شہر یار آفریدی امریکہ کے بعد فرانس میں بھی رسوا، پاکستانیوں کو غصہ آگیا

شہر یار آفریدی امریکہ کے بعد فرانس میں بھی رسوا، پاکستانیوں کو غصہ آگیا
شہر یار آفریدی امریکہ کے بعد فرانس میں بھی رسوا، پاکستانیوں کو غصہ آگیا

  

پیرس (ڈیلی پاکستان آن لائن) پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے چیئرمین شہریار  آفریدی  کو   پیرس  ایک تقریب کے دوران عوام  کے  سخت سوال کا سامنا کرنا پڑ گیا، اس سے قبل انہیں امریکہ میں بھی روکا گیا تھا اور ان کا دعویٰ تھا کہ جب میں نے بتایا کہ وفاقی وزیر ہوں تو معافی بھی مانگی گئی ، آخری اطلاعات کے مطابق وہ امریکہ سےفرانس پہنچ چکے ہیں۔ 

سینئر صحافی منصور علی خان نے بتایاکہ   مسئلہ کشمیر سے متعلق تقریب کے دوران پاکستانی کمیونٹی سے خطاب اور پھر سوالات کے دوران ایک صحافی نے سوال کیا تھا کہ آپ فرانس  آئے ہوئے ہیں،آپ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ہیں اور آپ کا کام ہے کہ بیرون دنیا کو حقائق سے آگاہ کریں، آپ کا کام ہے کہ آواز دنیا تک پہنچائیں، تھنک ٹینکس، حکومتی کمیٹیوں  اور سرکاری تنظیموں سے کیوں نہیں ملتے ، مسئلہ ان کے ساتھ زیر بحث کیوں نہیں لاتے؟ 

اس سوال کے جواب میں شہر یار آفریدی کا کہناتھاکہ یونس بھائی، میں اتفاق کرتا ہوں، میں علاج کرانے کے لیے آیا ہوں، مجھے مائیگرین ہے، اپنی ٹیم کو بھی کہا ہے کہ ٹائم دے دیں، یہاں پر ایک ماہ پہلے آپ کو پارلیمانی رہنمائوں سے وقت لینا ہوتا ہے، یہاں کا ماحول مختلف ہے۔ 

منصور علی خان کاکہناتھاکہ یہ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں، ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ یورپ اور امریکہ میں ایک نظام سے چلنا پڑتاہے، اسی طرح ہی ہوتا ہے، آپ پاکستان کے اندر وزیر ہوں گے ، یہ خود وزیرمملکت برائے داخلہ تھے تو کسی بھی تھانے اور جیل میں گھس جاتے تھے اور ساتھ ساتھ فیس بک کیلئے ویڈیوز بنائی جارہی ہوتی تھیں، کچھ ایسے وزیر ہیں جنہیں میڈیا پر آنا پسند نہیں لیکن ان کو شوق ہے، میگرین ہونا کی بات ہے تو ٹھیک ہے کہ آرام کے لیے وقت چاہیے لیکن وقت لینا ، کوئی لاجک نہیں، آپ بطور وزیر وہاں جارہے ہیں اور آپ کو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ وقت لینا ہے ۔ آپ اصل میں تحریک انصاف کی تنظیم سازی کےلیے گئے تھے ، ووٹ بینک تیار کرنے گئے تھے ،مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ان لوگوں سے ملنا ضروری ہے جو آواز بن سکتے ہیں، وہاں کی انتظامیہ کو پہلے ہی بتا دیں تاکہ آپ کو وہاں روکا بھی نہ جائے اور وقت ملنے کی وجہ سے شاید کوئی اچھی خوشخبری بھی مل جائے ۔ 

مزید :

بین الاقوامی -