ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے مولانا فضل الرحمان کیساتھ ہاتھ کردیا؟ حامد میر نے نئی بحث چھیڑ دی

ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے مولانا فضل الرحمان کیساتھ ہاتھ کردیا؟ حامد میر نے ...
ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے مولانا فضل الرحمان کیساتھ ہاتھ کردیا؟ حامد میر نے نئی بحث چھیڑ دی

  

گوجرانوالہ، اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کا پہلا جلسہ گزشتہ روز گوجرانوالہ میں ہوا جس کے قائدین بلاول بھٹو زرداری ، مریم نواز اور مولانا فضل الرحمان میڈیا کی شہہ سرخیوں میں تھے، تینوں ہی الگ الگ ریلیوں کی شکل میں جلسہ گاہ پہنچے لیکن اب سینئر تجزیہ نگار اور اینکر پرسن حامد میر نے نئی بحث چھیڑ دی ۔

ٹوئٹر پر حامد میر نے لکھا کہ " پی ڈی ایم نے گوجرانوالہ میں بڑا جلسہ تو کر دیا لیکن جب اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا خطاب شروع ہوا تو بہت سے لوگوں نے سٹیڈیم سے جانا شروع کر دیا یہ لوگ شام پانچ چھ بجے سے جلسے میں موجود تھے ،اپوزیشن قیادت نےانکے صبر کا بہت زیادہ امتحان لیا، آئندہ اتنی تاخیر نہیں ہونی چاہئیے۔

یا درہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری بھی کہہ چکے ہیں کہ کل کے جلسے میں تنظیم کا حال یہ تھا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے  رات دو بجے  مولانا فضل الرحمان کو موقع دیا کہ خطاب کریں،ا س وقت خالی کرسیاں تھیں، میرے خیال میں اگر وہ یہ وعدہ کرلیتے کہ صبح حلوے کے ساتھ ناشتہ بھی دیں گے تو شاید کچھ لوگ کرسیوں کی نظر میں رک جاتے لیکن انہوں نے خالی کرسیوں سے خطاب جاری رکھا۔ 

شبلی فراز کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر فوادچودھری نے کہا کہ نومبر 2011 میں عمران خان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں پیشن گوئی کی تھی کہ جب بھی احتساب شروع ہوا تو یہ اکٹھے ہوجائیں گے ، ہم نے دیکھا کہ کل کس طرح بگڑے بچے فوج اور عوام کو للکا ررہے تھے،  اگرکروڑاں روپے خرچ کرکے  اٹھارہ سے بیس ہزار لو گ ہی جمع نہیں ہوئے ، گوجرانوالہ ڈویژن  کی اپنی آبادی کروڑوں سے تجاوز کرجاتی ہے، لیکن یہ پندرہ سے اٹھارہ  ہزار لوگ ہی اکٹھے کرسکے ۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -