جمائما خان نے موسم کی وجہ سے طلاق لی

جمائما خان نے موسم کی وجہ سے طلاق لی
جمائما خان نے موسم کی وجہ سے طلاق لی
کیپشن: 1

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کسی کی بھی ذاتی زندگی کو زبان و قلم کی نوک پر رکھنا، شرفاءکے مسلک کے خلاف ہے وفاقی وزیر ریلوے نے عمران خان کے ”شیرو“ کتے کے حوالے سے پارلیمنٹ میں جو گفتگو کی، وہ بالکل ایسی ہی ہے جیسی محلے کی دو لڑاکا عورتوں کے درمیان ہوتی ہے۔ اس حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ وزیر ریلوے نے پارلیمنٹ میں عمران خان کے خلاف ”مردانہ وار“ نہیں ”زنانہ وار“ وار کیا ہے، جس سے ان کی عزت میں کمی نہیں ہوئی تو اور کیا ہوا ہے۔
وزیر ریلوے نے اگر کتوں کے حوالے سے تھوڑی سی ”ریسرچ“ کر لی ہوتی تو آج انہیں ”زنانہ وار“ لڑنے کی تہمت نہ کھانا پڑتی۔
کتے اور انسان کے درمیان دوستی بہت پرانی ہے، بلاشبہ کتا ایک نجس جانور ہے، مگر اصحاب کہف کے کتے کی وفاداری کا تذکرہ خود اللہ کریم نے الہامی کتاب قرآن پاک میں فرمایا ہے، اہل علم کی رائے یہ بھی ہے کہ اصحاب کہف کا کتا جنت میں ان کے ساتھ جائے گا (واللہ اعلم)
گاﺅں کی زندگی میں تو کتے کو گھر کے فرد کی حیثیت حاصل ہے، ہمارے ایک دوست کو تو اپنے کتے کے ساتھ ایسی محبت ہے کہ اُس نے اپنے کتے کے لئے چاندی کی سنگل اور چاندی کا ہی ”پٹہ“ بنوایا ہوا ہے، کتے کے لئے چار پاﺅں والا ایک رنگین ”منجھا“ (چار پائی) بھی بنوایا ہوا ہے تو گرمیوں میں اس کے لئے ایک عدد پنکھا بھی مخصوص کیا ہوا ہے۔ ہمارا یہ دوست کتے کے معاملے میں بہت جذباتی ہے، اس کے کھانے پینے سے لے کر دوا دارو تک کا خیال رکھتا ہے، کئی بار ایسا ہوا کہ وہ خود اپنا کھانا بھول گیا، مگر کتے کو ٹائم پر کھانا کھلاتا ہے۔ ایک بار ہم نے کہا کہ کتے سے ایسی بھی کیا محبت کہ تم اپنا کھانا تک بھول جاتے ہو، اس شریف آدمی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ کھانے کی کیا بات ہے، کتے نے کھایا یا ہم نے کھایا ایک ہی بات ہے، اپنے دوست کی اس طرح کی بات سن کے ہم تو استغفراللہ پڑھ کر خاموش ہو جاتے ہیں۔
حقیقت یہی ہے کہ ہمارے دوست کو کتے سے بے پناہ محبت ہے۔ کبھی ایسے بھی ہوتا ہے کہ ان کا کتا چوری چھپے ”ہَوا خوری“ کے لئے باہر نکل جائے اور زیادہ دیر تک واپس نہ آئے، تو ہمارے دوست کی حالت دیکھنے والی ہوتی ہے۔ وہ پاگلوں کی طرح ”میرا کتا، میرا کتا“ کرتے ہوئے ڈھونڈنے نکل پڑتا ہے۔ محلے والے ان کی یہ حالت دیکھ کر اس شک میں پڑ جاتے ہیں کہ کہیں یہ پاگل تو نہیں ہو گیا،مگر پھر یہ سوچ کر خاموش ہو جاتے ہیں کہ پاگل اور کتے میں کیا فرق ہوتا ہے۔ اگر پوچھنے پر کاٹ لیا یا گریبان پھاڑ دیا تو کیا کریں گے۔وزیر ریلوے کو پارلیمنٹ میں بات کرنے سے پہلے سوچ لینا چاہئے تھا کہ اسلام آباد میں ”دھرنا“ عمران خان کے ”شیرو“ نے نہیں ”چیتوں“ نے دے رکھا ہے۔ وزیر ریلوے کے بیان سے تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ:
”ڈگیا کھوتی توں غصہ کمہار تے“


یہ شیرو کا تذکرہ تو وزیر ریلوے کے بیان کی وجہ سے درمیان میں آ گیا۔ بات ہم عمران خان اور جمائما خان کی علیحدگی کے بارے میںکرنا چاہتے ہیں۔ عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کی وجہ سے ان کی ازدواجی زندگی تباہ ہوئی ہے، اس سے پہلے عمران خان نے کہا تھا کہ سیاست کی وجہ سے ان کی جمائما سے علیحدگی ہوئی ہے۔ خود جمائما خان کا بیان ہے کہ پاکستان کے موسم کی وجہ سے ان کی علیحدگی ہوئی، کیونکہ پاکستان کا موسم ان کے لئے اور بچوں کے لئے مناسب نہیں تھا اور عمران خان لندن شفٹ ہونے کے لئے تیار نہیں تھے، جس کی وجہ سے علیحدگی ہو گئی۔ عمران خان اور جمائما خان کی شادی پسند کی شادی تھی، جمائما خان نے عمران خان کی خاطر ”اسلام“ قبول کر لیا تھا، مگر عمران خان کے خاندان والے اس شادی کے حق میں نہیں تھے۔ عمران خان کی بہنیں اس شادی پر خوشی منانے کی بجائے دھاڑیں مار مار کے روتی رہیں۔
 عمران خان کے ”نکاح“ کے دو گواہ، جن میں سے ایک اس وقت بہاولپور کے نواب صاحبان کو اپنی خدمات پیش کر چکا ہے اور بہاولپور کی سابقہ حیثیت کو بحال کرانے کے لئے تحریک چلا رہا ہے۔ دوسرا گواہ ڈاکٹر طاہر القادری کے ”انقلاب“ مارچ کے ٹرک کا ڈرائیور ہے۔ یہ دونوں اس وقت عمران خان کے دائیں بائیں، جہانگیر ترین اور شیخ رشید کی طرح نظر آتے تھے۔ انہوں نے پہلے تو شادی کی مخالفت کی، کیونکہ یہ شادی ان کی ”سیاست“ کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی تھی، مگر عمران خان کے ”اٹل فیصلے“ کے بعد انہوں نے جمائما خان کا نام بدلنے کا مطالبہ کر دیا اور جمائما خان کا نام ”حائقہ خان“ تجویز کیا، مگر جمائما خان نے ”حائقہ خان“ نام مسترد کر دیا، ان دونوں ”صاحبان“ کی یاد داشت اور ایمان اگر سلامت ہے تو اس کی تائید اور تردید کر سکتے ہیں، شادی کے بعد عمران خان جمائما خان کے ساتھ پاکستان تشریف لے آئے، مگر کوشش کے باوجود جمائما خان یہاں خوش نہیں تھیں اور پھر عمران خان کے خاندان والے بھی اسے ”بھابھی“ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے، یہی وجہ تھی کہ جمائما خان نے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا۔
جمائما خان سے علیحدگی کے بعد عمران خان نے بلاشبہ ایک ”مرد“ کی طرح اپنے اس گناہ کو تسلیم کیا کہ علیحدگی کی ساری ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے اور بربادی کی وجہ میری ”سیاست“ہے، مگر عمران خان نے یہاں جمائما خان کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی یہ کی کہ ایک عورت جس نے اپنا خاندان حتیٰ کہ ”مذہب“ تک عمران خان کی محبت میں قربان کر دیا۔ عمران خان کو بھی چاہئے تھا کہ وہ ایک مسلمان ہوتے ہوئے ایک نو مسلم خاتون کو ہر طرح کا تحفظ فراہم کرتا اور اس کے لئے ہر طرح کی قربانی دیتا، مگر عمران خان نے ایک نو مسلم عورت جو کہ اس کی بیوی تھی، کو اپنی سیاست پر قربان کر دیا، جو کہ ہر حوالے سے قابل ِ مذمت بات ہے، جمائما ایک بار پھر اپنے سابقہ مذہب پر چلی گئی ہے۔ اب عمران خان نے نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے میرے گھر کو برباد کیا ہے۔
 اول تو عمران خان کو چاہئے کہ وہ اپنی ذاتی زندگی کو سیاسی زندگی کے ساتھ گڈ مڈ کرنے سے گریز کریں، کیونکہ جب وہ اپنی ذاتی زندگی کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کریں گے، تو پھر اس پر تبصرے بھی ہوں گے اور کئی پوشیدہ باتیں بھی منظر عام پر آئیں گی اور ظاہر ہے کہ سبھی تبصرے ان کے خیال کے مطابق بھی نہیں ہوں گے اور جس کی وجہ سے انہیں چاہئے کہ وہ اس طرح کے الزامات لگانے سے گریز کریں یا پھر یہ تفصیل بھی بتائیں کہ نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن نے کون سے ایسے ”تعویز“ استعمال کئے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا گھر برباد ہوا ہے، کیا نواز شریف ”جدہ“ میں بیٹھ کر کالا علم پڑھواتے رہے ہیں، کیا مولانا فضل الرحمن ڈیرہ اسماعیل خان کے پہاڑوں پر جا کے ”چلہ“ کاٹتے رہے ہیں....اور اگر انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا تو پھر آخر انہوں نے کیا ایسا کیا ہے کہ جس کی وجہ سے علیحدگی ہوئی ہے۔ آخر کچھ تفصیل تو بتائیں ناں اور ہاں مکرر عرض ہے کہ کسی کی بھی ذاتی زندگی کو قلم و زبان کی نوک پر رکھنا، شرفاءکے مسلک کے خلاف ہے، لیکن اگر شرفاءخود بضد ہوں کہ آ بیل مجھے مار تو پھر غیر شرفاءکیا کریں؟

مزید :

کالم -