربت سے نجات

بھیڑوں کی افزائش سے غربت سے نجات
بھیڑوں کی افزائش سے غربت سے نجات

  

غربت  نے دنیا کی ایک بہت بڑی آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ خصوصاً کورونا وائرس کووڈ-19 کی وبا کے بعد  صورت حال بہت زیادہ ابتر ہوگئی ہے۔ اقوام متحدہ نے اپنے پائیدار ترقیاتی ایجنڈے میں سال 2030 کو دنیا سے غربت کے خاتمے کا سال قرار دیا ہے۔  لیکن اس وقت کرہ ارض پر ایک ایسا ملک بھی ہے جس نے غربت کے خاتمے  کے لئے سال 2020  کو حتمی سال قرار دیا ہے۔ چین  میں یکم اگست 2014 کو یہ فیصلہ ہوا کہ ہر سال سترہ اکتوبر کو غربت کے خاتمے کا قومی دن منایا جائے گا۔ آج 17 اکتوبر 2020 ہے۔ گزشتہ چھ برس  کے دوران عوامی جمہوریہ چین میں ہر برس  10  ملین  سے زائد افراد نے غربت سے نجات حاصل کی ہے ۔یہ تعداد ایک درمیانے درجے کے یورپی ملک کی پوری آبادی کے برابر ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق چین میں ہر ایک منٹ میں تیس افراد غربت سے نجات حاصل کرتے ہیں۔ یوں چین میں ہر روز کامیابی کی  لاتعداد کہانیاں رقم ہورہی ہیں۔ 

ایسی  ہی   کہانی چین کے نینگ شاہ ہوئی خود اختیار علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک  مسلمان خاندان کی ہے۔  اس خاندان نے بھیڑوں کی افزائش سے غربت سے نجات حاصل کی ۔ چین میں غربت کے خاتمے کے لئے  بہت سے کامیاب ماڈلز پر عمل جاری ہے۔ 

سن انیس سو اٹہتر کے آخر تک چین کے دیہی علاقوں میں سات سو ستر ملین افراد  غربت کا شکار تھے۔ ان علاقوں میں غربت کی شرح 97.5 فیصد تھی۔ اس کے بعد دیہی اصلاحات کے سنہرے دور کا آغاز ہوا اور چین نے غربت کے خاتمے کے میدان میں تاریخی کامیابیاں حاصل کرنا شروع کیں۔ یہ اس شاندار پالیسی ہی کا نتیجہ تھا کہ سن 2012 میں 18 ویں سی پی سی نیشنل کانگریس کے بعد سے اب تک 93 ملین سے زائد دیہی افراد غربت سے نجات پا چکے ہیں۔ 

چین میں غربت کے خاتمے کی ایسی شاندار اور قابل تقلید کہانیاں ہیں جن سے بہت سے ممالک استفادہ کر سکتے ہیں۔ یہاں کچھ ایسی  داستانوں کا ذکر کرتے ہیں۔چین کے صوبہ سی چھوان کے دیانگ شہر کے گاؤں  "گاوہوئی" میں چلیں ،تو ایک ادبی اور فنکارانہ فضا محسوس ہوتی ہے: کافی ہاؤسز ، آرٹ گیلریز ، اوپن ایئر تھیٹر  اور  راک بینڈیہاں کی نئی پہچان بن چکے ہیں۔ماضی "گاو ہوئی" ایک غریب پہاڑی گاؤں تھا۔دو ہزار آٹھ کے شدید زلزلے میں گاؤں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا تھا۔زلزلے کے بعد گاؤں کے بیشتر نوجوان روزگار کے لئے باہر چلے گئے ، اس لئے گاو ہوئی ایک "کھوکھلا گاؤں" بن گیا۔ 

تبدیلی اتفاق سے شروع ہوتی ہے۔ 2014 میں ، محترمہ ہو زونگ نے ، جو ثقافتی وتخلیقی صنعت سے وابستہ ہیں ، گاو ہوئی گاؤں کے کسانوں کی ایک چھوٹی سی عمارت کرائے پر لی۔ تین ماہ کی تزئین و آرائش کے بعد ، یہ فارم ہاؤس گاؤں کا پہلا دیہی کافی ہاؤس بن گیا ، جس کا نام "ناٹ فار" ہے۔شروع میں کافی شاپ کے مہمان محترمہ ہو زونگ کے دوست تھے جو شہروں سے آتے تھے۔آہستہ آہستہ کافی شاپ کی شہرت گاؤں کی سرحدوں سے باہر پھیلنے لگی اور شہروں سے سیاح ایک بڑی تعداد میں اس گاؤں میں آنے لگے ۔یوں گاؤں میں کافی ہاوسز کی تعداد بھی بڑھ گئی ۔ اس وقت ، گاؤ ہوئی کے لوگوں کو توقع نہیں تھی کہ ان کا آبائی گھر"کافی" سے وابستہ ہو جائےگا۔ باہر روزگار کے لئے جانے والے گاؤں کے نوجوان بھی یکے بعد دیگرے گاؤں واپس آگئے اور یہاں کاروبار کرنے لگے۔بڑی تعداد میں کافی ہاوسز کھلنے سے مقامی کسانوں کو کرایے کی مد میں خطیر رقم موصول ہونے لگی اور مقامی زرعی مصنوعات بھی زیادہ آسانی سے فروخت ہونے لگیں۔ اس طرح بہت دیہاتیوں نے اپنے آبائی گھر میں ہی روزگار حاصل کیا اور اس گاؤں نے غربت سے نجات حاصل کی۔ 

رواں سال چین میں غربت کے خاتمے اور خوشحال معاشرے کے قیام کا سال ہے ۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت میں تمام لوگوں کی مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں چین کے غریب علاقوں میں نمایاں تبدیلی آئی ہے ۔ صوبہ سی چھوان کے مئے شان شہر میں اچار تیار کرنے کا ایک کارخانہ ہے ۔ اس کارخانے کی خصوصیت یہ ہے کہ عملے کا ایک تہائی حصہ معذور ملازمین پر مشتمل ہے۔ جس کی تعداد چار سو انہتر ہے ۔ اس وقت اس کارخانے کی پیداوار اچار بنانے والی صنعت میں سرفہرست ہے ۔ خوشحالی اور ترقی کے راستے میں کوئی بھی پیچھے نہیں رہے گا ۔ بتایا گیا ہے کہ اس کارخانے میں ان خصوصی ملازمین کی اوسط تنخواہ چھبیس سو یوان سے بھی زیادہ ہے ۔ اس کے علاوہ رہائش اور کھانے پینے کی چیزیں انہیں کارخانے کی جانب سے مفت ملتی ہیں ۔ اس طرح ان کے خاندان اب بہت خوشحال ہو رہے ہیں ۔ 

پھنگ تھانگ گاؤں چین کے جنوبی صوبہ کوانگ دونگ کے پہاڑی علاقے میں واقع ہے ۔اس گاؤں میں باسٹھ غریب خاندان موجود تھے۔حالیہ برسوں میں عمدہ سبزیوں کی کاشت سے مقامی کسانوں کی آمدنی میں واضح اضافہ ہوا ہے اور غربت سے چھٹکارا حاصل ہوا ہے۔اس وقت گاؤں میں عمدہ سبزی کی کاشت کاری کا مرکز قائم ہے جس کے ذریعے مقامی کسانوں کے لئے روزگار کے ایک سو دس مواقع میسر آئے ہیں۔یہاں ہر کسان روزانہ دو سو تا تین سو یوان کما سکتا ہے۔ 

پھنگ تھانگ گاؤں میں سبزی کی کاشت کاری کے اس مرکز کا ماڈل کچھ یوں ہے کہ "کمپنی + کوآپریٹو + بیس + کسان" ، یہ ایک کثیر الجہتی تعاون کا نمونہ ہے۔مرکز کے اہلکار لی چھوان یو کے مطابق مرکز میں زمین ، پانی اور کھاد سمیت تمام تنصیبات اور مصنوعات کے اخراجات کمپنی کی سرمایہ کاری سے ہوتے ہیں۔ گاؤں کے لوگ اپنی صلاحیتوں کی بنا پر کھیتوں پر کاشت کاری کا معاہدہ کرتے ہیں۔ ٹھیکیدار کو ابتدائی مرحلے میں کسی بھی قیمت پر سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ، وہ صرف کاشت کاری کرتےہیں، سبزیوں کی کٹائی کے بعد وہ سبزیاں کمپنی کو فروخت کردی جاتی ہیں ۔پھر کمپنی سبزیوں کی آبپاشی اور کھاد سمیت مزکورہ اخراجات کو حساب میں شامل کرکے باقی رقم ٹھیکیدار کو ادا کرتی ہے ۔ اس کے علاوہ ، کمپنی کاشتکاروں کو زمین کے کرایہ کے طور پر ہر سال 600 یوآن کی ادائیگی بھی کرتی ہے۔یوں کسانوں کو کسی بھی سرمایہ کاری کے خطرات کےبغیر خاطر خواہ آمدنی حاصل ہو جاتی ہے۔ 

گزشتہ 70 برسوں کے دوران ، چین نے غریب عوام کو ریلیف فراہم کیا ، ترقی پر مبنی غربت کے خاتمے کی کوششیں کیں ، اور غربت کے خاتمے کی نشاندہی کی بنیادی حکمت عملی طے کی ۔ اس کے ساتھ ساتھ چین نے عالمی سطح پر بھی غربت کو کم کرنے کی حکمت عملی کو فروغ دیا۔ غربت کے خاتمے میں چین کی موجودہ کامیابیاں بنی نوع انسان کی تاریخ کا ایک سنہرا باب بن چکی ہیں۔ 

۔

  نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -