روس کی مارکیٹ امریکا اور یورپ کا بہترین متبادل ثابت ہو سکتی ہے :صدر پاک رشیا بزنس کونسل

روس کی مارکیٹ امریکا اور یورپ کا بہترین متبادل ثابت ہو سکتی ہے :صدر پاک رشیا ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

     کراچی (اکنامک رپورٹر )پاکستانی برآمدات کے لئے روس کی مارکیٹ ، امریکا اور یورپ کا بہترین متبادل ثابت ہوسکتی ہے، جارحانہ مارکیٹنگ اور دلچسپی کے ذریعے روسی مارکیٹ میںداخل ہو کر پاکستانی منصوعات روس کی ارب ڈالر کی درآمدات میںاپناحصہ بڑھانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ پاک رشیا بزنس کونسل کے چیئرمین محمد فاروق افضل نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ فی الوقت روس کی مجموعی درآمدات میں پاکستان کا حصہ محض 0.005فیصد ہے ، حالانکہ رشین مارکیٹ میں پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات ، گارمنٹس ، نٹ ویئر ، ہوم ٹیکسٹائل ، فیبرک ، ٹاولز ، بیڈ ویئر ، پھل و سبزیاں ، گوشت ، ڈیری پروڈکٹس ، ہربل و ایلوپیتھک دوا¶ں کی کھپت کی وسیع گنجائش موجود ہے ، پاکستان کی وزارت تجارت کے علاوہ چیمبر آف کامرس اور دیگر صنعت و تجارتی تنظیمیں اگر مشترکہ حکمت عملی اختیارکرتے ہوئے امریکا و یورپ کے بجائے روس وسط ایشیا کی ریاستوں ، افریقی براعظم اور سا¶تھ امریکا جیسی غیر روایتی مارکیٹوں پرتو جہ مرکوز کریں توپاکستانی برآمدکنندگان کیلئے نئی راہیں کھیلیں گی او رملکی برآمدات کا حجم تیز رفتاری کےے ساتھ دگنا ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کونسل نے روس کے ساتھ تجارت کرنے کے خواہشمند تاجروں و سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے جلد ہی ایک ویب سائٹ متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کی ہے جس سے روس کے ساتھ تجارت کے خواہشمندوں کو شعبہ جاتی بنیادوں پر وہاں کی مارکیٹ میں کھپت کی حامل پروڈکٹس ، معیارات ، مصنوعات بھیجنے اور سرمائے کو محفوظ بنانے کے طریقہ کار کے علاوہ دیگر اہم معلومات مہیا ہو سکیں گی۔ فاروق افضل نے بتایا کہ فی الوقت روس کی مارکیٹ میں پاکستان سے صرف 35 کروڑ ڈالر مالیت کی مختلف مصنوعات برآمد ہو رہی ہیں جن میں 12کروڑ ڈالر کی ٹیکسٹائل مصنوعات شامل ہیں حلانکہ روس میں سالانہ 42ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل مصنوعات کی درآمدات ہوتی ہیں ، اگر وزارت تجارت کے ساتھ وزارت ٹیکسٹائل انڈسٹری روس جیسی غیر روایتی مارکیٹ میں پاکستانی ٹیکسٹائل پروڈکٹس کی جارحانہ انداز میں مارکیٹنگ کابندوبست کرے تو عرصہ دراز سے امریکا اور یورپ کو برآمد کرنے والے ٹیکسٹائل ایکسپوٹرز اپنی ترجیحات تبدیل کر دیں گے ۔ انہو ںنے بتایا کہ فی الوقت روس کی مارکیٹ میں سالانہ10ارب ڈالر مالیت کے پھل، سبزیاں، گوشت اور ڈیری پروڈکٹس جبکہ 20ارب ڈالر کی ہر بل اور ایلوپیتھک دوائیں برآمد کرنے کے مواقع دستیاب ہیں لیکن ان پرکشش مواقع کے باوجود رشین مارکیٹ پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی.
 جس کی وجہ سے خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ رشین مارکیٹ میں بھی بھارت جلد ہی اپنی اجارہ داری قائم کرلےگا۔ ایک سوال کے جواب میں فاروق افضل نے بتایا کہ پاک روس بزنس کونسل نے رشین مارکیٹ میں تجارتی رجحانات ، طریقہ کار ، ماحول اور قوانین پر طویل تحقیق مکمل کر لی ہے اور اس تحقیق میں یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ روس کی حکومت ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے ، روسی حکومت کی اس نئی پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے پاک رشین انفارمیشن سینٹر فارٹریڈ اینڈ ایجوکیشن نامی ادارہ بھی قائم کر دیا گیا ہے جو روسی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی کھپت بڑھانے اور متعارف کرانے کیلئے جدوجہد کر رہاہے ۔

مزید :

کامرس -