دنیا کی بہترین یونیورسٹی چھوڑ کر سیکنڈ ہینڈشوہر اپنانے والی خاتون

دنیا کی بہترین یونیورسٹی چھوڑ کر سیکنڈ ہینڈشوہر اپنانے والی خاتون
دنیا کی بہترین یونیورسٹی چھوڑ کر سیکنڈ ہینڈشوہر اپنانے والی خاتون

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لندن (نیوز ڈیسک) دنیا کی مشہور ترین اور صف صف اول کی یونیورسٹیوں میں سے ایک کیمبرج یونیورسٹی کی پی ایچ ڈی کی طالبہ نے تعلیم چھوڑ کر ایک مسلمان بزنس مین سے شادی کرلی جو اب تین بیویوں کا خاوند بن چکا ہے۔ پینتیس سالہ نبیلہ فلیبس کا تعلق بنیادی طور پر ملائیشیاءسے اور وہ کیمبرج یونیورسٹی میں انجینئرنگ کے شعبہ میں پی ایچ ڈی کررہی تھی جس کا موقع دنیا کے چند خوش قسمت ترین طالبعلموں کو ہی ملتا ہے۔
حسن فلیبس نامی شخص امپورٹ ایکسپورٹ کا کام کرتا ہے اور نبیلہ سے شادی سے پہلے اس نے 41 سالہ انوب سے شادی کررکھی تھی اور نبیلہ کے بعد وہ 33 سالہ سکینہ سے بھی شادی کرچکا ہے۔ نبیلہ نے بتایا کہ وہ طلاق یافتہ ہے اور اس کی خواہش تھی کہ وہ ایسے شخص سے شادی کرے جس کی پہلے بھی کوئی بیوی ہو تاکہ اسے معلوم ہو کہ خاوند کیسے بنا جاتا ہے۔
برطانوی ٹی وی چینل 4 کی ڈاکومینٹری ”مین ود مینی واﺅز“ میں اس خاندان کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔ نبیلہ نے اس پروگرام میں بتایا کہ وہ حسن کے ساتھ بہت خوش ہے اور کبھی کبھی اس کی ملاقات شوہر کی دوسری دو بیویوں کے ساتھ بھی ہوجاتی ہے۔ وہ دو بچوں کی ماں ہے جبکہ حسن کے مجموعی طور پر چھ بچے ہیں۔ وہ ہر بیوی کے ساتھ تین تین دن گزارتا ہے اور تینوں بیویاں لندن میں تین علیحدہ گھروں میں مقیم ہیں۔ شادیاں کروانے والے ادارے ”مسلم میرج ایونٹ“ کے نمائندہ میزان راجہ نے بتایا کہ اکثر برطانوی خواتین سہارے کی تلاش میں شادی شدہ مردوں سے شادی کرتی ہیں جبکہ مرد عموماً جنسی خواہشات کی بناءپر کرتے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -