امریکیوں کی انتہاء پسندی ، مسلمانوں کا راستہ روکنے کی سوچ فروغ پانے لگی

امریکیوں کی انتہاء پسندی ، مسلمانوں کا راستہ روکنے کی سوچ فروغ پانے لگی
امریکیوں کی انتہاء پسندی ، مسلمانوں کا راستہ روکنے کی سوچ فروغ پانے لگی

  


لندن (بیورورپورٹ)برطانیہ میں رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق بہت سے لوگ کھلم کھلا انتہائی دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے گروپس کے نظریات سے ہمدردی رکھتے ہیں اور اب پہلے سے زیادہ لوگ ایسی سیاسی جماعت کو انتخابات میں ووٹ دیں گے جو امیگریشن مکمل طور پر روکنے یا مسلمانوں کی تعداد کم کرنے کا وعدہ کرے گی جبکہ لوگ ملٹی کلچرازم کی حمایت نہیں کریں گے۔ اگرچہ اولمپکس کو ملٹی کلچر ازم کا مرقع اور متنوع معاشرے کا شاہکار قرار دیا گیا لیکن یو گوو کے سروے کے مطابق 41 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ ایسی پارٹی کو ووٹ دینا چاہیں گے جو امیگریشن مکمل طور پر روک دے۔ 28 فیصد نے کہا کہ وہ ایسی پارٹی کو ووٹ دیں گے جو ان پالیسیوں کو فروغ دیں گی۔ 37 فیصد نے اقرار کیا کہ وہ کسی ایسی سیاسی جماعت کی حمایت کرنا پسند کریں گے جو برطانیہ میں مسلمانوں کی تعداد اور معاشرے میں اسلام کی موجودگی و اثر کو کم کرنے کے لئے کام کرے ۔ایکسٹریمس پروجیکٹ کے میتھیو گڈ ون نے کہا کہ برطانیہ میں کوئی کامیاب انتہاپسند سیاسی پارٹی موجود نہیں ہے لیکن زیادہ تر لوگ انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسند نظریات سے متاثر ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگ واضح طور پر بڑی سیاسی جماعتوں اور بزنس ایلیٹس کا کارکردگی سے خوش نہیں ہیں۔یورپ میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی ہیں ۔میرین لی پینز کی نیشنلسٹ فرنٹ نے 6.5 ملین ووٹ لئے جب کہ یونان کی نیو نازی گولڈن ڈان نے گزشتہ انتخابات کے 7 فیصد ووٹوں کے مقابلے میں اس مرتبہ 10.5 فیصد ووٹ لئے۔ دریں اثنا شدید اسلام دشمن جیرٹ وائلڈرز کی فریڈم پارٹی کو گزشتہ ماہ ہونے والے ڈچ انتخابات میں صرف 15 نشستیں ملیں جبکہ اسے گزشتہ انتخابات میں 24 نشستیں ملی تھیں۔

مزید : بین الاقوامی


loading...