پیاف فاﺅنڈرزالائنس

پیاف فاﺅنڈرزالائنس
 پیاف فاﺅنڈرزالائنس

  


اِس سال اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے پیاف فاﺅنڈرز الائنس کو معرض وجود میں آئے دس سال ہوگئے ہیں۔ ایک دہائی کا طویل عرصہ گزرجانے کے باوجود جوں جوں وقت گزرتا جارہا ہے، اِس پیاف فاﺅنڈرز الائنس کی قوت کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی جارہی ہے، جس کی بنیادی وجہ فاﺅنڈرز گروپ اور پیاف کے رہنماﺅں کی فہم و فراست ہے۔یہ الائنس 2002ءمیں بنا تھا۔ پیاف کے رہنماﺅں میاں انجم نثار، میاں شفقت علی ، شیخ محمد ارشد، محمد علی میاں، میاں ابوذر شاد اور اُن کے دیگر ساتھیوں نے ہاتھ آگے بڑھایا اور فاﺅنڈرز گروپ کی قیادت بشمول راقم الحروف، میاں محمد اشرف، بشیر اے بخش، سید محسن رضا بخاری، میاں تجمل حسین، میاں مصباح الرحمن ، شیخ محمد آصف اور دیگر نے باہمی مشاورت کے بعد پیاف قیادت کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا، پھر اِس الائنس نے دنیا کو دکھایا کہ اتحاد کی طاقت کا مثبت استعمال کرکے نہ صرف کاروباری طبقے، بلکہ تجارتی و معاشی حوالے سے ملک کی خدمت کس طرح کی جاسکتی ہے۔

دونوں گروپ اس حقیقت سے اچھی طرح آشنا ہیں کہ اتحاد میں طاقت ہے ۔ اللہ کرے کہ ہمارے سیاستدان بھائیوں کو بھی اس امر کا ادراک ہوجائے اور وہ مل جل کر پاکستان کی ترقی و استحکام کے لئے سرگرمِ عمل ہوجائیں۔ پیاف فاﺅنڈرز الائنس پر صنعتکار و تاجر برادری کے اعتماد کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ کئی سال سے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے کارپوریٹ انتخابات میں پیاف فاﺅنڈرز الائنس کے امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوتے آرہے ہیں کیونکہ مقابلے میںکوئی بھی کاغذات ہی جمع نہیں کرواتا، جبکہ ایسوسی ایٹ کلاس میں برائے نام سا مقابلہ ہوتا ہے، کیونکہ چند ایک لوگ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری جیسے عظیم الشان ادارے کے وسائل پر قابض ہونے اور انہیں اپنے ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا خواب دیکھتے ہوئے کاغذات جمع کروادیتے ہیں اور ایسوسی ایٹ کلاس کے انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوتے ہی راہِ فرار اختیار کر لیتے ہیں۔ اگرچہ اس سال آزاد گروپ اور پروگریسو گروپ نے کسی نہ کسی طرح کارپوریٹ کلاس کے لئے بھی امیدوار کھڑے کردئیے ہیں، لیکن انشاءاللہ نتیجہ حسبِ سابق ہی برآمد ہوگا، کیونکہ ہماری نیت صاف ہے اور تاجر برادری کی بھرپور حمایت ہمیں حاصل ہے۔ اس سال لاہور چیمبر کے کارپوریٹ اور ایسوسی ایٹ کلاس کے انتخابات بالترتیب 19اور 20ستمبر کو منعقد ہورہے ہیں، جن کے لئے پیاف فاﺅنڈرز الائنس نے اپنے امیدواروں کا اعلان کردیا ہے۔ کارپوریٹ کلاس کے لئے فاروق افتخار ، ابرار احمد،میاں طارق رحمن، چودھری افتخار بشیر، ممشاد علی، تشرف جاوید، تنویر احمد صوفی، جبکہ ایسوسی ایٹ کلاس کے لئے عرفان اقبال شیخ، کاشف انور، ایس ایم طارق، حسن امجد، محمد ناصر حمید خان،میاں زاہد جاوید، مدثر مسعود اور محمد اکرم ملک پیاف فاﺅنڈرز الائنس کے امیدوار ہیں۔

 مندرجہ بالا یہ تمام لوگ بہت سلجھے ہوئے اور بہترین صلاحیتوں سے مالا مال ہیں ۔ صنعت و تجارت کے مسائل کو بخوبی سمجھتے اور انہیں حل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں لہٰذا یہ لوگ منتخب ہونے کے بعد انشاءاللہ لاہور چیمبر کو مزید مستحکم اور پیاف فاﺅنڈرز الائنس کا نام مزید روشن کریں گے۔ تاجر برادری کا پیاف فاﺅنڈرز الائنس پر بھرپور اعتماد ہمارے لئے صرف فخر کا باعث ہی نہیں، بلکہ ایک بھاری ذمہ داری کا باعث بھی ہے، کیونکہ ظاہر ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تاجر برادری کی توقعات میں اضافہ ہوتا رہے گا، جن میں آج تک تو ہم سب دوستوں کی دعاﺅں اور اللہ تعالیٰ کے کرم سے پورا اترتے آئے ہیں اور انشاءاللہ تعالیٰ آئندہ بھی توقعات پر پورا اُترنے کے لئے بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے۔ پاکستان کا حقیقی کاروباری طبقہ حبّ الوطنی کے جذبے سے سرشار ہے اور اس کے دل میں ہمیشہ ملک کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دینے کا جذبہ جاگزیں رہا ہے اور یہ جذبہ اس قدر پاک صاف اور شفاف ہے کہ ذاتی فوائد کا حصول کبھی بھی اس جذبے پر غالب نہیں آیا۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ایک ایسا ادارہ بن چکا ہے، جہاں سے اٹھنے والی آواز کی بازگشت اعلیٰ حکومتی ایوانوں میں سنی جاتی اور اس کی تجاویز پر عمل بھی کیا جاتا ہے۔

اِسی ادارے کی سربراہی کرنے والے بہت سے صنعتکار آگے جاکر وفاقی و صوبائی وزراءاور سرکاری اداروں کے سربراہان کی حیثیت سے سرکاری مشینری کا حصّہ بنے۔ موجودہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف بھی لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر رہ چکے ہیں۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تجارتی وفود دنیا بھر کے دورے کرتے ہیں، جن کا مقصد صرف پاکستان کی بیرون ملک تجارت بڑھانا ہی نہیں، بلکہ ملک کی ساکھ کو بھی بہتر کرنا ہے۔ آزاد گروپ کے لوگ، جنہیں تجارتی و معاشی امور کا کوئی ادراک نہیں، وہ لاہور چیمبر کے تجارتی وفود پر انگلیاں اٹھاتے اور کیچڑ اچھالتے رہتے ہیں، لیکن انہیں یہ پتہ ہی نہیں کہ لاہور چیمبر کے تجارتی وفود میں شامل تمام افراد اپنے اخراجات خود کرتے ہیں اور لاہور چیمبر کے وسائل سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا جاتا۔

 لاہور چیمبر ہر سال پاکستان میں دیگر ممالک کے سفیروں کو عشائیہ ضرور دیتا ہے، لیکن اس کا مقصد پاکستان اور دیگر ممالک کے ڈپلومیٹس کے ساتھ تعلقات مستحکم کرنا ہے تاکہ تاجر برادری کاروباری سلسلے میں دیگر ممالک کا دورہ کرنا چاہے تو اسے کوئی مشکل پیش نہ آئے، لیکن یہ بات بھی ان نام نہاد تاجر رہنماﺅں کو راس نہیں اور وہ تاجر برادری کے ڈپلومیٹس کے ساتھ تعلقات بگاڑنے کے لئے شوروغل مچا رہے ہیں،لیکن اس سے کچھ نہیں ہونے والا۔ پیاف فاﺅنڈرز الائنس نے اتحاد کی مثبت قوت کا بہترین استعمال کرکے ایک ایسی مثال قائم کی ہے جس کی سب کوخاص کر سیاسی حلقوں کو تقلید کرنی چاہیے۔ ہمارا ملک بے شمار سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ملکی معیشت، صنعت و تجارت، ملکی سلامتی اور قومی وقار ، ہر جگہ خطرات منہ پھاڑے کھڑے ہوئے ہیں ۔ ان خطرات کو مکمل طور پر ختم کرکے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا بہترین حل یہی ہے کہ سب اپنے ذاتی و سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایک سیسہ پلائی دیوار بن جائیں تاکہ ہمارا پیارا وطن قائداعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے خوابوں کی عملی تعبیر بن سکے۔   ٭

مزید : کالم


loading...