فنانشل ٹائمز کا اداریہ ،اہم سوالات کی طرف اشارہ

فنانشل ٹائمز کا اداریہ ،اہم سوالات کی طرف اشارہ
 فنانشل ٹائمز کا اداریہ ،اہم سوالات کی طرف اشارہ
کیپشن: rahman

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اب کیا ہو گا، یہ وہ سوال ہے جس کے جواب کی تلاش میں لگائے گئے تمام فریقین کے انداذے غلط ثابت ہو چکے ہیں۔
حکومت کے اندازے بھی غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ عمران خان اور طاہر القادر ی کے اندازے بھی غلط ثابت ہو چکے ہیں۔
تجزیہ نگار بھی تجزیہ کر کر کے تھک گئے ہیں۔ آخرکچھ ہو ہی نہیں رہا۔ سب پریشان ہیں کہ کچھ بھی نہیں ہو رہا۔
خیر خدا کا شکر ہے کہ کچھ نہیں ہوا، ورنہ آدھے لوگ کہتے کہ کیا ہو گیا ، اور آدھے کہتے کیوں ہو گیا۔
نہ نیا پاکستان بن سکا، بلکہ پرانا بھی خراب ہو گیا ۔
رحمان ملک اور رمیش کمار کو ناراض عوام نے لیٹ آنے پر جہاز سے اتار دیا، اور دونوں اتر گئے ۔
اس حوالہ سے بھی دو رائے سامنے آئی ہیں۔
ایک رائے یہ کہ رحمان ملک اور رمیش کمار نے لیٹ آکر غلطی کی۔ اس لئے ان کو سزا ملنی چاہئے تھی۔ پاکستان میں و ی آئی پی کلچر کا خاتمہ ایسے ہی ہو گا۔ کب تک عوام ان کے غلام رہیں گے۔ یہی نیا پاکستان ہے ۔ یہ وی آئی پی خود کو عام آدمی کیوں نہیں سمجھتے۔
دوسری رائے یہ ہے کہ عوام کا ان کو اس طرح زبردستی جہاز سے اتارنا بھی غیر قانونی ہے، ہم کیوں عوام کو قانون ہاتھ میں لینا سکھارہے ہیں۔کیا ہر معاملہ اب سڑکوں پر طے ہو گا۔ عوام کا قانون ہاتھ میں لینے کا رحجان آخر پاکستان کو کہاں لے جائے گا۔ اس طرح تو گلی گلی فساد ہو گا۔ ہر آدمی خود ہی جج اور خودہی مدعی بن جائے گا، نظام حکومت اور نظام معاشرہ دونوں ختم ہو جائیں گے۔
خدا جانے کونسی رائے درست ہے۔
ہم بھی عجیب معاشرہ ہیں، جب کوئی قتل ہو جاتا ہے ۔ تو سارے معاشرہ کے لئے مقتول اور ان کے لواحقین مظلوم ہو تے ہیں۔ اور قاتل ظالم۔
لیکن جب اسی قاتل کو پھانسی ہوتی ہے تو پھر اسی معاشرہ میں پھانسی لگنے والا بھی مظلوم بن جاتا ہے، لوگ اس کے گھر بھی تعزیت کے لئے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بڑا ظلم ہوا ہے۔
پاکستان میں جو بھی ہو رہاہے دنیا اس پر یشان ہے۔ پر ہم پریشان نہیں ہیں۔ چینی صدر نے پاکستان کا دورہ ملتوی کر کے ہمارے مخالف بھارت میں اپنے دورہ میں ایک دن کی توسیع کر دی۔
مجھے یہ سمجھ نہیں آرہا کہ چینی صدر کا دورہ ملتوی کرنا زیادہ افسوسناک تھا ۔ یا ان کا بھارت میں اپنے دورہ میں ایک دن کی توسیع کرنا ہمارے لئے زیادہ بڑا صدمہ ہے۔
لیکن اگر ہم آپس میں لڑ رہے ہیں تو کیا دنیا رک جائے اور انتظار کرے کہ پہلے ہم اپنی لڑائی کا فیصلہ کر لیں پھر وہ کام شروع کرے گی۔ کوئی کسی کے لئے انتظار نہیں کرتا۔
معروف بین الاقوامی روزنامہ فنانشل ٹائمز نے پاکستان کی مووجوہ سیاسی صورتحال پر ایک اداریہ تحریر کیا ہے۔ آجکل کسی تحریر کا حوالہ دینا بھی خطر نا ک ہے ، کیونکہ جس فریق کو بھی تنقید کا نشانہ بنا یا جائے وہ الزام لگا دیتا ہے۔
اخبار فنانشل ٹائمز نے لکھا ہے کہ عمران خان بلا شبہ پاکستان کی کرکٹ کے غیر معمولی ہیروہیں مگر بطور سیاستدان وہ اپنی ساکھ کھو گئے ہیں۔ عمران خان وزیر اعظم بننے کی خواہش میں ملک کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اپنے دھرنے کو ضرورت سے زیادہ سے طویل کر کے انہوں نے پاکستان کی جمہوریت کے لئے شدید خطرات پیدا کر دئے ہیں۔
ا خبار کے مطابق عمران خان کے دھرنوں نے موجودہ حکومت کے معاشی بہتری کے اقدامات پر بھی پانی پھیر دیا ہے اور معیشیت کو واپس پوائنٹ زیروپر پہنچا دیا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے ملک کے وسیع تر مفاد میں بہترین سیاسی لچک کا مظاہرہ کیا ہے اور اپوزیشن کے کافی مطالبات تسلیم کر لئے ہیں۔ موجودہ سیاسی بحران میں پاکستان کی جمہوریت کے تسلسل کے لئے پاکستان کے قومی سیاستدانوں کو کردار ادا کرنا ہو گا تا کہ جمہوریت کا تحفظ کیا جا سکے۔
یہ تو خیر فنانشل ٹائمز کی رائے تھی جس سے بہر حال اختلاف کا حق موجود ہے لیکن اسی اداریہ میں چند سوال بھی اٹھائے گئے ہیں۔ ان میں ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ پاکستان سے قبل ایشیائی ملک تھائی لینڈ میں بھی جمہوریت کا بستر اسی طرح گول کیا گیا جب انتخابات میں حصہ لینے والے ایک فریق نے انتخابی نتائج کو ماننے سے انکار کردیا ۔ اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ بہت سے ایشیائی ممالک میں شفاف انتخابات کے لئے بنیادی ڈھانچہ ہی موجود نہیں ہے، اس لئے اس ڈھانچہ کی عدم موجودگی میں شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن ہی نہیں ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا متبادل کیا ہے۔ کیا آمریت یا غیر منتخب ٹیکنو کریٹس کی حکومت جو طاقت کے ذریعے قائم کی جائے کسی بھی طرح جمہوریت کا متبادل ہو سکتی ہے۔
دنیا ہم کو سمجھا رہی ہے کہ ہم ایک گہری کھائی میں گرنے جا رہے ہیں ، دنیا صرف بتا سکتی ، دوست سمجھا سکتے ہیں ، لیکن روک نہیں سکتے۔
نیا پاکستان ہی پاکستان کا مستقبل ہے۔ لیکن کس قیمت پر اس کا بھی خیال رکھنا ہے۔ ہر گزرتا دن پاکستان کی معیشت کو تباہ کر رہا ہے۔
سیلاب نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ جو قومیں اپنی حالت پرخود رحم نہیں کرتیں ان کی حالت پر کوئی بھی رحم نہیں کر تا۔ پانی نے بھی رحم نہیں کیا۔ ایک دوسرے کو بند گلی میں دھکیلتے ملک ہی بند گلی میں پہنچ گیا تو کوئی بھی باہر نہیں آسکے گا۔ اس لئے نہ گو نواز گو ۔۔ نہ گو عمران گو۔ یہ وقت مل؂ بیٹھنے کا ہے۔ بس ایک اپیل ہے کہ ضد اور انا کو چھوڑ کر ملک کا سوچا جائے ۔

مزید :

کالم -