دبئی جانے والے پاکستانی رل گئے، گھنٹوں سے ایئر پورٹ پر خوار ہونے لگے، رقم دکھانے کا مطالبہ

دبئی جانے والے پاکستانی رل گئے، گھنٹوں سے ایئر پورٹ پر خوار ہونے لگے، رقم ...
دبئی جانے والے پاکستانی رل گئے، گھنٹوں سے ایئر پورٹ پر خوار ہونے لگے، رقم دکھانے کا مطالبہ
کیپشن:    سورس:   Flicker

  

دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی میں حکام نے پاکستانی مسافروں کو ایئر پورٹ پر ہی روک لیا ہے اور انہیں داخلے کی اجازت نہیں دی جارہی ، ان میں سے متعدد مسافروں کو واپس ڈی پورٹ کردیا گیا ہے جبکہ کئی ابھی بھی ایئر پورٹ پر خوار ہورہے ہیں۔

وزٹ ویزے پر دبئی پہنچنے والے 545 افراد کو حکام نے ایئر پورٹ پر ہی روک لیا ، حکام کی جانب سے 250 افراد کو واپس ڈی پورٹ کردیا گیا ہے جبکہ باقی مسافر ایئر پورٹ پر ہی موجود ہیں۔

دبئی کے حکام نے ایک سرکلر کے ذریعے بتایا ہے کہ دبئی میں سیاحتی ویزے پر آنے والے صرف ایسے افراد کو داخلے کی اجازت ہوگی جن کی واپسی کی ٹکٹ کنفرم ہوگی اور انہوں نے ہوٹل کی بکنگ بھی کرا رکھی ہوگی۔ دبئی آنے والے افراد کے پاس 2 سے 9 ہزار درہم تک کی رقم موجود ہونی چاہیے۔

پاکستانی قونصل خانے کے مطابق جمعرات کی رات کو روکے گئے مسافروں میں سے 26 افراد کو دبئی میں داخلے کی اجازت مل گئی تھی جبکہ جمعہ کے روز 152 پاکستانیوں کو واپس بھجوایا گیا ہے۔

پاکستانی قونصل خانے کے مطابق چونکہ کورونا سے قبل کئی پاکستانی ورکرز بے روزگار ہو کر متحدہ عرب امارات میں مشکلات کا شکار ہو گئے تھے اور بھوک اور تحفظ کی کمی کا شکار رہنے کی وجہ سے ان میں ہزاروں کو واپس پاکستان بھیجنے کے انتظامات کیے گئے، اس لیے اب دبئی میں حکام کی کوشش ہے کہ آئندہ وزٹ ویزے پر آنے والوں کو اس طرح کی مشکلات سے بچایا جائے۔

قونصل خانے کے مطابق 13 اکتوبر کے بعد متحدہ امارات میں وزٹ ویزے پر آنے والے مسافروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ساتھ اتنی رقم لائیں کہ جس سے ان کے دبئی میں قیام کے اخراجات پورے ہو سکیں۔ یہ رقم دو ہزار سے نو ہزار درہم تک ہو سکتی ہے۔ 

ویب سائٹ اردو نیوز کے مطابق وزٹ ویزے پر آنے والے مسافروں کے پاس پاکستان واپس جانے کا ٹکٹ بھی ہونا چاہیے اور متحدہ عرب امارات میں رہنے کے لیے ہوٹل کی بکنگ بھی ضروری ہے۔

مزید :

عرب دنیا -تارکین پاکستان -