بازیچہءاطفال ہے دنیا مرے آگے

بازیچہءاطفال ہے دنیا مرے آگے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

میں نے مرزاغالب کے جس مصرعہ کو کالم کا عنوان بنایا ہے،اس کو اکثر قارئین نے نجانے کتنی بار سنا اور پڑھا ہوگا، لیکن اس حقیقت کا عرفان کم ہی کیا ہوگا کہ جو شاعر نے اس ایک مصرع میں سمو دی ہے۔
ایک وقت آتا ہے کہ انسان دنیا کو واقعی ایک کھیل، ایک تماشا سمجھنے لگتا ہے۔قرآن حکیم میں کئی آیات میں یہی مضمون ہے، لیکن اندازِ بیان جداگانہ ہے۔اللہ کریم فرماتا ہے کہ یہ دنیا ہم نے محض کھیل تماشا نہیں بنائی، بلکہ اس میں سمجھنے اور جاننے والوں کے لئے کئی نشانیاں ہیں اور پھر ان نشانیوں کو کھول کھول کر بتا بھی دیا ہے ۔ غالب کے سامنے شب و روز جو تماشا ہوتا تھا،وہ ہمارے سامنے بھی ہوتا ہے لیکن ہم میں سے کتنے ہیں جو یہ تماشا دیکھ کر بھی چشمِ بصیرت نہیں کھولتے۔یا شائد ہمارے ہاں یہ ”آنکھ“ ہوتی ہی نہیں۔غالب کی یہ آنکھ اتنی زود رس اور تیز بیں تھی کہ جس کا ذکر اس نے ایک اور مصرع میں یوں کیا ہے: ”صد جلوہ روبرو ہے جو مژگاں اٹھائیے“۔
کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ میں دن چڑھے اٹھتا ہوں اور کچن کا رخ کرتا ہوں تو وہاں میری بیٹی منتظر ہوتی ہے۔(آج کل باورچی رخصت پر گیا ہوا ہے۔ دھرنوں کے لئے نہیں، سیلابوں کی وجہ سے ).... وہ کہتی ہے : ”ابو جی! آپ آج دیر سے اٹھے ہیں۔میں نے کئی بار دیکھا لیکن آپ کے بیڈ روم کی لائٹ آف تھی!“ میں اس کو جواب دیتا ہوں :”بیٹا! میں تو کئی بار جاگتا ہوں اور کئی بارپھر سوجاتا ہوں“.... وہ حیرانی سے میری طرف دیکھتی ہے، گویا سوال کر رہی ہو کہ بار بار جاگنے اور پھر بار بارسو جانے کا مطلب کیا ہے۔میں پلٹ کر ڈائننگ ٹیبل پر آ بیٹھتا ہوں اور ذہن میں بیدل کا یہ شعر گھومنے لگتا ہے:
شورے شد و از خوابِ عدم چشم کشودیم
دیدیم کہ باقی ست، شبِ فتنہ، غنودیم
(ایک شور سا اٹھتا ہے اور ہم خواب عدم سے بیدار ہو جاتے ہیں۔پھر دیکھتے ہیں کہ اوہو! ابھی تو فتنہ و فساد کی طویل رات باقی ہے۔اس لئے پھر سو جاتے ہیں)
انسان کے اس دنیا میں آنے، شور سا اٹھنے (Big Bang)، شبِ فتنہ کے باقی رہنے اور پھر قبر میں اتر جانے کے مراحل کو بیدل نے جس فلسفیانہ انداز میں بیان کیا ہے، وہ اس کے فنِ شعر گوئی پر دلیلِ محکم ہے۔
کل ایک عزیز دوست اور کولیگ (رانا شفیق پسروری) کافی دنوں بعد دفتر میں تشریف لائے تو میں نے باعثِ تاخیر جاننا چاہا۔ کہنے لگے: ”لندن گیا تھا، پچھلے دنوں واپسی ہوئی ہے“۔
ہماری طالب علمی کے زمانے میں ”لندن پلٹ“ ہونا ایک عجیب قسم کا اہتزاز اور عجیب تر قسم کا اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ہمارے سکول کے ایک انگلش ٹیچر(ماسٹر حلیم صاحب) لندن پلٹ تھے اور ہم جب بھی ان کو دیکھتے اور ان کے آدابِ گفتگو اور لب و لہجے کو سنتے تو خاصے مرعوب ہوا کرتے تھے، لیکن اب تو لندن یاترا اتنی عام ہو چکی ہے کہ صبح جاتے ہیں اور شام کو جب گھر لوٹتے ہیں تو گویا گھر والوں کو بتاتے ہیں کہ سبزی منڈی گیا تھا، کدو اور ٹینڈے خرید لایا ہوں۔لیکن رانا صاحب کے ہاتھ میں کدو نہیں مٹھائی کا ایک ڈبہ تھا۔اسے کھولا گیا اور ان کی ”بخریت واپسی“ کا حظ اٹھایا گیا۔
باتوں باتوں میں کہنے لگے کہ ”میں گلاسگو بھی گیا تھا۔ وہاں داعش (ISIS) کے موضوع پر ایک مذاکرے کا اہتمام تھا۔ مجھے بھی دعوتِ کلام دی گئی اور میں نے حسبِ توفیق اس میں حصہ ڈالا“۔
میں ان کی باتیں دلچسپی سے سن رہا تھا کہ اسی اثناءمیں ایک اور بزرگ تشریف لے آئے۔ازرہِ اتفاق وہ بھی رانا صاحب تھے۔رانا نذر الرحمن یوں تو دھان پان سے بھی کم وزن ہیں۔لیکن نوے (90) برس کی عمر میں بھی اگر کوئی بندئہ خدا اپنی عمر رفتہ کو آواز دینے کے لئے غزل در غزل چھیڑنے لگے اور اسے کوئی ساتھی ساز خواہ دے یا نہ دے، خود پورا آرکسٹرا کھول کر بجانے لگتے ہیں۔اس سازینے میں بیگ پائپ، نفیریاں،بانسریاں، رباب، ستار اور توتیاں تو کبھی کبھی ہی آن (ON) کی جاتی ہیں البتہ ڈھول تاشے، ڈرم اور چنگ و دَف اتنے بلند آہنگ ہوتے ہیں کہ سامعین کبھی ان کے دھان پان سراپا کو دیکھتے ہیں اور کبھی ان کی گھن گرج کو سن کر اس شش و پنج میں پڑ جاتے ہیں کہ خدایا یہ بھنگڑا اور لڈی تو گئے وقتوں کی یادگاریں سمجھی جاتی تھیں ان کو صحافیوں کے مطالعاتی ماحول میں کس نے اذنِ باریابی دے دیا ہے۔یعنی وہی بات کہ جو کسی عالمِ دین نے کہی تھی۔ ”شعرِ مرا بہ مدرسہ کہ برد؟“
ضروری نہیں کہ آپ ان کو دعوتِ کلام دیں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ کسی مخصوص موضوع پر ان کی توجہ مرکوز کروائیں۔ چونکہ ان کی اپنی حِسِّ سماعت کمزور ہے اس لئے باقی سامعین کو بھی نیم بہرہ سمجھتے ہیں۔ میں نے ان کو ہزار بار عرض کیا ہے کہ کسی بھی نیوز چینل پر کسی ٹاک شو میں چلے جائیں، انشاءاللہ سب کو پچھاڑ کر دنگل جیت لیں گے اور ”رستمِ صوت و صدا“ کی بلیک بیلٹ زیبِ کمر کرکے گھر لوٹیں گے۔
کمرے میں قدم رکھنے سے پہلے سلام دعا کی بجائے زلزلہ برپا کرنے اور بھونچال لانے پر ایمان رکھتے ہیں۔ کبھی نہیں دیکھتے کہ دوستوں کی محفل میں آل ریڈی جو موضوع زیرِ بحث ہے وہ کیا ہے، کتنا نازک اور کتنا متنازعہ فیہ ہے، کس کی سوئی کہاں اٹکی ہوئی ہے اور مباحثے کی نوعیت کتنی سکون آور یا کتنی اضطراب انگیز ہے....بس قدم رنجہ فرمانے کے ساتھ ہی اپنے ایجنڈے کا اعلان کر دیتے ہیں اور ڈنڈے برسانے لگتے ہیں۔جب بھی دروازہ کھول کر رخِ زیبا دکھاتے ہیں، میں ”بسم اللہ“ پڑھتا اور ”چشم ماروشن“کا ورد کرتا کھڑا ہو جاتا ہوں۔انہوں نے بعض اَن کہی وجوہات کی بناءپر مجھے ”استادِ محترم“کا لقب عطا کر رکھا ہے۔یہ لقب یا خطاب سن کر میں ان کی رائے سے اختلاف کے باوجود ان کی ہاں میں ہاں ملانے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ عقلمندوں نے کہہ رکھا ہے:
اگر شاہ روز را گوئد شب است ایں
بہ بائد گفت: ”اینک ماہ و پرویں“
(ترجمہ: اگر بادشاہ دن کو رات کہے تو کہنا چاہئے کہ حضور بالکل بجا فرماتے ہیں۔دیکھیں وہ چاند کتنا روشن ہے اور وہ ستارے کیسے چمک رہے ہیں!“
تو جب موخر الذکر رانا صاحب دفتر میں داخل ہوئے تو اول الذکر کے ساتھ گلاسگو کی جس محفل کا ذکر ہو رہا تھا، وہ ختم کرنا پڑا۔میں نے بڑی مشکل سے وقت نکال کر رانائے اول سے دریافت کیا کہ مجھے مندرجہ ذیل سوالات پر ازراہِ کرم بریف کیجئے:
1۔ یہ ”داعش“ والے کون لوگ ہیں؟
2۔ ان کو مشرقِ وسطیٰ کا کون سا ملک ہے جو Ownکرتا ہے؟
3۔ان کے پاس جو بھاری ہتھیار از قسم ٹینک، بکتر بند گاڑیاں،، توپخانہ اور ملٹری ٹرک وغیرہ ہیں، ان کی فراہمی کا بندوبست کون کرتا ہے؟ اور کس راستے سے کررہا ہے؟
4۔ اس ”اسلامی ریاست“ سے متعلق لشکروں کو فنانس کون کرتا ہے؟
4۔ ان کے افسروں اور سپاہیوں کی ٹریننگ کہاں ہوتی ہے اور ٹریننگ دینے والا سٹاف کہاں سے ”نازل“ ہوتا ہے؟
5۔ اس تحریک کے اغراض و مقاصد کیا ہیں؟
6۔ اگر سوال یہ ہو کہ اس ساری تحریک کا صرف ایک سٹرٹیجک مقصد (Aim) بتائیں تو آپ کا جواب کیا ہوگا؟
رانا شفیق صاحب میرے ان سوالات کو سن کر سوچ میں پڑ جاتے ہیں.... مَیں ان کو چپ دیکھتا ہوں تو مزید یہ سوال پوچھتا ہوں:

1۔ کیا اس قسم کی کوئی تحریک یورپ ، امریکہ اور آسٹریلیا میں بھی پائی جاتی ہے؟ اگر نہیں تو کیوں نہیں؟
2۔شوربرپا ہے کہ اس ”داعش“ (ISIS)میں بہت سے امریکی، برطانوی اور یورپین ”مجاہد“ بھی شامل ہیں؟ ان ”مجاہدین“ کا شجرئہ نسب کیا ہے؟ کیا یہ لوگ سفید فام ہیں؟ اگر یہ مسلمان ہیں تو ان کا تعلق کن ممالک سے ہے؟ یہ مجاہدین جب امریکہ یا برطانیہ وغیرہ میں تھے تو CIA یا برطانوی انٹیلی جنس اداروں نے ان کا سراغ کیوں نہیں لگایا؟ کہا جاتا ہے کہ اس تحریک میں شامل ہونے کے لئے بعض خواتین بھی ”داعش“ کو جوائن کر چکی ہیں۔کیا وہ ”بیبیاں“ خالص یورپین یا امریکی ہیں یا ایشیائی ہیں؟ اگر ایشیائی ہیں تو ان کا تعلق کن ممالک سے ہے؟ وہ داعش میں جا کر کیا کررہی ہیں؟ ان کا کمبٹ رول (Combat Role) یا ”نان کمبٹ رول“ کیا ہے؟....
شفیق پسروری صاحب ان سوالات کی بوچھاڑ سن کر فرمانے لگے کہ ان سوالات / موضوعات پر تو ”گلاسگو مذاکرے“ میں کوئی بحث نہیں ہوئی تھی۔ نہ حاضرین میں سے کسی نے ایسے سوال پوچھے تھے اور نہ میں نے ان پر بریفنگ دینے کی کوئی ضرورت محسوس کی تھی۔
میں نے ان کو کہا کہ آج تو ”رانائے دوم“ کی وجہ سے محفل ”دھواں دھار“ ہے، کل انشاءاللہ آپ کسی وقت تشریف لائیں تاکہ ان موضوعات پر کھل کر ”قیاس آرائیاں“ کی جا سکیں۔یہ قیاسات ایسے ہیں جو میرے خیال میں قارئین تک پہنچنے چاہئیں۔پاکستان میں ایک عرصے سے اصل مسئلے کو پسِ پشت ڈال کر لایعنی اور فضول قسم کے فروعی مسائل پر وقت ضائع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے.... ہم پاکستانیوں کا فرض ہے کہ ”داعش“ کے اس فتنے کا سراغ لگائیں کہ اس کا نہائی مقصد کیا ہے، پاکستان پر اس کے کیا اثرات پڑ سکتے ہیں، حال ہی میں ایمن الظواہری نے القاعدہ کی جو ”رجسٹری“ انڈیا میں کھولی ہے اور ایک گھنٹے پر مشتمل جس وڈیو کو ریلیز کیا ہے، اس کا روئے سخن کس طرف ہے؟ یہ داعش اور اس القاعدہ رجسٹری کا بیک وقت ”ظہور“ کیوں ہو رہا ہے؟ اس کے پیچھے کون ہے؟ اگر وزیرستان میں پاک فوج کامیاب ہو رہی ہے اور گزرے کل کے دہشت گرد ہتھیار ڈال کر ”وعظ و تبلیغ“ کی طرف ”اچانک“ راغب ہوئے جا رہے ہیں تو کیا اس قلبِ ماہیت کے ڈانڈے کہیں داعش اور انڈیا میں مجوزہ القاعدہ رجسٹری کے قیام سے تو منسلک نہیں؟

قارئین سے التماس ہے کہ وہ ان مباحث پر بھی غورفرمایا کریں اور کالم نویس حضرات ان موضوعات پر بھی خامہ فرسائی کیا کریں.... ہر روز دھرنوں اور سیلابوں کا پہاڑہ تابہ کے؟

مزید :

کالم -