17ستمبر....عالمی تہوار

17ستمبر....عالمی تہوار
 17ستمبر....عالمی تہوار

  


متحدہ قومی مو و منٹ کے با نی و قا ئد جنا ب الطاف حسین کی انقلابی جد و جہد نیلسن منڈ یلا کی طر ح اور دکھی انسا نیت کے لئے بے لو ث خد ما ت مد ر ٹر یسا کی طر ز پر ہیں ،اس لئے محترم قا ئد الطا ف حسین کا یو م پیدا ئش 17ستمبر دنیا بھر کے تما م انقلا بیوں اور سما جی خد متگا روں کے لئے عا لمی تہوار کا درجہ رکھتا ہے اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں قا ئد تحر یک کا یو م پیدا ئش پورے جو ش و جذ بے اور انتہا ئی عقید ت و احترام سے منا یا جا رہا ہے۔ میر ی طر ف سے تما م حق پرست ما و¿ں ، بہنو ں ، بزرگو ں ، نو جوانو ں اور تما م انقلا بیوں اور سما جی خدمتگار وں کو ان کے محبوب قا ئد کی 58ویں سالگر ہ مبارک ہو۔

پا کستان میں پنجا بی ، بلو چی ، سند ھی ، پختون ، کشمیر ی ، سرائیکی سمیت مختلف نسلوں اور زبا نیں بولنے والے عوام رہتے ہیں اور 98فیصد عوام چا ہے کو ئی بھی زبا ن بو لنے والے ہوں، وہ اپنے علا قے کے جا گیر دوارں ، وڈیرو¿ں ، سرداروں کے ظلم و جبر اور فر سودہ سسٹم کا شکار ہیں ،ان محروم مظلوم لو گوں کو متحدو منظم کر نے کے لئے قا ئد تحر یک الطاف حسین نے ” متحد ہ قومی مو ومنٹ “ قا ئم کی اور ”متحد ہ قومی مو ومنٹ“ کا مطلب ہے قوم کا ایسا اتحا د جسے تحر یکی اند از میں پھیلا یا جا ئے اور ” مو ومنٹ “ کا مطلب ہے حرکت کر نا ، جد وجہد کر نا ، انقلا ب متحرک ہو نا، حرکت زند ہ قومیں کر تی ہیں ۔مر دہ کبھی حرکت نہیں کرتا ۔ہم زند ہ قوم ہونے کے نعرے لگا تے ہیں اور 2فی صد مر اعات یافتہ طبقہ 61سال سے 98فیصد عوام پر حکمرانی کر تا چلا آ یا ہے ،ذراسو چئے کہ ہم زند ہ قوم ہیں؟؟؟

قا ئد تحر یک الطاف حسین کی سا تھیو ں سے محبت اپنی مثا ل آ پ ہے کہ قا ئد تحر یک نے اقتدار کے ایوانوں میں خو د جا نے یا اپنے خاندان کے کسی فر د کو بھیجنے کی بجا ئے ہمیشہ تحر یک کے مخلص اور با صلا حیت کا رکنوں کو بھیجا۔پو سٹر ، جھنڈ ے لگا نے والے کا رکن اپنے عیش و آ رام کو قربا ن کر کے کسی صلے و ستا ئش کی تمنا کے بغیر حق پر ستی کے بیغا م کو پھیلا تے ہیں۔ قا ئد تحریک کو اپنے ساتھیوں کے خلوص ، وفاداری اور سچی لگن پر ناز ہے ۔صبح و شام جمہوریت کی تسبیح پڑھنے مسلم لیگ ( ن) کے سربراہ نواز شریف نے اپنے کسی پا رٹی کا رکن کے بجا ئے اپنے بھا ئی شہباز شریف کو وزیر اعلیٰ پنجا ب بنا یا۔ جبکہ قا ئد تحریک الطاف حسین نے ہمیشہ اپنے کار کنوں کو گور نر ، وزراء، ارکان پار لیمنٹ ، صوبا ئی اسمبلی اور بلدیاتی اداروں کے منصب پر فا ئز کروایا۔

قائد تحر یک الطا ف حسین ایک بہت رحمدل انسا ن ہیں ۔وہ تحر یکی ساتھی جو کہ قائد تحر یک کے ساتھ رہے ہیں ۔یا رہ رہے ہیں وہ بخوبی جا نتے ہیں کہ الطاف حسین کے اندر ایک بہت ہی نر م دل اورحسا س انسان چھپا ہوا ہے جو اپنے ساتھیوں اور قوم کے ہر مظلوم اور محروم انسان کو پہنچے والے دکھ اور تکلیف پر تڑپ اٹھتا ہے اور جب تک اس زیادتی کا ازالہ نہ ہو جا ئے ۔اس کو چین نہیں آتا ۔قا ئد تحر یک ایک محبت کرنے والی ما ں اور ایک شفیق با پ کی طرح اپنے سا تھیوں کا خیال رکھتے ہیں ۔وہ آدمی ہے مگر دیوتا و¿ں جیسا قسم خدا کی مر یم رواو¿ں جیسا اس کو ہم بھلا نہ سکیں گے خلوص اس کا ہے ما و¿ں جیسا ۔

حقیقت پسندی اور عملیت پسندی کا تقاضاہے کہ پاکستان کے 98فیصد غریب و متوسط طبقے کو کھا نے کے لیے آ ٹا ، دالیں ، چاول وغیرہ وافر مقدار میں اور کم قیمت میں دستیابی یقینی بنا نے کے لئے زراعت کو ترقی دی جائے اور ا س کے لیے مزاروں کا حصہ پچا س فیصد سے بڑھا کر سا ٹھ فیصد کر نا ہو گا اور ہر ضلع کی سطح پرگرامین بینک کی طرز پر چھوٹے چھو ٹے قرضے فر اہم کر نا ہو ں گے ۔کسان کو ٹر یکٹر اور دیگر چھوٹے زرعی آ لا ت امدادی قیمت پر فراہم کر نا ہوں گے اور ملک میں رائج فر سودہ جا گیر دارنہ ، وڈیرانہ ، سردارانہ نظام کا خاتمہ کر تے ہو ئے زمین کی مناسب حد ملکیت مقررکرکے مو ثر زرعی اصلا حات نا فذ کرنا ہوں گی ۔تما م صو بوں کے اتفا ق رائے سے ملک میں نئے ڈیم بنا ئے جا ئیں ۔پاکستان میں دہرے نظام تعلیم کا خاتمہ اور ہر بچے کے لئے میٹر ک تک تعلیم لازمی اور مفت کر نا ہو گی۔ معاشی ترقی ، امن و اما ن کی بحا لی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے طالبا نا ئز یشن کا خا تمہ کر نا ہو گا اور اس کیلئے تما م جما عتوں کے ارکا ن پارلیمنٹ کو عملی کوششیں کر نا ہو گی۔

صدر پاکستان آصف علی زرداری سے میر ی پر زوراپیل ہے کہ خدمت خلق کے شعبے میں جناب الطاف حسین کی سما جی خدمات کے اعتراف میں صدارتی تغمہ دینے کا اعلان کریں اور جنا ب الطاف حسین کے فلسفہ ” حقیقت پسندی اور عملیت پسندی “ پر ریسرچ ورک کے لئے پاکستان بھر کی یو نیورسٹیوں میں ” الطاف حسین ریسرچ سنٹر “ قائم کروائیں ۔پاکستان کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کر نے او ر عالمی برادری میں با وقار مقام حاصل کرنے کے لئے قوم کو حقیقت پسندی اور عملیت پسندی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا ۔

پاکستان کو خطرات سے نکا لنے کے لئے تما م سیاسی قوتوں کو محا ذ آرائی اور انتشار کے بجا ئے اتحاد کا راستہ اختیار کرنا ہوگا اور پاکستان سے طالبا نا ئز یشن کا خاتمہ کر کے ایک لبر ل اور ما ڈریٹ پاکستان بنا نا ہو گا۔ الطاف حسین کا مشن پاکستان کی بقا و سلامتی اور ترقی و خوشحالی کا مشن ہے۔ اگر پاکستانی قوم نے الطاف حسین کا ساتھ نہ دیا تویہ اس قوم کی بد قسمتی ہو گی اور سر پر کھڑی تبا ہی کو ئی نہیں روک سکے گا۔    ٭

مزید : کالم


loading...