آوارہ کتوں کا خاتمہ نہ ہو سکا،شہریوں کو کاٹنے کے واقعات معمول

آوارہ کتوں کا خاتمہ نہ ہو سکا،شہریوں کو کاٹنے کے واقعات معمول

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(جاوید اقبال )ضلعی انتظامیہ کی نااہلی اور خاموشی سے ایک مرتبہ پھر شہر لاہور کے گلی کوچے اور قبرستان آوارہ کتوں کی آماجگا ہ بن گئے ہیں اور ضلعی انتظامیہ آوارہ کتوں کو تلف کرنے میں ناکام ہوگئی ہے بتایا گیا کہ ضلعی انتظامیہ نے شہر سے آوارہ کتے تلف کرنے کے لئے ایک باقاعدہ طور پر شعبہ تشکیل دے رکھا ہے جس نے آوارہ کتے تلف کرنے کے لئے کروڑوں روپے کی ادویات ،کچلااور کارتوس خرید رکھے ہیں مگر وہ سٹوروں میں ذخیرہ کئے ہوئے ہیں ایک سال قبل ضلعی انتظامیہ نے آوارہ کتے تلف کرنے کے لئے مہم شروع کی جو چندروز چلا کر ختم کردی گئی جس کے باعث شہر ایک مرتبہ پھر آوارہ کتوں کی نرسریوں میں تبدیل ہوگیا ہے گلی محلوں ،چوکوں،بازاروں ،اہم شاہراہوں میں دن رات آوارہ کتوں کے ”غول“ پھرتے نظر آتے ہیں جو راہ چلنے سکول جانے والے بچوں کو کاٹ لیتے ہیں خصوصا شہر میں واقع قبرستانوں میں کتوں کے ڈیر ے ہیں جوقبروں کی بے حرمتی کے ساتھ ساتھ جہاںقبروں پر فاتحہ خوانی کے لئے آنے والوں کو کاٹ کر زخمی کردیتے ہیں عموما رات کے وقت پیدل چلنے والوں پرحملے کرتے ہیں زیادہ تر آوارہ کتے شمالی لاہور کی بستیوں میں ہیں اور جہا ں کے قبرستانوں میں موجود ہیںمومن پورہ قبرستان ،ریلوے اسٹیشن ،لاری اڈوں،نہر کنارے،مزنگ ،باغبانپورہ ،ہربنس پورہ ،والٹن روڈ ،کینٹ،سیدپور ،ملتان روڈ سے ملحقہ آبادیوں ،قینچی ،چونگی ،دھرم پورہ ،مغلپورہ ،شالامار سے ملحقہ آبادیوں میں آوارہ کتوں کی بہتات ہے اس حوالے سے ڈی سی او لاہور کیپٹن (ر) عثمان سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ اس نوٹس لیا جائے گا اور آوارہ کتوں کو تلف کرنے کے لئے آپریشن شروع کرایا جائے گا ۔