اور سمری بھاگ گئی۔۔۔۔ !!

اور سمری بھاگ گئی۔۔۔۔ !!
اور سمری بھاگ گئی۔۔۔۔ !!

  

سمری آرہی ہے ،سمری جارہی ہے۔۔۔سمری اب ادھر سے ادھر ہوگئی ہے،سمری میں تبدیلی درکار ہے۔۔۔یہ جملے ہیں جو کم و بیش دو ہفتوں سے اسلام آبا د کی گلیوں ،سوشل میڈیا کی شاہراہ پر گونج رہے ہیں ،یہ سمری کس کی ہے؟ کس کے بارے میں ہے ؟ اس میں جانے کی ضرورت نہیں،اگر انکے نام آگئے توشاید تحریر ناقابل اشاعت بن جائےلیکن یہ سمری ہے بڑی چالاک ۔۔۔اس کا تعلق عوام سے ہو تو یہ بڑی تیزی سے کام کرتی ہے،بھاگ بھاگ کر وزارتوں کے چکر لگاتی ہےلیکن اس کا تعلق کسی اور سے ہو تو ڈینگی مریض کی طرح بن جاتی ہے بالکل نحیف اور لاغر ۔۔۔

 کھانے پینے کی اشیا،پٹرول ،ڈیزل کی قیمتیں بڑھانی ہوں ،عوام کو بجلی کے ’’جھٹکے‘‘لگانے ہوں ۔۔۔کسانوں پر مہنگائی کے کوڑے برسانے ہوں ،غریبوں کے دن کا چین ،رات کا سکون حرام کرنا ہوتو یہ سمری بہت تیزی سے کام کرتی ہے۔۔۔اس وقت تو یہ یوسین بولٹ بن جاتی ہے۔۔۔اب دیکھیں ایک سمری ہے جو عوام سے تعلق نہیں رکھتی ،اس کا تعلق حکمرانوں سے ہے۔۔۔یہ کہیں پہاڑوں میں گم ہے یا شمالی علاقہ جات کے جنات کلب میں؟ اس کا کوئی علم نہیں ،حالانکہ سراغ رساں کتے۔۔۔جاسوس سبھی ڈھونڈ رہے ہیں ۔۔۔دوسری طرف وہ سمریاں ہیں جو عوام پر قہر ڈھا گئی ہیں۔۔ ۔

ایک سمری وہ ہے جو بجلی مہنگا کرنے کیلئے جاری کی گئی اور وہ منظور بھی ہوگئی ۔۔۔کابینہ نے انتہائی پھرتی سے فی یونٹ بجلی کی قیمت میں ایک روپیہ 39 پیسے فی یونٹ اضافہ منظور کرلیا ہے۔۔۔ملبہ سابق حکومتوں پر ڈالتے ہوئے بجلی کی قیمت خرید اور فروخت میں 2 روپے کا فرق بھی بتا دیا ہے۔۔۔ادھر یو ٹیلٹی سٹورز پر عوام کے استعمال کی تما م اشیا مہنگی کردی گئی ہیں ۔۔۔مختلف برانڈز کا گھی 15 سے 49 روپے فی کلو مہنگا ہوگیا،کوکنگ آئل کی قیمت میں 14 سے110 روپے فی لیٹر اضافہ ہوگیا۔۔۔ کپڑے دھونےکے 2 کلو پاؤڈرکی قیمت میں بھی 10 سے 21 روپے تک کا اضافہ ہوا ہے، باڈی لوشن کی 100 گرام قیمت 20 روپےتک بڑھ گئی ہے،جوتے چمکانے والی 42 ملی گرام کریم کی قیمت میں 10 روپے ،کپڑوں کے لیے 500 ملی لیٹر لیکوئڈ بلیچ کی قیمت میں 20 روپے اور ایک لیٹر ٹائلٹ کلینرکی قیمت 41 روپے تک بڑھادی گئی ۔شیمپوز کی 180 ملی لیٹر قیمت میں 4 روپے،نہانے کے صابن کی 60 گرام قیمت میں 15 روپے ، ہینڈ واش کی 228ملی لیٹر قیمت میں 9 روپے ،شربت کی 800 ملی لیٹر  بوتل کی قیمت میں 40 روپے اضافہ ہوگیا۔اچارکی 300 گرام قیمت 20 سے 44 روپے تک بڑھا دی گئی ہے ۔

ادارہ شماریات نے رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح 12.66 فیصد پر پہنچ گئی۔عوام کے استعمال تقریباً تمام اشیا مہنگی ہوئیں ۔

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں 

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

واشنگٹن میں ہونیوالے آئی ایم ایف سے ’نئے امدادی پیکج‘کے لئے مذاکرات بھی اپنا رنگ دکھائیں گے۔۔۔مہنگائی کا ایک طوفان آئے گا جو عمران خان کے فلیگ شپ منصوبوں،خوابوں کو بہا لے جائے گا ۔۔۔یہ حقیقت ہے کہ عمران خان کا یہ خواب تھا ،وہ چاہتے ہر پاکستانی کو گھر ملے ،وہ چاہتے تھے کہ ملک سے کچی آبادیاں ختم ہوجائیں ،سب چیزیں چلتی رہیں لیکن جب میٹریل کاسٹ آئی تو یہ بڑھ گئی۔۔چیزیں کنٹرول نہیں ہوئیں ۔وزیر اعظم کا یہ پراجیکٹ اب خواب نظر آتا ہے۔۔۔وزیر اعظم کا ایک اور منصوبے’کامیاب پاکستان پروگرام‘ تھا ۔۔۔اس کی بنیاد پر عمران خان نے اگلا الیکشن لڑنا تھا ۔یہ شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوتا نظر آتا ہے۔۔۔آئی ایم ایف اتنا بڑا پروگرام کرنے سے منع کررہا ہے بلکہ کورا جواب دے دیا ہے۔۔۔

جی ڈی پی میں ہمارا بینکنگ سیکٹر بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں پیچھے ہے،کرنٹ اکاؤنٹ اور سیونگ میں بھی بہت بڑی اماؤنٹ ہونی چاہئے، سٹاک مارکیٹ کا جی ڈی پی کا 18 فیصد ہے،اس کو زیادہ ہونا چاہئے،بھارت کا 180 فیصد ہے،امریکا کا اس سے بھی زیادہ حصہ ہے۔جی ڈی پی کی گروتھ کا رونا اپنی جگہ ۔۔۔نوکریاں دینے کے وعدے پر وزرا کہتے ہیں کہ بات ایک کروڑ سے آگے نکل چکی ہے حالانکہ زمینی حقائق یہ ہیں 20 لاکھ مزید بیروزگار ہوچکے ہیں ۔

حکومت نے معیشت بچانے کیلئے شرح سود میں اضافہ کیا ہے ، روپے کی قدر میں کمی آئی لیکن آئی ایم ایف اس سے قبل ٹیکس کلیکشن کی وجہ سے مطمئن نہیں تھا ۔۔۔حکومت گروتھ ریٹ کو سلو کرنے جارہی ہے کیونکہ کرنٹ اکائونٹ خسارہ بڑھ رہا ہے۔۔۔اس ساری صورتحال کو آئی ایم ایف بھی دیکھ رہا ہے۔آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ پاکستان منی بجٹ لے آئے۔۔۔منی بجٹ سے انکم ٹیکس کی چھوٹ واپس لی جائے گی ،تنخواہ دار طبقہ اس سے متاثر ہوگا ۔۔۔حکومت اس پر آمادہ ہوجائے گی ،اس سے مہنگائی بڑھے گی ۔۔۔پاکستان کیلئے مزید مشکلات آسکتی ہیں۔۔۔پاکستان اور امریکا کے تعلقات اتنے شاندار نہیں ہیں ۔۔۔پہلے ہم جب پھنس جاتے تھے تو امریکا کی آئی ایم ایف سے پروگرام لینے میں مدد حاصل ہو جاتی تھی ۔۔۔

خیر ذکر سمری کا آیا تو مجھے ایک گاؤ ں کی سمری یا د آگئی ۔۔۔وہ ایک خوبصورت لڑکی تھی ۔۔۔ایسی خوبصورت کہ آج کی ماڈلز اور اداکارائیں بھی اسکی خوبصورتی کے آگے مات کھا جائیں ۔۔۔ایک رات ایسا ہوا کے سمری کے گھر والے،خاندان والے منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔۔۔رات کو خوشی خوشی سونے والے خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔۔۔ہوا یہ کہ سمری غائب تھی ،گھروالوں نے ادھر ،ادھر ،کھیتوں میں ،ہمسائیوں میں بڑا تلاش کیا لیکن سمری نہیں ملی ۔۔۔کچھ دنوں بعد علم ہوا کہ سمری ایک ادھیڑ عمر شخص کے ساتھ بھاگ چکی ہے ۔۔۔اس ادھیڑ عمر شخص نے ظلم یہ کیا کہ اس کو آگے فروخت کردیا ۔۔۔اس نے بھی ظلم یہ کیا کہ تین بیٹیاں پیدا کرکے چھوڑدیا ۔۔۔اب غربت ہے۔۔۔بیٹیاں ہیں اور سمری کے سرمیں خاک ۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -