سلطان بختیار خلجی سے لے کر جنرل ایوب تک بنگالیوں نے کسی غیر بنگالی حکمران کو مسترد نہیں کیا

سلطان بختیار خلجی سے لے کر جنرل ایوب تک بنگالیوں نے کسی غیر بنگالی حکمران کو ...
سلطان بختیار خلجی سے لے کر جنرل ایوب تک بنگالیوں نے کسی غیر بنگالی حکمران کو مسترد نہیں کیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور (خصوصی رپورٹ) قیام پاکستان کو نا ممکن بنانے کے لئے مولانا ابو الکلام آزاد نے آخری انگریزوانسرائے ہند لارڈ مونٹ بیٹن کو تجویز دی کہ اگر وہ تقسیم بنگال کا اعلان کردے تو بنگالی مسلمان مسلم لیگ کا ساتھ چھوڑ دیں گے اور پاکستان وجودمیں نہیں آسکے گا۔ لیکن انگریز حکمران اور ہندو کانگریس کے تقسیم بنگال پر اٹل رہنے کے باوجود بنگالی مسلمانوں نے مسلم لیگ کا ساتھ نہ چھوڑا اور آدھے بنگال کو ہی پاکستان کاحصہ بنانے کے حق میں ووٹ دے دیا۔ یوں مولانا ابو الکلام آزاد کی یہ پیش گوئی حرف بہ حرف غلط ثابت ہوئی۔
بنگال ہی نہیں پاکستان کے بارے میں مولانا آزاد کی ہر پیش گوئی کا جواب مکتبہ آتش فشاں 78 ستلج بلاک علامہ اقبال ٹاﺅن لاہور ( فون نمبر 0333-4332920) کے تحت مصنف منیر احمد منیر کی تازہ نصنیف ”مولانا ابو الکلام آزاد اورپاکستان۔ ہر پیش گوئی حرف بہ حرف غلط“ میں تفصیل سے دیا گیا ہے۔ 1946ءمیں پاکستان کے متعلق مولانا آزاد کی پیش گوئیوں پر محیط آغاشورش کاشمیری نے جو انٹرویو کیا تھا وہ حال ہی میں پاکستان کے ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے روز نامہ جنگ اور ڈیلی نیوز میں پانچ اقساط میں دوبارہ شائع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مولانا ابو الکلام آزاد کی پاکستان کے بارے میں ہر پیش گوئی حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی ہے۔ تقریباً تین سو صفحات اور نایاب و تاریخی تصاویر پر مبنی تصنیف ”مولانا ابو الکلام آزاد اور پاکستان۔ ہر پیش گوئی حرف بہ حرف غلط“ میں مصنف منیر احمد منیر نے مولانا کی پیش گوئیوں کا تاریخی حوالوں ، شواہد اور ریکارڈ کے ذریعے تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ہر پیش گوئی کو غلط قرار دیا ہے۔ مولانا آزاد نے اس انٹرویو میں یہ پیش گوئی بھی کی تھی کہ بنگالی بیرونی قیادت قبول نہیں کرتے اس لئے مسٹر اے کے فضل الحق نے قائد اعظمؒ کے خلاف بغاوت کردی تھی۔ مصنف منیر احمد منیر نے تاریخی حوالوں سے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مسٹراے کے فضل الحق نے قائد اعظمؒ کے خلاف کوئی بغاوت نہیں کی تھی ان کی طرف سے پارٹی ڈسپلن کی سگین اور مسلسل خلاف ورزیوں پر آل انڈیا مسلم لیگ کے آئین کی روسے صدر مسلم لیگ قائد اعظم نے انضباطی کارروائی کی بنگالی قائد اعظمؒ کی قیادت کے اس قدر والا وشیدا تھے کہ انہوں نے بچوں کے نام فضل الحق رکھنا چھوڑ دیئے۔ اور بنگال مسلم قیادت بشمول حسین شہید سہروردی نے فضل الحق کے خلاف صوبہ گیر دورے کئے۔ مولانا آزاد نے اس انٹرویو میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ مسٹر حسین شہید سہروردی بھی مسٹر جناح سے چنداں خوش رائے نہیں۔ مصنف منیر احمد منیر نے تاریخی حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ قائد اعظمؒ سہروردی پر بہت اعتماد کرتے تھے۔ اور سہروردی بھی قائد اعظمؒ کی رہنمائی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتے تھے۔ یہ حقیقت شیخ مجیب الرحمن نے بھی اپنی یادداشوں میں بیان کرتے ہیں یہاں تک لکھا ہے کہ قائد اعظمؒ سہروردی سے بہت لگاﺅ رکھتے تھے۔ مصنف اپنی اس تصنیف میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب انگریز حکمران اور ہندو کانگریس مولانا آزاد کی تجویز پر تقسیم بنگال پر اٹل رہی تو قائد اعظمؒ نے تجویز دی کہ تقسیم کرنے کی بجائے متحدہ بنگال کو ایک تیسرے ملک کے طور پر آزاد کردیا جائے لیکن ان کی یہ تجویز نہ مانی گئی۔ متحدہ مگر آزاد بنگال کے حوالے سے بھی قائد اعظمؒ اور سہروردی میں گہرا ربط ضبط اور اعتماد رہا۔ قائد اعظم کا بنگال کے بارے میں نظریہ تھا کہ بنگال بذات خود ایک براعظم ہے۔ مولانا آزاد کی اس دلیل ، کہ بنگالی باہر کی قیادت کو مسترد کردیتے ہیں، کے جواب میں مصنف نے تاریخی حوالوں کی تفصیل دیتے ہوئے لکھا ہے کہ بنگال کے پہلے غیر بنگالی مگر مسلمان حکمران سلطان بختیار خلجی سے لے کر جنرل ایوب خان تک بنگالیوں نے کسی بھی حکمران کو اس لئے مسترد نہیں کیا کہ وہ غیر بنگالی تھا، حتیٰ کہ 6نکات پیش کرنے کے بعد شیخ مجیب الرحمن نے صدر جنرل ایوب خان کو پیش کش کی آپ 1962ءکے آئین میں ترمیم لے آئیں کہ ایک بار صدرمغربی پاکستان سے ہوگا اور ایک بار مشرقی پاکستان سے اس ترمیم کے بعد میں 6نکات سے دستبردار ہوجاﺅں گا۔
مولانا آزاد نے اپنے اس انٹر ویو میں یہ پیش گوئی بھی کی تھی کہ پاکستان بن گیا تو نا اہل سیاستدانوں کی وجہ سے یہاں بھی فوج حکمران رہے گی جس طرح کہ باقی کے اسلامی ملکوں میں ہے۔ ” مولانا آزاد کی ہر پیش گوئی حرف بہ حرف غلط“ کے تحت مصنف نے مولانا کی اس پیش گوئی کے رد میں لکھا ہے کہ 1946ءمیں جب مولانا نے یہ انٹرویو دیا صرف چار مسلمان ملک آزاد تھے۔ سعودی عرب ، ایران اور افغانستان میں بادشاہت تھی اور ترکی میں جمہوریت۔ باقی سارا عالم اسلام برطانیہ، فرانس، ہالینڈ وغیرہ کی غلامی میں تھا۔ کسی بھی اسلامی مملکت میں فوج کی حکمرانی نہ تھی۔ مولانا نے افریقہ اور ایشیا کی آزاد ی کو متحدہ ہندوستان کی آزادی کے ساتھ مشروط کیا ہے اور کہا ہے کہ افریقہ اور ایشیا میں مسلمان ملکوں کی اکثریت ہے۔ مصنف احمد منیر نے اعدادوشمار سے ثابت کیا ہے کہ 1946ءمیں افریقہ اور ایشیا میں اسلامی نہیں، غیر اسلامی ملکوں کی اکثریت تھی اور افریقہ اور ایشیا ہی نہیں مڈل ایسٹ اور سنٹرل ایشیا کی آزادی بھی متحدہ ہندوستان سے نہیں پاکستان کے ساتھ بندھی ہوئی تھی۔ اور ایسے ہی ہوا۔ مصنف نے تاریخی ریکارڈ سے ثابت کیا ہے کہ پاکستان نہ بنتا تو ان ممالک میں صرف آقاﺅں کی تبدیلی ہوتی۔ مولانا نے پیش گوئیوں سے اٹا اٹ اپنے اس انٹر ویو میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ پارسی اور یہودی مذاہب کی طرح ہندو بھی موروثی مذہب ہے ۔ ”مولانا ابو الکلام آزاد اور پاکستان۔ ہر پیش گوئی حرف بہ حرف غلط“ میں مصنف نے اس کے جواب میں لکھا ہے کہ صرف پارسی اور یہودی موروثی مذاہب ہیں ہندو ازم قطعاً موروثی نہیں۔ اگر ہندو موروثی مذہب ہوتا تو ہندوبرہمن قیادت کو مسلمانوں کو دوبارہ ہندو بنانے کے لئے شدھی کی تحریک شروع نہ کرنا پڑتی اور نہ گاندھی یہ کہتے کہ مسلمانوں کو یا تو ہندو بنا لیا جائے گا یا غلام۔ اسی زمانے میں شدھی تحریک کے تحت راجپوتانہ کے ملکانہ راجپوتوں کی ایک وسیع تعداد کو زبردستی ہندو بنا لیا گیا تھا۔ گاندھی، نہرو اور ڈاکٹر مونجے وغیرہ کی طرف سے متحدہ ہندوستان میں ہند وراج قائم کرنے کے خوفناک ارادوں پر مولانا حسین احمد مدنی نے مولانا شوکت علی کے نام جو تشویش بھرا طویل خط لکھا ، وہ بھی اس کتاب میں من و عن شامل کیا گیا ہے ۔ یہ خط بھی مولانا آزاد کی تردید کرتا ہے۔ اس خط میں جہاں مسلمانوں کے متعلق ہندو قیادت کے ارادوں پر اچھی خاصی روشنی پڑتی ہے۔ وہاں دو قومی نظریے کے حق میں ٹھوس اور ناقابل تردید دلائل بھی موجود ہیں۔ جبکہ مولانا آزاد اپنے انٹرویو میں دو قومی نظریے کو ایک پامال بحث قرار دیتے ہیں لیکن کئی جگہ دو قومی نظریے کی حقیقت کو تسلیم بھی کرتے ہیں۔ اس قسم کی کئی تضادبیانیوں کا کتاب میں تاریخی حوالوں اور ریکارڈ سے بھرپور نوٹس لیا گیا ہے۔
مولانا ابو الکلام آزاد کیبنٹ مشن پلان کے زبردست حامی تھے۔ یہ مشن ہندوستان آیا تو مولانا کانگریس کے صدر تھے۔ مولانا کی پیش گوئی تھی کہ ان کے جانشین جواہر لال نہرو کیبنٹ مشن پلان تسلیم کئے رکھیں گے ۔ اس لئے مولانا کانگریس کی صدارت سے پنڈت نہرو کے حق میں دستبردار ہوگئے۔ لیکن نہرو جب کانگریس کی کرسی صدارت پر بیٹھ گئے تو انہوں نے کیبنٹ مشن پلان مسترد کردیا ۔ یوں مولانا کی یہ پیش گوئی بھی حرف بہ حرف غلط ثابت ہوئی۔ جس کا مولانا کو عمر بھر افسوس رہا۔ پارٹیشن پلان کی منظوری یا نا منظوری کے لئے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کا جو اجلاس ہوا اس میں مولانا نے پیش گوئی کی تھی کہ یہ تقسیم عارضی ہے۔ جو صوبے ہندوستان سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیں گے وہ بہت جلد ہندوستان میں واپس آجائیں گے۔ مولانا کی یہ پیش گوئی بھی حرف بہ حرف غلط ہوئی۔ حتیٰ کہ بھارت نے سودیت یونین، امریکہ اور سرائیل کی بھرپور سیاسی، سفارتی اور عسکری مدد سے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش تو بنادیا۔ لیکن آج تک بنگلہ دیش نے بھی انڈین یونین کا حصہ بننے کی خواہش نہیں کی۔ اسی بین الاقوامی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے، بہ قول بھارتی جنرل مانک شا، کلکتہ میں اسی ہزار بنگالیوں کو، جن میں اکثریت ہندوﺅں کی تھی، مکتی باہنی کے روپ میں تربیت دی گئی۔ ان میں سے ایک اچھی خاصی تعداد کو پاکستانی فوجی وردیاں پہنوائی گئیں۔ انہیں حکم تھا کہ وہ مشرقی پاکستان میں جاکر عورتوں کی آبروریزی کریں تاکہ پاکستان فوج بدنام ہو۔
مولانا آزاد نے پیش گوئی کی تھی کہ پاکستان غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے دبا رہے گا۔ اس کے جواب میں مصنف نے لکھا ہے کہ 2012-13ءتک پاکستان کے غیر ملکی قرضے ساٹھ بلین ڈالر تھے جبکہ بھارت کے 390بلین ڈالر تھے۔ مولانا نے یہ پیش گوئی کی کہ پاکستان میں اندرونی خلفشار اور صوبائی جھگڑے رہیں گے۔ اس کے جواب میں کتاب مذکور میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نہیں بلکہ بھارت اپنے اندرونی خلفشار اور صوبائی جھگڑون کا خوفناک حد تک شکار ہے جس کے 29صوبوں میں سے چودہ میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ 26فیصد بھارتی علاقہ انتہا پسندوں کے کنٹرول میں ہے، وہاں حکومتی رٹ کا وجود ہی نہیں۔ مولانا آزاد نے یہ پیش گوئی بھی کی تھی کہ پاکستان میں غیر ملکی کنٹرول رہے گا۔ مصنف منیر احمد منیر نے ریکارڈ اور شواہد سے تقاہلی جائزہ لیتے ہوئے عیاں کیا ہے کہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت شروع دن سے غیر ملکی اثرات میں گھرا ہوا ہے۔ حتیٰ کہ اپوزیشن نے وزیر اعظم نہرو پرلوک سبھا میں تنقید کی کہ بحر ہند میں ساتویں امریکی بحری بیڑے کو داخل ہونے کی اجازت کیوں دی گئی ہے تو نہرو نے جواب دیا، امریکہ کو کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔
مولانا آزاد نے اپنی ایک پیش گوئی میں یہ بھی کہا ہے کہ بعد کی نسلوں کو پتہ چلے گا کہ پاکستان کی صورت میں انہوں نے کیا پایا اور کیا کھویا۔ اس کے جواب میں مصنف منیر احمد منیر نے تاریخی حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ زمانہ قدیم میں بر صغیر ہند اور سندھ کے دو الگ الگ ملکوں پر مشتمل تھا۔ ملک سندھ میں پورا پنجاب، سرحد، بلوچستان، موجودہ سندھ اور کشمیر شامل تھے۔ ملک سندھ وقت گزرنے کے ساتھ موجودہ صورت میں سمٹ گیا۔ قائد اعظمؒ کی قیادت میں زمانہ قدیم کا سندھ پاکستان کی شکل میں واپس لے گیا ہے ۔ اس لئے مسلمانوں نے پاکستان کی صورت میں کھویا کچھ نہیں بلکہ اپنا کھویا ہوا ملک واپس لے لیا ہے، جس کا صدیوں سے تہذیبی ، ثقافتی، تجارتی، اور اقتصادی لحاظ سے سنٹرل ایشیا اور مڈل ایسٹ کے ساتھ گہرا ربطہ ضبط رہا۔
”مولانا ابو الکلام آزاد پاکستان۔ ہر پیش گوئی حرف بہ حرف غلط“ میں مصنف نے لکھا ہے کہ ایک طرف مولانا آزاد دو قومی نظریے کو پامال بحث قرار دیتے ہیں دوسری طرف جب اس دو قومی نظریے کی بنیاد پاکستان وجود میں آتا ہے توبہ قول شورش کاشمیری مولانا آزاد، خان عبدالغفار خاں اور صدر مجلس احرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کو اور ان کی وساطت سے احرار کو مسلم لیگ میں شامل ہونے کا مشورہ دیتے ہیں۔ گاندھی جی کو پتہ چلا تو انہوں نے مولانا آزاد کو بھی مسلم لیگ میں شامل ہونے کا مشورہ دے دیا۔
مولانا آزاد کے انٹرویو نگار شورش کاشمیری کے حوالے سے کتاب مذکور میں اس کانگریسی روپے کی تفصیل بھی دی گئی ہے۔ جو 45ئ، 46ءکے انتخابات میں مسلم لیگ کا مقابلہ کرنے کے لئے نیشنلسٹ علماءمیں تقسیم کیا گیا۔ مقصد قیام پاکستان کو نا ممکن بنانا تھا۔ بہ قول شورش کاشمیری یہ روپیہ مولانا ابو الکلام آزاد کی سفارش پر کانگریس کے خازن سردار پٹیل نے مہیا کیا اور اس روپے کے بارے میں گاندھی کے تاثرات بیان کرتے ہوئے مولانا کے انٹرویو نگار شورش کاشمیری نے یہ بھی کہا ہے: ”گاندھی جی کے ذہن میں اس پچیس لاکھ روپیہ کی غارت گری کا احساس تھا جو عام انتخابات میں نیشنلسٹ مسلمانوں پر صرف کئے گئے، لیکن بعض لوگ روپے کے لئے امیدوار ہوگئے تھے۔ مال اینٹھا ، ہڑپ کیا اور بیٹھ گئے“۔

مزید :

صفحہ آخر -