اداروں کی بربادی اور اس کا نتیجہ

اداروں کی بربادی اور اس کا نتیجہ
 اداروں کی بربادی اور اس کا نتیجہ

  

جنگ پلاسی میں فتح یاب ہونے کے بعد برطانیہ کی حکومت کو اپنی ذیلی تنظیم ایسٹ انڈیا کمپنی کی اٹھان سے اندازہ ہو گیا تھا کہ جلد ہی پورا ہندوستان ان کے قبضے میں ہو گا، اسی لئے انگریز حکمرانوں نے اس وسیع و عریض ملک کے اقتدار پر مکمل قبضہ ہونے سے قبل ہی اداروں کی تشکیل کا آغاز کر دیا تھا اوراس حوالے سے پہلی ترجیح تعلیمی نظام کو دی گئی تھی۔ فورٹ ولیم کالج سے آغاز ہونے والے اس سفر میں تعلیم کے حوالے سے ہر شعبے پر توجہ دی گئی۔ ابتدائی تعلیم، ثانوی تعلیم، فنی تعلیم ، انجینئرنگ اور طب ،غرض ہر میدان میں تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا اور نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ 1857ءمیں جب انگریز بلا شرکت غیرے پورے ہندوستان کے مکمل حکمران بنے تو ان تعلیمی اداروں کی بدولت ان کے پاس مقامی افراد پر مشتمل وفا دار اور باصلاحیت گروہ موجود تھا، آگے چل کر انگریز حکمرانوں نے ہندوستان میں حکمرانی کے ساتھ ہر شعبہ زندگی میں بہترین ادارے قائم کئے اور آج تک برصغیر میں نئے آزاد ہونے والے ممالک ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں بدترین حکمرانی کے باوجود یہ مثالی ادارے کسی نہ کسی صورت میں قائم رہے۔

14 اگست 1947ءمیں جب پاکستان کے نام سے مسلمانوں کی سب سے بڑی مملکت کا قیام عمل میں آیا تو قائداعظمؒ نے جہاں پہلے سے موجود اداروں کو بہتر اور مضبوط بنیادوں پر کام کرنے پر زور دیا، وہیں ایک آزاد مملکت کے خودمختار ملک کی حیثیت سے عالمی برادری میں اپنی شناخت برقرار کھنے کی خاطرنئے اداروں کے قیام پر بھی بھر پور توجہ دی۔ آزادی کے پہلے سال میں ہی سٹیٹ بنک کا قیام اسی حوالے کی ایک کڑی تھی۔

بہترین اداروں اور ایک بے مثال قیادت کی موجودگی کے باعث اپنے بدترین بدخواہوں کی خواہشات اور منصوبہ بندی کے باوجود بہت جلد پاکستان نے قوموں کی برادری میں اپنی شناخت قائم کرلی۔ عالمی اداروں میں پاکستان کے اداروں میں موجود باصلاحیت اور بہترین تربیت یافتہ افراد کو نہ صرف ہر سطح پر نمائندگی ملی ،بلکہ ان کی بہترین صلاحیتوں کو دنیا بھر میں بھر پور پذیرائی بھی حاصل ہو سکی۔ اپنے قیام سے لے کر ابتدائی دس سالوں میں پاکستان میں موجود اداروں اور اس میں موجود باصلاحیت افراد نے نہ صرف ایک طرف ملک و قوم کے وقار میں اضافہ کیا،دوسری طرف ذاتی حیثیت میں بھی عالمی اداروں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

1958ءمیں پہلے مارشل لاءکے بعد پاکستان میں فوجی حکمرانی اور سول حکمرانی کا میوزیکل چیئر کا کھیل شروع ہوا۔ پہلے مارشل لاء،پھر جمہوریت کے نام پر سول بادشاہت اور پھر مارشل لاءاور پھر جمہوریت کے نام پر بد ترین حکمرانی.... گزشتہ پچاس سال سے زائد عرصے سے پاکستان میں ایسا شرمناک عمل جاری ہے، جس نے ایک باوقار اور بہترین ملک کو عالمی برادری میں ہر حوالے سے قابل استہزاءبنا دیا ہے۔ ایک طرف پوری دنیا میں پاکستانی حکمرانوں کی بدترین حکمرانی اور بے پایاں کرپشن کے قصے گرم ہیں تو دوسری طرف لوٹ کھسوٹ اور اقربا پروری کے گھناﺅنے کھیل نے آج ملک کو اس حال میں پہنچا دیا ہے کہ بہترین اداروں کے حامل ملک میں کوئی ادارہ بھی موجود نہیں ہے۔ ہر سمت اور ہر میدان میں بربادی ۔کس شعبے کی بات کی جائے اور کس ادارے کا نوحہ تحریر کیا جائے، کچھ بھی تو نہیں بچا اور کچھ بھی موجود نہیں۔ بہترین آبپاشی کا نظام، وسیع ریلوے کا نظام، بہترین تعلیمی ادارے،تربیت یافتہ افسر شاہی اور ملک و قوم کا درد رکھنے والے سیاستدان ....سب کو لالچ ہوس اور اقرباءپروری نے نگل لیا، لیکن کیایہ سب کچھ ایک دم ہو گیا۔ یقینا ایسا نہیں ہوا، تو پھر اس کا ذمہ دار کون ہے، کیا صرف سیاستدان؟ کیا صرف افسر شاہی؟ اور کیا صرف جرنیل؟ طعن و تشنیع اور الزامات کے کھیل نے آج تباہی اور بربادی کے اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ جہاں احساس زیاں باقی ہی نہیں رہا۔ برباد کرنے والے اور برباد ہونے والے سب کے سب مبرا اور پاک صاف ، تو پھر تباہی و بربادی پوری قوم کا مقدر کیوں نہ ٹھہرے۔ جھوٹ ، فریب اور اللہ کی حاکمیت کے بجائے شیطان نما انسانوں کے سامنے سجدہ ریز تو پھر آسمان سے پانی کا عذاب کیوں نہ برسے، زمین پر آگ و خون کا طوفان کیوں نہ بلند ہو؟

دور غلامی میں قائم ہونے والے بہترین ادارے جمہوریت اور مارشل لاءکے میوزیکل چیئر کے کھیل کی نذر ہو گئے۔ اقرباءپروری ،کرپشن اور عصبیت کے باعث ایک کے بعد ایک ادارہ دم توڑ گیا، لیکن الزام در الزام کے علاوہ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ بے حس اور بے شرم حکمران اور دوسری طرف اٹھارہ کروڑ ذہنی غلام افراد کا ہجوم ، کون فریاد کرے اور کس سے منصفی کا طلب گار ہو۔ ایک ہی ہفتے میں پہلے بارشوں کے باعث مکمل تباہی اور پھر آگ کے باعث کراچی اور لاہور میں فیکٹریوں میں زندہ انسانوں کی چتا، لیکن نتیجہ کیا؟ایک بار پھر بے شرمی کے ساتھ گردن کی رگیں پھلا پھلا کر ایک دوسرے پر الزام۔

جنوبی پنجاب کے عوام کی محرومی کا راگ الاپنے والے اور سرائیکی صوبہ کو تمام محرومیوں کا حل بتانے والے سابق وزیر اعظم کے پاس بیان بازی کے سوا جنوبی پنجاب کے مجبور و بے بس عوام کو دینے کے لئے کچھ نہیں۔ موصوف ایوانِ صدر سے نکلتے ہیں تو تفریحی دورے پر لاہور اور اسی دوران ائیر پورٹ پر اخباری بیان۔ جنوبی پنجاب کے عوام کو سیلاب بہا لے جائے یا بارش انہیںہر چیزسے محروم کر دے، لاکھوں روپے کے کپڑے اور جوتے زیب تن کرنے والے مخدوم کو خادموں کے حال سے کیا لینا دینا۔

اصل مسئلہ سیاستدانوں اور افسر شاہی کی بے حسی، ڈھٹائی اور بے شرمی نہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آج ملک میں کوئی ادارہ ہی موجود نہیں، جو اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے قابل ہو۔ محکمہ موسمیات نے ایک ہفتہ قبل بارشوں اور اس کی شدت کے بارے میںبتا دیا تھا، مگر نہ محکمہ آبپاشی اور نہ ضلعی انتظامیہ تیار تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب ڈیرہ غازی خان، راجن پور، جیکب آباد، نصیر آباد کشمور اور کندھکوٹ جیسے شہروں میںپہلے بارش اور بعد میں نہروں کا پانی داخل ہوا تو تمام ذمہ دار افراد اور ادارے ہفتہ وار چھٹی منانے میں مصروف تھے۔ صرف دو سال قبل 2010ءمیں بھی بارشوں اور سیلاب سے یہی علاقے شدید متاثر ہوئے تھے ،لیکن اس کے باوجود کسی قسم کی احتیاطی تدابیر موجود نہ تھیں، اسی طرح لاہور میں تھوڑے عرصہ قبل ہی ملتان روڈ پر غیر قانونی فیکٹری میں ہونے والے حادثے میں جانی نقصان کے بعد سخت اقدامات کی یقین دہانی، لیکن نتیجہ کیا ،ایک اور بد ترین حادثہ، کراچی میں خوفناک آتشزدگی کے ایک سال کے عرصے میں ہی متعدد واقعات سامنے آئے۔ ایمپریس مارکیٹ، بولٹن مارکیٹ اور ایم اے جناح روڈ پر گوداموں میں ہونے والی آتشزدگی کے واقعات کے بعد بھی ریسکیو کا نظام بہتر بنایا گیا اور نہ فائر بریگیڈ کے محکمہ کو جدید سہولتیں مہیا ہو سکیں۔ شہری حکومت کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کرنے والے بھی خاموش ہیں اور سندھ کارڈ کے نام پر سندھ کی خدمت کرنے والے بھی۔ بات صرف ایک ہی ہے، ادارے تباہ ہو گئے ہیں، ادارے تباہ کر دیئے گئے ہیں۔ بغیر اداروں کے نہ ملک چلتے ہیں اور نہ نظام چلتا ہے ،چاہے جمہوریت ہو یا مارشل لاء....کیا اٹھارہ کروڑ عوام کو اس کا احساس ہے؟ کیونکہ اداروں کی تباہی سے اصل نقصان عوام کا ہے ،نہ کہ حکمرانوں کا اور نہ افسر شاہی کا۔    ٭

مزید :

کالم -