سیاسی بحران۔ کس نے کیا پایا؟ کیا کھویا ؟

سیاسی بحران۔ کس نے کیا پایا؟ کیا کھویا ؟
سیاسی بحران۔ کس نے کیا پایا؟ کیا کھویا ؟
کیپشن:   1 سورس:   

  

اسلام آباد میں دھرنوں سے پیدا شدہ سیاسی بحران پر بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے ۔ لکیر کے دونوں جانب موجود فریقین سے متعلق خوبیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی بدیہی طور پرچہارسوسے کی جا رہی ہے، لیکن ابھی تک اس بارے میں کسی ایسے تجریئے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ اس بحرانی کیفیت سے کس فریق کو کتنا سیاسی فائدہ حاصل ہوا ہے اور کس نے کیا گنوایا ہے؟اگر گہرائی میں جا کر تجزیہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ متحارب قوتوں میں سے ہر ایک نے اگر کچھ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی ہے تو کچھ نہ کچھ کھویا بھی ضرور ہے۔ اس بحران میں سب سے بڑا فریق عوام ہیںجو فریقین کے لئے یکساں اہم ہیں ۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ عوام نے اس بحرانی کیفیت سے کیا حاصل کیا ؟ عوامی طاقت کی اہمیت سیاسی پارٹیوں کے نزدیک صرف اشاراتی بن کر رہ گئی ہے۔

سیاسی پارٹیوں میں رائے عامہ کو سامنے رکھ کر پالیسیوں کی تشکیل کا کلچر تقریباً ختم ہوتا جا رہا تھا۔ کہنے کی حد تک ہر سیاسی جماعت کے منشور کا محور پبلک ہی ہوتی تھی لیکن الیکشن کے بعد حکومت سازی کرنے اور اقتدار پر براجمان ہونے کے بعد عوامی رائے کا لحاظ کبھی نہیں رکھا جاتا تھا ۔ عوام سے کئے گئے وعدوں کے پاس کا احساس حکومتوں کو نہیں ہوتا تھا، ہر حکومت نے عوام مخالف پالیسیوں پر عمل درآمد جاری رکھا۔ اگرچہ میڈیا نے عوامی خواہشات سے متعلق معاملات پر ہر وقت اپنا فوکس قائم رکھا، لیکن برسر اقتدار طبقوں نے عوامی مسائل کے حل کے لئے زیادہ دلچسپی ظاہر کرنے میں کوئی مستعدی نہ دکھائی ۔ کئی عشروں پر محیط عوامی خواہشات کی عدم پذیرائی نے معاشرے میں بے چینی کو جنم دیا۔ کئی بارحکومتوں کے خلاف اس بے چینی نے غیظ و غضب کا روپ بھی دھارا۔

 متحارب فریقین میں سے کس نے کیا حاصل کیا ۔ اس قضئے میں سب سے اہم فریق حکومت ہے۔ اگر بے لاگ تبصرہ کیا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ اس شورش کا سب سے زیادہ نقصان حکومت کو ہوا ۔ چند ماہ پیشتر حکومت کی جو قدر و منزلت تھی، اس میں بڑی تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔ حکومتی غلطیوں اور کوتاہیوں نے اس کی ساکھ کو بڑا دھچکا لگا یا ہے۔ یہ حکومتی بے توقیری سہہ جہتی ہے ۔اولاً عوام کے اندر اس کی بے توقیری ہوئی ہے۔ ہر فیصلہ مناسب وقت پر نہ کرنے سے حکومت کو سپاسی نقصان ہوا ہے۔ حکومت کی انتظامی صلاحیتوں کی بدولت ہی اس کی رٹ قائم ہوتی ہے، لیکن ماضی قریب میں حکمرانوں نے معاملات کو جس طرح ہینڈل کیا، اس سے اس کی رٹ متاثر ہوئی۔

حکومت کی ساکھ کس قدر متاثر ہوئی ہے، شاید اس کے منفی اثرات کو زائل کرنے کے لئے حکومت کو عرصہ دراز تک موقع نہ مل سکے۔ علاوہ ازیںحکومت مخالف سیاست دانوں میں بھی حکومتی کمزوری آشکارہوئی جس کا بدیہی نتیجہ یہ ہوا کہ سیاسی میدان میں اس کی خود اعتمادی مجروح ہوئی اور اس کی اخلاقی برتری زوال پذیر ہو چکی۔ علاوہ ازیں حکومت کے معاشی ایجنڈے کو، ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ معاشی طور پر ملک پہلے ہی ایک دورا ہے پر کھڑا تھا، جسے وسائل اور وقت کے ضیاع کی صورت میں ایک بہت بڑی ہزیمت در پیش ہے۔ وزیراعظم صاحب اس بحران سے نکل بھی جائیں تو بھی حکومت کی مجموعی کارکردگی پر کافی منفی اثر پڑے گا۔ عوام کے اندر حکومت کی ساکھ کو گہرا گھاﺅ لگنے کی وجہ سے معاشی اہداف کا حصول ناممکن ہو جائے گا۔

جس مشکل صورت حال سے حکومت دو چار ہے اس کا ازالہ غیر معمولی کارکردگی سے ہی ہو سکتا ہے، لیکن ایساہونا ناامیدی کے سمندر میں امید کے دئیے جلانے کے مترادف ہوگا۔ اگر یہ کہا جائے کہ موجودہ بحران میں سب سے زیادہ متاثرہ فریق حکومت ہے تو بے جانہ ہوگا،کیونکہ وقتی طور پر اس بحران سے باہر آجانے سے بھی اسے خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔

اس بحرانی کیفیت سے ہماری دانست میں سب سے زیادہ فائدہ ڈاکٹر طاہر القادری کو ہوا، جنہوں نے سیاسی طور پر اپنی پوزیشن کو استحکام دلایا ہے۔ عوامی تحریک جو اس سے قبل ایک مذہبی گروہ سے زیادہ کچھ نہیں تھی۔ اسے ایک باقاعدہ سیاسی جماعت کا مقام دلانے میں ڈاکٹر قادری کا بہت بڑا حصہ ہوگا۔ ان کے پیروکاروں کی تنظیمی صلاحیتوں کا اعتراف نہ کرنا نا انصافی ہوگی۔ تحریک کے کارکنوں کے ڈسپلن نے اس گروہ کو ایک سیاسی زندگی بخشی ہے اور لگتا ہے کہ آئندہ ملکی سیاست میں اس جماعت کا سیاسی رول ضرور ہو گا۔اگرچہ حکومتی حلقوں میں اس بات کا بہت زور دار پروپیگنڈا کیا گیا کہ علامہ صاحب کی سرگرمیوں کے پیچھے کسی کا ہاتھ ہے ،لیکن اس پروپیگنڈے کو عوام میں پذیرائی حاصل نہیں ہوسکی۔

 علامہ صاحب کے دس نکاتی پروگرام کی بازگشت میڈیا میں بہت زیادہ سنی گئی اور ہم نے دیکھا کہ میڈیا کے ایک حصے میں اس کو پذیرائی بھی حاصل ہوئی، کیونکہ ان نکات سے عوام کے دہکتے ہوئے مسائل کا حل پیش کیا گیا ہے۔پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں ان کے دس نکاتی پروگرام کے بارے میں کافی مثبت تبصرے بھی کئے گئے۔

عمران خان کے بارے میں اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ ڈی آئی خان میں حالیہ صوبائی انتخاب سے ثابت ہو جاتا ہے کہ عوام الناس میں ان کی پالیسی کی تائید موجود ہے۔ صوبائی اسمبلی کی اس نشست میں کامیابی سے عمران خان کی خیبر پختونخوا اسمبلی کی حکومت کی عددی برتری میں کچھ زیادہ فرق نہیں پڑے گا، لیکن صوبے بھر کے سارے مخالف سیاسی عناصر کا گٹھ جوڑ بھی تحریک کے امیدوار کو شکست سے دو چار نہ کرسکا۔

اس سب کے باوجود موجودہ بحران میں عمران خان کی سیاسی ناپختگی آشکارہوئی ہے۔اگرچہ دھرنے کے دوران انہوں نے بہت دلیری کا مظاہرہ کیا ہے لیکن ہر روز اپنے بیانات کو تبدیل کرنے سے ان کا عوام میں مثبت تاثر نہیں ابھرا۔ اس کے علاوہ بھی عمران خان کے دھرنے کے معاملے میں سیاسی طریق کار سے اختلاف کرنے والوں کی اس ملک میں کمی نہیں۔زیادہ بہتریہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کو پیش کرنے میں عجلت کا مظاہرہ نہ کرتے اور اپنے مطالبات کی فہرست میں وزیراعظم کے استعفے کو ثانوی حیثیت دیتے اور اسے بطور سیاسی دباﺅ استعمال کرتے۔ اس مطالبے کو سرفہرست رکھ کر عمران خان نے اپنی واپسی کے سارے دروازے بند کر لئے ہیں۔اگر اسے دباﺅ کے حربے کے طور پر استعمال کیا جاتا تو پھر تحریک انصاف کے لئے مراجعت کا راستہ باقی رہتا اور سیاسی بحران کے حل کی کوئی امید بھی باقی رہتی، کیونکہ یہاں سے واپسی ان کے لئے سیاسی طور پر بڑے نقصان کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔ بہر حال سیاسی بحران ابھی جا رہی ہے اور ہماری دُعا ہے کہ اس کے لئے کوئی ایسا قابل عمل فارمولا طے ہو جائے جس سے فریقین کے لئے کامیابی کی صورت نظر آئے۔

مزید :

کالم -