آپریشن ضرب عضب کے بعدپاکستان سے القاعدہ غائب ہوگئی

آپریشن ضرب عضب کے بعدپاکستان سے القاعدہ غائب ہوگئی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

واشنگٹن ( اظہر زمان، بیورو چیف) شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب کی صورت میں پاکستانی فوج کی یلغار کے بعد عملاً القاعدہ پاکستان سے غائب ہو چکی ہے۔ القاعدہ اور دیگر دہشت گر د تنظیموں کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے والے واشنگٹن کے ایک پرائیویٹ انٹیلی جنس ادارے نے یہ بات اپنی ایک تازہ جائزہ رپورٹ میں بتائی ہے۔
اس ادارے کے مطابق القاعدہ کے موجودہ سربراہ ایمن الظواہری کے بارے میں اطلاع ملی تھی کہ وہ کوئٹہ کے قریب کسی خفیہ پناہ گاہ میں رہتے تھے جہاں سے وہ عام طور پر قندھار کا سفر کرتے تھے ۔لیکن دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی فوج کے تازہ آپریشن کے بعد انٹیلی جنس ذرائع کو شبہ ہے کہ وہ سرحد پار کرکے مشرقی افغانستان میں کسی جگہ منتقل ہو گئے ہیں۔ ویسے بھی اس وقت القاعدہ اور اس کی ذیلی تنظیمیں افغانستان اور پاکستان میں سرکاری کارروائیوں کے بعد اس علاقے تک محدود ہو گئی ہیں ۔ سرحد کے قریبی دو افغان صوبوں کنہار اور نورستان میں ان کی طالبان کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندیوں کے آثار ملے ہیں۔ ان ذرائع نے القاعدہ سے متعلق کارکنوں کے ٹوئیٹر پیغامات کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ حال ہی میں سرحد کے قریب افغان علاقے میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں اہم لیڈر مارے گئے ہیں ۔ ان میں مراکشی نژاد آپریشن کمانڈر سفیان المغربی اور پراپیگنڈہ انچارج عمر الطالب شامل ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق القاعدہ کو اپریل 2013ءمیں اس وقت شدید نقصان پہنچا تھا جب ایک ڈرون حملے میں اس کا انٹیلی جنس چیف ابو عبیدہ عبداللہ الآدم مارا گیا تھا۔
سفیان المغربی نے گزشتہ برس آپریشن کمانڈر فرمان شنواری کی ہلاکت کے بعد یہ عہدہ سنبھالا تھا۔فرمان شنواری نے بدر منصو ر کی جگہ لی تھی جو    2012ءمیں ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔ اس سے پہلے القاعدہ کے اہم کمانڈر الیاس کاشمیری، عبداللہ سید اللبی اور ابو لیتلبی بھی ایسے ہی ڈرون حملوں میں ہلاک ہوئے تھے ۔
پراپیگنڈہ انچارج عمر الطالب سعودی باشندہ ہے جس کاصل نام عادل صالح احمد القمیشی ہے جو سعودی عرب کو مطلوب 47دہشت گردوں کی فہرست میں شامل تھا۔
انٹیلی جنس رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ القاعدہ کاہیڈکوارٹرپاکستان سے مشرقی افغانستان منتقل ہو چکا ہے جو اپنے ہمنوا ہمدردوں کے ذریعے اپنی گرتی ہوئی ساکھ سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہے اور حال ہی میں جنوبی ایشیاءکے لئے اپنی شاخ کھولنے کا اعلان دراصل انہی ہمدردوں کو منظم کرنے کی ایک کوشش ہے۔

مزید :

صفحہ اول -