چاند، عید اور رویت ہلال کمیٹی (3)

چاند، عید اور رویت ہلال کمیٹی (3)
چاند، عید اور رویت ہلال کمیٹی (3)

  


سائنسی اکتشافات سے فائدہ اٹھانا شریعت و عقل کا تقاضا ہے۔ سائنسی علوم سے پہلو تہی کرنا یا اُن کو خلاف شریعت سمجھنا کسی کے ہاں بھی مستحسن نہیں۔ قرآن مجید میں بیشتر مقامات ایسے ہیں، جن کی تفہیم سائنسی علوم کے اقتضاءکو جانے بغیر ممکن ہی نہیں۔ قرآن کے بیانات کو بغیر مشاہدے و تجربے کے تسلیم کرنا ماننا عین تقاضائے ایمان ہے، لیکن ان مشاہد کی رو سے ان کی تصدیق سائنسی اکتشافات کی رہین منت ہے۔ یہاں ہم صرف ایک مثال سے اس کو واضح کریں گے، مثلاً قرآن مجید میں اللہ کا فرمان ہے:....ما یلفظ من قولِ الا لدیہ رقیب عتید(سورہ ¿ق)....کوئی شخص دُنیا میں ایسا نہیں کہ جب وہ کوئی لفظ اپنے منہ سے نکالتا ہے تو اس کو محفوظ کرنے والے ریکارڈ کرنے والے موجود ہوتے ہیں۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس بات کو ماننا، یقین کرنا، ایمان کا تقاضا تھا۔ تمام صحابہ اور سب اہل ایمان اس پر پورے اترے اور وہ دل کی گہرائیوں سے اس پر پورے اترے اور کہا کہ ہاں ایسا ہی ہے۔ اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ یہ ایمان کا تقاضا تھا جو پورا ہوا، لیکن اس وقت نہ تو اس کی عقلی توجیہہ ممکن تھی نہ مشاہدہ و تجربہ اس کی تائید کر سکتا تھا، لیکن جب صدیوں بعد سائنسی اکتشافات کے ذریعے ریڈیو اور ٹیلی ویژن ایجاد ہوئے، مووی کیمرے وجود میں آئے تو تجربے اور مشاہدے نے بھی اس کی تائید کی اور اسلام کی حقانیت، جو ابھی تک صرف ایمان کی حد تک تھی، اب تجربے اور مشاہدے کی گرفت میں بھی آ گئی اور اسلام کی حقانیت کو سائنس نے بھی تسلیم کیا اور عقل خود سر کو سمجھانا بھی آسان ہو گیا، کیونکہ اب عقل کے پاس کیوں اور کیسے کی گنجائش ہی باقی نہ رہی۔

جانے یہ خیال کیوں ذہن میں جڑ پکڑ گیا کہ پورے پاکستان میں ایک ہی روز عید کا منانا اتحاد کی علامت ہے۔ ایک ہی روز عید کا منایا جانا اسلامی یکجہتی کی علامت نہیں، بلکہ وہ علامات یکجہتی کا باعث ہیں، جن کے تحت عید یا روزوں کا تعین کرنا ضروری ہے۔ یہ اصول و ضوابط شریعت مطہرہ نے مقررہ کر دیئے ہیں۔ فرض کیجئے مملکت خدادا پاکستان کی سرحدوں کو کسی زمانے میںاللہ وسیع کر دے۔ اہل پاکستان کو غلبہ ملے اور پاکستان کی سرحدیں دُور داز کے علاقوں تک وسیع ہو جائیں اور علاقوں کے مابین دن اور رات کا فرق بارہ گھنٹے یا اس سے بھی بڑھ جائے تو کیا اس وقت بھی ہم بضد ہوں گے کہ پوری پاکستانی قلمرو اور سارے علاقوں میں ایک ہی روز عید کا دن مقرر ہو۔ ظاہر ہے کہ یہ بات مناسب نہیں ہو گی، بلکہ شرعی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اور ہر علاقے کے مطلع کے مطابق روزے اور عید کا تعین کیا جائے گا۔

پورے ملک میں عید کو ایک ہی روز منانے کی خواہش اس معصوم بچے جیسی ہے، جس نے باپ سے لوٹا خریدنے کی فرمائش کی۔ باپ نے لوٹا خرید دیا۔ پھر بچے نے ہاتھی خریدنے کی فرمائش کی، باپ متمول تھا، اُس نے ہاتھی خرید دیا۔ اب بچہ کہنے لگا کہ اس ہاتھی کو لوٹے میںڈالو۔ بھلا یہ خواہش کیسے پوری کی جا سکتی ہے؟ پورے ملک میں ایک ہی روز عید منانے کی ضد بھی قریب قریب ایسی ہی ہے۔ اس لئے ہر علاقے کے مطلع کا لحاظ رکھ کر اس کا تعین ضروری ہے۔ یہی مطلب اس حدیث کا ہے، جس میں فرمایا گیا کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو، یعنی چاند کے طلوع و غروب کا لحاظ اصل الاصول ہے۔ اب چاند کا تعین سائنسی اصولوں کے مطابق تقویم تیار کر کے بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس تقویم کے مطابق چاند کی رویت ، یعنی چاند کو تلاش کرنے میں سہولت مل سکتی ہے۔ بعض حضرات کا یہ کہنا ہے کہ خلافت عثمانیہ اور خلافت ترکیہ میں پورے عالم اسلام میں ایک ہی روز عید منائی جاتی تھی۔ یہ بات روایتاً اور درایثاً درست نہیں۔ اگر بغداد میں نوبت بجائی جاتی تھی، تو وہ بغداد اور مضافات کے لئے ہوتی تھی، پورے عالم اسلام کے لئے بغداد میں بجی نوبت نہ تو پہنچ سکتی تھی اور نہ ہی اس سے پورے عالم اسلام میں ایک ہی روز عید کا منایاجانا ثابت کیا جا سکتا ہے۔ یہ دلیل عدم واقفیت کی علامت ہے۔

چاند اور عید کے مسئلے کا بہترین اور قابل عمل حل صرف یہ ہے کہ سیاسی وابستگیوں سے بالا رہتے ہوئے مستند علماءاور ماہرین علوم فلکیات کا بورڈ قائم کیا جائے، جو ملک کے مختلف مطالع کا سائنسی بنیادی حقائق کے مطابق تعین کرے اور اس تعین کے مطابق چاند کے حوالے سے مستقل تقویم تیار کرے۔ اس تقویم کے مطابق عمل کرنے سے قبل رویت چاند کو بھی یقینی بنائیں۔ اس صورت میں تاریخ کا تعین تو سائنسی بنیادوں پر حتمی ہو گا، تاہم شرعی تقاضا پورا کرنے کے لئے چاند کی تلاش کا کام باقی رہ جائے گا اور وہ یقینا کہیںنہ کہیں ضرور مل جائے گا۔ چاند کو بچشم سر دیکھنے کی شرط بھی پوری ہو جائے گی اور ساتھ ہی رویت ہلال کی سنت پر عمل بھی ہو گا۔ یہ ایسا ہی ہے، جیسا کہ آج کل ہر مسجد میں نمازوں کے اوقات کے لئے مطبوعہ تقاویم موجود ہیں اور انہی تقاویم کے مطابق نمازوں کے اوقات متعین کئے جاتے ہیں۔ یہ اوقات بھی سائنسی بنیادوں پر سورج کے سفر اور طلوع و غروب کے اوقات کو مدنظر رکھ کر طے کئے گئے ہیں۔

اگر علمائے کرام اور سائنسی علوم خاص کر علم ہیئت کے ماہرین کا مشترکہ بورڈ بنا دیا جائے اور وہ مل کر چاند کی تقویم تیار کر لیں، تو یہ مسئلہ آسانی سے حل کیا جا سکتا ہے۔ ہمارا مطلب یہ نہیں کہ اس تقویم کے مطابق ہی عمل کیا جائے اور رویت ہلال کو بالکل ترک کر دیا جائے۔ ایسا ہر گز نہیں، بلکہ اس تقویم کی روشنی میں چاند کو تلاش کیا جائے تاکہ مذکورہ حدیث پر عمل آسان ہو سکے۔ اس طرح چاند کا تعین بھی ہو گا، رویت ہلال پر عمل بھی ہو جائے گا اور اس پریشانی سے بچنے میں بھی مدد ملے گی، جو ہر سال اس موقع پر پیش آ جاتی ہے۔(ختم شد)     ٭

مزید : کالم


loading...