ریونیو بورڈ کے بابو اور غریب کسان!

ریونیو بورڈ کے بابو اور غریب کسان!
ریونیو بورڈ کے بابو اور غریب کسان!

  

وطن عزیز میں جس طرح ہر سرکاری ادارے میں ہڑ بونگ مچی ہوئی ہے۔ ہر آنے والا دن سابقہ دن سے بدتر اور تکلیف دہ ثابت ہو رہا ہے، کیونکہ ہمارے ملک میں تاحال سارا نظام وہی انگریز بہادر والا چل رہا ہے۔ انگریز بہادر تو ایک فاتح تھا اور ایک محکوم ملک اور قوم پر حکومت کر رہا تھا۔ اُس نے اپنی بقاءاور حکومتی رٹ قائم کرنے کے لئے ایسے قانون بنائے، جن سے اُس کی حکمرانی کو طوالت ملتی رہے، چاہے اُن قوانین سے مقامی لوگوں کا جتنا بھی استحصال ہو، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انگریز بہادر نے اپنی حکمرانی کے لئے اس وقت کے متحدہ ہندوستان میں نوکر شاہی کا ایک ایسا مضبوط ادارہ بنایا، جس کے ذریعے اپنا حکومتی بندوبست چلایا۔ 1947ءسے قبل انگریز افسر شاہی نے اپنے تحفظ اور آسائش کے لئے قانون وضع کئے، ایکڑوں پر پھیلی ہوئی رہائش گاہیں ریسٹ ہاو¿سز، نوکر چاکر، گاڑیاں، مراعات اور لامحدود اختیارات، انگریز بہادر کے جانے کے بعد اور پاکستان بننے کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا، انگریز دور کی نوکر شاہی بدل دی جاتی اور مقامی لوگوں کی بہتری کے لئے قانون بنتے۔ نوکر شاہی کے انداز بھی بدل دئیے جاتے، لیکن جب کالے صاحبوں نے گورا نوکر شاہی کی جگہ لی تو یہ ان سے زیادہ ظالم ثابت ہوئے، کیونکہ ملک عزیز میں جتنی بھی حکومتیں آئیں وہ چاہے سویلین تھیں یا ملٹری حکومتیں تھیں۔ اُنہوں نے عام آدمی کی بہتری پر کوئی توجہ نہ دی۔ ان حکومتوں نے سابقہ 65 سالوں میں نوکر شاہی کو انگریز دور سے بھی زیادہ اختیار دے دئیے۔ ایسی سفاک، بے رحم افسر شاہی کا ایک ادارہ بورڈ آف ریونیو (BOR) ہے، جسے سول افسر شاہی کے سینئر ترین بابو چلاتے ہیں اور عوام غریب کسان کو ذلیل و خوار کرنا اپنا فرضِ منصبی سمجھتے ہیں، وہ کیسے؟ بورڈ آف ریونیو کا صدر دفتر ہر صوبے کے دارالحکومت میں ہے، جیسے پنجاب کا لاہور میں ہے۔ بورڈ آف ریونیو میں 15/16 ممبر ہیں۔

ریونیو بورڈ تمام صوبے کی سرکاری و غیر سرکاری زمینوں کا حساب کتاب رکھتا ہے۔ ریونیو اکٹھا کرتا ہے۔ ممبر ریونیو بورڈ کی طاقت اور اختیار کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ وہ سال ہا سال سے سپریم کورٹ کی ڈائریکشن پر بھی عمل نہیں کرتے۔ اس طرح کے ہزاروں کیس عمل درآمد کے مرحلے میں بورڈ کے دفتر میں انتظار میں پڑے ہیں۔ اس طرح کے کیس اہلکار ملک مکاو¿ کر کے نبھاتے ہیں۔

ممبر بورڈ آف ریونیو صوبے کے سینئر ترین بیورو کریٹ ہوتے ہیں جو اپنی ملازمت کا آغاز اے سی ڈی سی سے کرتے ہیں اور ممبر ریونیو بورڈ اور سیکرٹری تک پہنچ کر ریٹائر ہوتے ہیں۔ ریونیو بورڈ کے اختیارات اور فرائض ریونیو ایکٹ ویسٹ پاکستان مجریہ 1967ءمیں درج ہیں۔ اس ایکٹ کے مطابق ان افسران کو ایگزیکٹو اور جوڈیشل اختیارات حاصل ہیں، جس سے وہ ہر سیاہ و سفید کے مالک بن گئے ہیں۔

اصولی طور پر پنجاب میں ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں ریونیو بورڈ کا دفتر ہے اور ممبر ریونیو کو ہر ڈویژن کے فیصلے متعلقہ علاقے میں سننے چاہئیں، تاکہ کسان دور دراز سے لاہور آکر خوار نہ ہوں، لیکن عملاً ایسا نہیں ہوتا۔ ہر ممبر ریونیو مہینے میں ایک بار ڈویژن کا دورہ کرتا ہے، لیکن یہ دورہ سیر سپاٹے تک محدود رہتا ہے۔ پنجاب کی حد تک اب جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبہ کی ڈیمانڈ ہو رہی ہے، کیونکہ صوبہ کا رقبہ اور فاصلہ بہت زیادہ ہے۔ ایک کسان کا زمین کا کیس ہے اور وہ کسان صادق آباد، بہاولنگر یا راجن پور کا رہائشی ہے۔ اُسے اپنے زمین کے کیس کی فائنل ایپل ریونیو بورڈ میں کرنی ہوتی ہے۔ ریونیو بورڈ لاہور والے ان کسانوں کی جو حالت کرتے ہیں وہ بورڈ کا چکر لگانے سے واضح ہو جاتا ہے۔ ریونیو بورڈ کے کیسوں میں چونکہ بہت بڑی بڑی زمینوں کے کیس ہوتے پیسوں کا لین دین کھلے عام ہوتا ہے۔ کیسوں کے فیصلے دہائیوں تک چلے جاتے ہیں۔ دادا کا کیا ہوا کیس بعض اوقات پوتوں کی زندگی میں بھی فائنل نہیں ہوتا۔ اسی انصاف کی تاخیر میں جو کہ مک مکاو¿ کی بھینٹ چڑھا ہوا انصاف ہے بے شمار لڑائیاں، خاندانی دشمنیاں جنم لیتی ہیں اور بہت سے قتل اسی بناءپر ہوتے ہیں۔ اگر یہی فیصلے ہر ڈویژن میں کل وقتی بنیادوں پر بروقت ہوں تو ایک عام کسان ذلالت سے بچ جائے اور لاہور کا رش بھی کم ہو جائے۔

 لاہور کا رش سڑکوں کے اوپر نیچے پل بنانے اور ریپڈ ٹرانسپورٹ بسیں چلانے سےکم نہیں ہوگا ، بلکہ صوبہ کو ڈی سنٹرلائز یعنی اختیارات گراو¿نڈ لیول، تحصیل ،ضلع لیول پر منتقل کرنے سے ہوگا۔ اقتدار نچلی سطح پر منتقل کیوں نہیں کیا جاتا۔ اس لئے کہ سرمایہ دار، جاگیردار حکومتیں ،انگریز بہادر کی تربیت یافتہ افسر شاہی کسی اور کلاس اور طبقہ کی نمائندہ اور محافظ ہے۔ عوام اور کسان صرف نعرے لگانے اور ووٹ دینے والے ہیں۔ حکومت جس کی بھی ہو اقتدار، اختیار اور کرپشن چاہتا ہے۔ اقتدار، اختیار اور کرپشن کے لئے حکومت کو مضبوط اور سفاک افسر شاہی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ سبق ہمارے حکرانوں نے انگریز بہادر سے سیکھا کہ مضبوط افسر شاہی ہی عوام کو مسائل میں الجھا کر رکھ سکتی ہے تاکہ عوام کو اصل حقائق جاننے کی کوشش ہی نہ آئے۔ اس لئے افسر شاہی ہر حکومت کے ساتھ، حکومت افسر شاہی کے تحفظ کے لئے کمر بستہ یعنی ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کو دھوتا ہے۔ اسی لئے اقتدار، اختیار، کرپشن کا گھناو¿نا سرکل، کھیل تماشہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔ دیہاتی جھگڑوں، قتل وغارت اورگھمبیر مسائل میں ریونیو بورڈ کا بہت بڑا حصہ ہے۔ جو کہ شاید کبھی ٹھیک نہ ہو سکے، کیوکہ ابھی تک اس کے لئے کوئی کوشش نہیں ہو رہی اور ریونیو بورڈ کے بابو کسانوں اور غریب عوام کی لاشوں پر سکھ کی نیند سو رہے ہیں۔  ٭

مزید :

کالم -