منافرت کے خاتمے کی ایک قابل ِ تقلید مثال

منافرت کے خاتمے کی ایک قابل ِ تقلید مثال
 منافرت کے خاتمے کی ایک قابل ِ تقلید مثال

  

                                                            ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے مامک ٹاﺅن میں ایک ایسی وسیع عمارت بنائی جا رہی ہے، جس کی ایک ہی چھت کے نیچے امام بارگاہ اور سنی مسلمانوں کے لئے مسجد ہو گی، یعنی شیعہ اور سنی مسلمانوں کی مشترکہ عبادت گاہ،ہال اور لائبریری ہو گی۔ اس عبادت گاہ کے باہر ایک وسیع و عریض مشترکہ پارک بھی بنایا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس پراجیکٹ سے ترکی میں مذہبی ہم آہنگی، بھائی چارے اور پیار و محبت کو فروغ حاصل ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو سمجھنے اور نقطہ نظر جاننے کا بھی موقع ملے گا۔ ایک مشترکہ کینٹین اور چائے خانہ بھی بنایا جائے گا، جہاں شیعہ، سنی بیٹھ کر اکٹھے چائے پئیں گے اور گپ شپ لگایا کریں گے۔ آپس میں دُکھ سکھ کی باتیں کریں گے۔ اس پراجیکٹ جیسے دیگر اور بہت سے منصوبے بھی زیر بحث ہیں، جن سے امن، دوستی، اتحاد، اتفاق، حب الوطنی، ہمدردی، ایک دوسرے کا احساس اور عزت و احترام جیسے مثبت عوام کو فروغ ملے گا۔

ترکی میں یہ پراجیکٹ حاجی بکتاش ولی وقف (ٹرسٹ) برائے کلچرل، تعلیم، صحت اور ریسرچ اور جیم وقف (ٹرسٹ) کے زیر اہتمام مکمل کیا جائے گا۔ 3ہزار 264مربع میٹر جگہ پر یہ عظیم کمپلیکس تعمیر کیا جائے گا۔ اس میں ایک کلچرل سنٹر بھی قائم ہو گا۔ مسجد اور امام بارگاہ بھی ہو گی۔ اس پراجیکٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے حاجی بکتاش ولی ٹرسٹ کے صدر کمال کایا کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مراکز کے قیام سے انسانوں میں پیار محبت بڑھتا ہے اور یہ پراجیکٹ انسانیت کی فلاح و بہبود اور امن و آشتی کے لئے ایک اہم اقدام ہے۔

کمال کایا کا مزید کہنا ہے کہ اس پراجیکٹ کے قیام سے شیعہ، سنی فسادات اورمذہبی منافرت کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ آپس میں میل جول بڑھے گا اور باہمی ادب و احترام اور عزت کے جذبات فروغ پائیں گے۔ شیعہ سنی بھائی بھائی اور مسلمان ہیں، ان میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں۔ دین یا مذہب ہمیں ایک دوسرے کے قریب آنے، مدد اور فلاح کا درس دیتا ہے۔ قتل و غارت گری، نفرت، کینہ، حسد، جہالت، دشمنی اور بُرے جذبات مذہب کی تعلیم نہیں ہیں، بلکہ اسلام تو امن و آشتی، بھائی چارے، اخوت، روا داری اور برداشت کا درس دیتا ہے۔ یہ انسانوں سے پیار کرنے اور ان کی فلاح کے لئے خدمت خلق کا قائل ہے۔

اس پراجیکٹ کے تحت شیعہ اور سنی مسلمانوں کے لئے ایک ہی کمپلیکس کی چھت کے نیچے مسجد، امام بارگاہ، لائبریری، ریسرچ سنٹر، کلچرل سنٹر، ذاکرین اور خطباءکے لئے بڑا ہال، امام کا کمرہ،350لوگوں کے لئے آڈیٹوریم، وسیع جناز گاہ، غسل خانے ، مذبحہ خانے قربانی وغیرہ کے لئے، غریب و نادار اور فقراءکے بچوں کے لئے تعلیم و تربیت کا مرکز، مہمانوں کے لئے کمرے، چائے پینے اور میٹنگوں کے لئے الگ کمرے بھی موجود ہوں گے۔ اس پراجیکٹ پر ملین ڈالرز خرچ آئیں گے، جو دونوں ٹرسٹ اور مخیر حضرات برداشت کریں گے۔     ٭

مزید :

کالم -