ٹرک ڈرائیور سے ٹائم سکیل پروموشن کا مطالبہ

ٹرک ڈرائیور سے ٹائم سکیل پروموشن کا مطالبہ
ٹرک ڈرائیور سے ٹائم سکیل پروموشن کا مطالبہ

  


مَیں مریضوں کے علاج سے انکار اور ہڑتالوں کے باوجودینگ ڈاکٹرز کو اپنی سوسائٹی کی کریم سمجھتا ہوں، یہ وہ نوجوان ہیں جو پڑھائی میں سے سب سے آگے رہے۔ انہوں نے میٹرک اور ایف ایس سی میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرتے ہوئے میرٹ پر میڈیکل کالجوں میں داخلے حاصل کئے، یہاں پر ریاست نے بھی اپنی ذمہ داری ادا کی اور ان سے معمولی فیس لیتے ہوئے دوران پڑھائی ان پر غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی سے لاکھوں روپے خرچ کئے، یہی نہیں جب یہ نوجوان سپیشلائزیشن کرنے کے لئے آگے بڑھے تو اسی معاشرے نے ان سے فیس لینے کی بجائے ان کو ماہانہ ہزاروں روپے اعزازیہ دیا جو اس وقت بھی ہزاروں ، لاکھوں سرکاری ملازمین سے زیادہ ہے۔ ان کی محنت اور ذہانت کا اعتراف تھا اور ہے، مگر مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ اتنے ذہین نوجوان اپنے سروس سٹرکچر کا مطالبہ کینال روڈ پر سفر کرنے والے ہزاروں لاہوریوں اور خاص طور پر ایک 65 سالہ بزرگ ٹرک ڈرائیور سے کیوں کر رہے تھے۔مجھ سمیت بہت سارے مانتے ہیں کہ ڈاکٹروں کی طرف سے سروس سٹرکچر کا مطالبہ حق پر مبنی ہے اوراس کے لئے نہ صرف حکومتی عمائدین ان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر ہیں، بلکہ لاہور ہائیکورٹ کے فاضل جج نے میرے دوست اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی طرف سے ڈاکٹروں کی ہڑتال پر ان کے لائسنس اور ڈگریاں منسوخ کرنے اور انہیں گرفتار کرنے کی رٹ درخواست کو عملی طور پر ڈاکٹروں کے سروس سٹرکچر کے حصول کی درخواست بنا دیا۔ صوبائی حکومت نے بھی تاخیر سے ہی سہی، مگر سنجیدگی کامظاہرہ کیا اور مذاکراتی ٹیم میں اپنے مالیاتی دماغ اسحاق ڈار اور زاہد حامد سمیت دیگر کو شامل کر کے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش کی، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ ڈاکٹروں کے سروس سٹرکچر کا معاملہ دو چار برس کا نہیں، ربع صدی کا تو ضرور ہی ہے، مگر بہرحال ا س وقت مجھے ڈاکٹر عامر بندیشہ جیسے سیانوں نے بتایا کہ حکومت کے ساتھ 90 سے 95 فیصد معاملات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے، 47 میں سے 44 ایشوز کو مانا جا چکا ہے۔ اب اصل ایشو یہ ہے کہ حکومت ڈاکٹروں کی ٹائم سکیل پروموشن کو تحریری طور پرتسلیم کرتے ہوئے یقینی بنا دے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ڈاکٹر جو گریڈ 17میں بھرتی ہوا ہے اسے معلوم ہونا چاہئے کہ ٹھیک تین، چار یا پانچ سال کے بعد وہ گریڈ18 میں پروموٹ ہوجائے گا۔ اس کے لئے کسی بھی ڈاکٹر کوبیوروکریسی کے رحم و کرم پر رہتے ہوئے سولہ سولہ، سترہ سترہ اور اٹھارہ اٹھارہ سال انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ حکومت کا مو¿قف یہ ہے کہ اس نے اسامیاں اتنی بڑھا دی ہیں کہ تمام ڈاکٹر بہت جلد گریڈ18 میں پہنچ جائیں گے، ان کی ترقیوں کے لئے سال میں دو مرتبہ نہیںبلکہ تین چار مرتبہ بورڈ ہوں گے ،اس طرح کتابی طور پر نہ سہی،مگر عملی طور پر ٹائم سکیل پروموشن کا مطالبہ مانا جا چکا ہے۔حکومت دویا پانچ سال کی کسی قسم کی پابندی قبول نہیں کرسکتی، کیونکہ سرکارکے پاس11 لاکھ دیگر ملازمین بھی ہیں او ر ایسی پروموشن کی کسی بھی ایک محکمے کو یقین دہانی نہیں کرائی جا سکتی۔ تمام میڈیکل آفیسر ز ایس آرز بن جائیں اس پر بات چیت جاری ہے ،ینگ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی طر ف سے اس وقت تمام ڈاکٹروں کو پروموشن مل بھی جائے، لیکن اگر پروموشن کے لئے پکا ٹائم سکیل نہیں ہو گا تو دو سے تین سال بعد دوبارہ یہی مسئلہ کسی سانپ کی طرح اپنے بل سے پھن نکالے کھڑا ہوجائے گا اور پھنکارنے لگے گا، وہ کہتے ہیں کہ مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے حکومتی ٹیم کسی بھی ٹائم فریم میں نہیں آ رہی، وہ مذاکرات کو لمبے سے لمبا کرتی چلی جا رہی ہے۔حکومت کہتی ہے کہ ینگ ڈاکٹرز ہر میٹنگ میں ایک نیا ایشو کھڑا کر دیتے ہیں اور رات رات بھر بات کرنے کے باوجود متعدد ایشوز باقی رہ جاتے ہیں، کیا یہ حکومت کی سنجیدگی نہیں کہ حکمران جماعت کی طرف سے پیپلزپارٹی سے مذاکرات کرنے والی ٹیم ہی ان سے بات چیت کر رہی ہے۔ ینگ ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ کیا فوج، ڈی ایم جی اور عدلیہ میں ٹائم سکیل پروموشن نہیں ہے، وہ یہ بھی شکوہ کرتے ہیں کہ اگر ان کے مذاکرات کو بیورو کریسی سبوتاژ کر دیتی ہے، کیونکہ ڈی ایم جی برداشت ہی نہیں کر سکتا کہ کوئی اور سرکاری ملازم بھی بڑے گریڈوں میں ان کے ہم پلہ ہوجائے دوسری طرف وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے صحت بیوروکریسی کی کنٹری بیوشن کو سراہتے ہیں، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سینئر ڈاکٹروں کی ایم ٹی اے اور پی ایم اے جیسی تنظیمیں ان مذاکرات اور حکومتی یقین دہانیوں پر اعتماد کر رہی ہیں۔ ایک طر ف کہاجا رہا ہے کہ 90 سے 95فیصد مطالبات مانے جا چکے، مگر دوسری طرف ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے جو نہیں مانا جا رہا وہی تو اصل مطالبہ ہے، حکومت یہ 95 فیصدمطالبات مسترد کر دے اور باقی پانچ فیصد ماننے کا اعلان کر دے۔تویہ ہے وہ تمام معاملہ، جس پر حکومت اور ینگ ڈاکٹرز سینگ پھنسائے کھڑے ہیں۔ عدالت نے پہلے ڈاکٹروں کی ہڑتال پر پابندی لگائی اور پھر حالیہ سماعت میں احتجاج کرنے سے بھی روک دیا، مگر ینگ ڈاکٹروں نے اس کے باوجودلاہور کی سب سے مصروف سڑک کینال روڈ کو بلاک کرکے رکھ دیا۔ ان سے شکوہ کیا گیا تو کہتے ہیںکہ ہسپتال بھی بند نہ کریں اور سڑکیں بھی بند نہ کریں تو ہم حکمرانوں تک اپنی آواز کیسے پہنچائیں۔ ڈاکٹروں کی طرف سے سڑکیں بلاک کرنے کا یہ جواز بھی مضحکہ خیز ہے کہ جج، وکلاءاور سیاست دان بھی تو عدلیہ بحالی تحریک کے دوران سڑکیں بند کرتے رہے ہیں، میرا جواب یہ ہے کہ جب معاملہ عدالت میں ہے اور آپ مذاکراتی میز پر موجود ہیں تو پھر احتجاج نہیں بنتا اور دوسرے وہ عوام جو اپنے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس ادا کرتے اوراس سے آپ کو بھاری مشاہرے ملتے ہیں، انہوں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے کہ آپ ان کے بچوں کی چھٹی کے وقت ان کے گھر جانے والے بچے کھچے راستے بھی بند کر دیں۔ ڈاکٹروں کی ٹائم سکیل پروموشن پر فیصلہ کینال روڈ پر سفر کرنے والوں کے بس میں نہیں۔ یہ فیصلہ سیکرٹریٹ میں بیٹھنے والوں اور جی او آر میں رہنے والوں نے کرنا ہے۔ میرے معاشرے کا سب سے زیادہ ذہین طبقہ اپنے سروس سٹرکچر کے لئے جس65 سالہ ٹرک ڈرائیور سے ہاتھا پائی کر رہا تھاوہ تو سروس سٹرکچر اور ٹائم سکیل پروموشن کے سپیلنگ بھی نہیں جانتا ہو گا،وہ تو جی او آر اور سیکرٹریٹ کے اندر بھی داخل نہیں ہو سکتا ہو گا۔ مَیں نے اپنے دوست ڈاکٹروں کے ایک توپ لیڈر سے پوچھا کہ آپ لوگ سیکرٹریٹ اور جی او آر کا گھیراو¿ کر کے اس کی سڑکیں کیوں بند نہیں کرتے، وہ ہنسا اور بولا آپ ہمیں مار پڑوانا اور اندر کروانا چاہتے ہیں، کیا آپ کو یاد نہیں کہ ہم نے جی او آر کے گھیراﺅ کا اعلان کیا تھا اور اس بیوروکریسی نے ہماری جنرل کونسل کے اجلاس کے موقعے پر سروسز ہسپتال پر پولیس چڑھا دی تھی، ہمیں گرفتار کر کے دور دراز کی جیلوںمیں بھیج دیا گیا تھا۔میں دبنگ لیڈر کی بات سن کر ہنس پڑا کہ ان کا زور بھی کم زور پر ہی چلتا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ اس ٹرک ڈرائیور اور بعض کار سواروں کو ڈاکٹروں سے لڑوانے میں خفیہ والوں نے کردارادا کیا ، مجھے وائے ڈی اے کے رہنماﺅں کی اس بات سے بھی اتفاق نہیں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ لاہور کی آدھی مصروف ترین سڑکیں فیروز پور روڈ، لٹن روڈ، لوئر مال وغیرہ تو حکومت نے بند کر رکھی ہےں، ایسے میں کینال روڈ ہی ٹریفک کی لائف لائن کے طور پر چلتی ہے اور اگر وہ بھی عین سکول اور آفس ٹائمنگ میں بند ہوجائے، تو وہاں سے گزرنے والوں کے غم و غصے کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ احتجاج کے دوران ٹریفک بلاک ہونے سے مشتعل لوگ ینگ ڈاکٹرز کو جس قسم کے ” گل ہائے عقیدت“ پیش کر رہے تھے وہ کسی بھی صحافی سے اس بارے جان سکتے ہیں ، اب انہوںنے دوبارہ انیس ستمبر کو احتجاج کرنا ہے، مگر میں ان کو سو فیصد یقین دلاتاہوں کہ کینال روڈ سے گزرنے والے عوام ان کو سروس سٹرکچر نہیں دے سکتے اور وہ بزرگ ٹرک ڈرائیور تو ہرگز نہیں، جس کی جیب سے آپ ڈنڈے تھامے اور گریبان پکڑ کے ٹائم سکیل پروموشن کا نوٹیفکیشن نکال رہے تھے۔

مزید : کالم


loading...