مہنگائی کا نیا طوفان

مہنگائی کا نیا طوفان

  

بجلی،گھی، چاول اور دیگر اشیائے خورد نوش کی قیمتیں بڑھانے کے بعد حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں 10.49روپے تک اضافہ کر دیا ہے۔ اشیائے صرف جن کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں،اب انہیں مزید روکنا ممکن نہیں رہے گا،بجلی کی قیمت میں فی یونٹ ایک روپے68پیسے اضافے، اور پٹرول کی قیمت میں 10.49روپے فی لٹر اضافے کے بعد مہنگائی کا طوفان پوری طرح سر اٹھا چکا ہے۔غریبوں کی امداد کے لیے بنائے گئے یوٹیلیٹی سٹورز پر ملنے والے ڈالڈا گھی کی فی کلو قیمت میں 109 روپے اور 10لیٹر کین میں 1090روپے کا ہوشربا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈالڈا گھی کا 10لیٹر کا کین 2500 روپے بڑھ کر 3590روپے کا ہوگیا۔اسی طرح میزان گھی کے 10 لیٹر ٹن کی قیمت  475روپے بڑہ گئی، جس کے بعد میزان گھی کے 10 لیٹر ٹن کی قیمت 2885سے بڑھا کر 3360روپے مقرر کی گئی ہے۔یوٹیلیٹی سٹورز پر 5لیٹر پلانٹا کوکنگ آئل  463روپے مہنگا کردیا گیا، جب کہ من پسند کوکنگ آئل کی قیمت 465 روپے تک بڑھا دی گئی ہے، جس کے بعد من پسند 5لیٹر کوکنگ آئل ٹن کی قیمت 1245سے بڑھ کر 1710 روپے ہوگئی ہے،جبکہ کپڑے دھونے کا سرف 500 گرام پیک 5روپے مہنگا کر کے 170روپے کا کردیا گیا، صابن3 روپے مہنگا کرکے133 روپے ہو گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جوتوں کے پالش کی قیمت 100 سے بڑہ کر 110 روپے کی کر دی گئی، کپڑوں کا نیل 1 لیٹر پیک 25 روپے مہنگا ہو کر قیمت 439 روپے سے 464 روپے ہو گئی ہے۔ شیمپو4 روپے مہنگا کر کے195 روپے کا کر دیا گیا، جبکہ مختلف کمپنیوں کے پکوان مصالحے4روپے سے لے کر 5روپے فی پیک تک مہنگے کردیئے گئے۔ ادارہ شماریات کے مطابق اس ہفتے میں مہنگائی کی شرح میں 0.20 فیصد اضافہ ہوا، اسی طرح مہنگائی کی مجموعی شرح12.68 فیصد تک پہنچ گئی،جبکہ کم آمدنی والوں کے لئے مہنگائی کی شرح 14.12 فیصد پہنچ گئی ہے۔ ادارہ کے سروے کے مطابق ایک ہفتے میں 22اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ایل پی جی گھریلو سلنڈر کی قیمت  بھی 43 روپے بڑہ گئی،  اہم مصنوعات  اور بجلی کی قیمت میں فی یونٹ اضافے کے بعد مہنگائی کا ایسا طوفان آئے گا جسے روکنا خود حکومت کے بس میں نہیں رہے گا۔ اس طرح مہنگائی کی چکی میں پسنے والا غریب پاکستانی سطح غربت سے مزید نیچے چلا جائے گا۔اس کے لیے زندگی پہلے ہی اجیرن ہے،اب مہنگائی جب تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اسے روٹی کے بجائے اپنی جان کے لالے پڑتے نظر آ رہے ہیں۔

دنیا بھر میں بھوک اور غربت کے حوالے سے اعداد و شمار اکٹھے کرنے والے ادارے ”ورلڈ گلوبل ہنگر انڈکس“ کے مطابق پاکستان کا116 ممالک میں 92نمبر ہے۔ انڈکس کے مطابق پاکستان میں بھوک اور غربت کی سطح تشویشناک ہے۔ سروے کے مطابق پاکستان کی38.1 فیصد آبادی کو غذائی قلت کا سامنا ہے، جبکہ پاکستان کے ادارہ شماریات کے مطابق ملک میں 16فیصد افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے۔دیہات میں رہنے والے پاکستانیوں کو شہروں کی نسبت 20فیصد زیادہ غذائی بحران کا سامنا ہے۔دوسری جانب وزیر توانائی حماد اظہر کا کہنا ہے کہ مہنگے اور غیر ضروری بجلی کے معاہدوں کے باعث ہمیں بجلی کے ٹیرف میں اضافہ کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی طرح اگر نوٹ چھاپ کر سرکلر ڈیٹ ختم کریں گے تو مہنگائی مزید بڑھے گی۔ حماد اظہر کا کہنا تھا نواز شریف ایسے معاہدے کر گئے جس کے مطابق ہم بجلی لیں نہ لیں ”کیپسیٹی پیمنٹ“ کرنا ہی پڑے گی۔اس مد میں 2013ء میں 185 ارب روپے ادائیگی کرنا تھی، جو اب بڑھ کر 800ارب تک پہنچ چکی ہے، جس کے سبب گردشی قرضے2030ء تک300 ارب تک پہنچ جائیں گے۔ حماد اظہر نے خبردار کیا کہ ملک میں گیس کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ عالمی سطح پرگیس کی قیمتیں بڑھی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان مہنگائی کے اس سونامی کو امپورٹڈ مہنگائی کا نام دے رہے ہیں۔ وفاقی وزراء اور عہدیدار جو مرضی دعوے کریں مہنگائی کی جو مرضی تاویلیں پیش کریں، غریب آدمی کا پیٹ ان معاشی موشگافیوں سے بھرنے والا نہیں۔ حکومتی عہدیدار مہنگائی کے سد ِباب میں ٹھوس اقدامات کے بجائے صرف پریس کانفرنس اور ٹیلی ویڑن پر ماضی کی حکومتوں پر الزامات کے علاوہ کچھ نہیں کر رہے۔ بین الاقوامی سرویز کے مطابق پاکستان کی اکثریتی آبادی کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے اور یہ بحران ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھتا جائے گا۔امپورٹڈ مہنگائی کا رونا دھونا اپنی جگہ،لیکن حکومت کے مہنگائی کے جواب میں اقدامات بس ٹیلی ویژن اور اخبارات میں نظر آتے ہیں۔پاکستانی روپیہ روز بروز بے توقیر ہو رہا ہے۔ڈالر کی اڑان کے سامنے حکومت بے بس نظر آتی ہے۔حکومت کا دعویٰ ہے کہ امسال شرح نمو4,8 تک پہنچ جائے گی، لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب بجلی کی قیمتیں اپنی انتہا پر ہوں گی، انڈسٹری کو بجلی گیس کی سپلائی ڈیمانڈ کے مطابق نہیں ملے گی، پٹرول مہنگا ہونے سے کارخانوں، فیکٹریوں پر اضافی بوجھ پڑے گا، روپیہ بے توقیر ہونے سے پاکستانی مقامی سرمایہ کار ڈالر کے سامنے بے بس ہو جائیں گے تو شرح نمو کیسے بہتر ہو گی۔ وفاقی وزراء کی جانب سے ہر بات کا ذمہ دار سابق حکومتوں کو ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ کیا اس مہنگائی کا جواز فقط ماضی کی حکومتوں پر الزام تراشی ہے۔گڈ گورننس، معاشی ماہرین کی ٹیم رکھنے کے دعوے، زراعت میں امسال انقلابی پیداوار کی تقریریں،گردشی قرضوں پر قابو پانے کی نوید کہاں چلی گئیں۔ اپوزیشن ایک عرصے سے کہہ رہی تھی کہ حکومت جلد منی بجٹ لائے گی۔بظاہر یوں لگتا ہے کہ ان کی بات سچ ثابت ہو رہی ہے،اپوزیشن الزام لگا رہی ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے لیے کام کر رہی ہے۔

موجودہ معاشی ابتری کو اگر بین الاقوامی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بات کسی حد تک سمجھ میں آتی ہے کہ اس وقت پوری دنیا مہنگائی کی لپیٹ میں ہے،کیا امریکہ، کیا یورپ سب ترقی یافتہ ممالک شدید معاشی بحران کا شکار نظر آتے ہیں۔کورونا نے دنیا بھر کی معیشت کو سکیڑ دیا ہے ایسے میں ترقی پذیر ممالک کے لئے ان کی بقا کا امتحان کھڑا ہو گیا ہے۔پاکستان پہلے ہی گردشی قرضوں،بیرونی قرضوں اور ان قرضوں پر سود کی ادائیگیوں، عالمی کساد بازاری، بین الاقوامی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے سبب شدید معاشی بحران سے گذر رہا ہے،ابھی ہم آئی ایم ایف کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔آئی ایم ایف کی جانب سے نئے مطالبات اور تجاویزکو ہمیں طوعاً کرہاً قبول کرنا پڑے گا،جس کا مطلب یہ ہو گا کہ شدید معاشی بحران، مہنگائی، بے روز گاری کے شکار پاکستان میں خوفناک معاشی بگاڑ پیدا ہو گا۔حالات بہت مشکل اور آنے والے دن اِن سے بھی زیادہ پریشان کن نظر آ رہے ہیں،جبکہ حکومت کی جانب سے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات بھی دیکھنے میں نہیں آ رہے۔ اگر حکومت غریبوں کا تھوڑا سا بھی احساس رکھتی ہے تو اسے فقط تقریروں،اپوزیشن پر الزامات کے بجائے کچھ ”آؤٹ آف دی بکس“ اقدامات کرنے ہوں گے ورنہ غریب آدمی کے پاس مہنگائی کے سامنے بے بسی سے مرنے کے علاوہ کوئی رستہ نہیں رہے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -