ایٹمی معاہدہ: ایران اور سعودی عرب

ایٹمی معاہدہ: ایران اور سعودی عرب
 ایٹمی معاہدہ: ایران اور سعودی عرب

  

ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے سے سعودی عرب خوش نہیں ہے، کیونکہ اس معاہدے کے ذریعے بین الاقوامی برادری اور عالمی سطح پر ایران کو ایک ایٹمی طاقت بن جانے کی اہلیت رکھنے والے مُلک کے طور پر قبول کر لیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت کو مزید بڑھاوا ملے گا اور سعودی عرب یہ سمجھتا ہے کہ امریکہ کے پالیسی ساز اب اس کی بجائے ایران کے زیادہ نزدیک ہو جائیں گے۔ یہ امکان بھی موجود تھا اور ہے کہ اب سعودی عرب بھی ایٹمی طاقت بننے کا سوچے گا، چاہے اس کے لئے اُسے امریکہ کی ناراضگی ہی کیوں نہ مول لینا پڑے، اگر ایسا نہ ہو اور اللہ کرے نہ ہو تو بھی خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو جائے گی، بلکہ ہو گئی ہے،جو خطے کے لئے،بالخصوص اسرائیل کے لئے خطرے کا باعث ہے۔ گو سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے مثبت، مگر بڑے محتاط الفاظ میں اِس معاہدے پر ردعمل کا اظہار کیا ہے،بلکہ الفاظ بھی تقریباً وہی ہیں،جو صدر اوباما سے سعودی بادشاہ سلمان نے کہے تھے ’’سعودی عرب کسی بھی ایسے معاہدے کو خوش آئند قرار دے گا،جو ایران کو ایٹم بم بنانے سے روک دے‘‘۔۔۔ایک اور سعودی اخبار ’’شرق الاوسط‘‘ نے بڑے سخت الفاظ میں لکھا ہے کہ ’’اس معاہدے نے مشرق وسطیٰ میں ایک خوفناک مستقبل کی بنیاد رکھ دی ہے‘‘ ۔

*۔۔۔ سعودی حکومت اگرچہ اس معاہدے پر کھلم کھلا تنقید تو نہیں کر رہی، لیکن اس کی سفارتی سر گرمیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ وہ اس معاہدے کی جزیات سے خوش نہیں ۔ معاہدے کی ٹیکنیکل تفصیلات پر تحفظات اور خدشات کے ساتھ سعودی عرب کو امریکہ اور ایران کی قربت بھی ’’وا را‘‘ نہیں کھاتی۔ اس کے مطابق ایران کی تنصیبات اور اہلیت بدستور بر قرار رہیں گی،دوسری طرف جب تک ’’جارحانہ اقدامات‘‘ کے ذریعے نہ روکا گیا، ایران مشرق وسطیٰ میں اپنے ’’دہشت گرد حامیوں‘‘ کی امداد میں اضافہ کرنے کا اہل ہو جاے گا، لیکن ایسا کرنے کی صورت میں ردعمل کے طور پر ایران معاہدے پر عمل درآمد کرنے سے انکار بھی کر سکتا ہے،پھر وہی ماضی کی سر گرمیاں دہرائی جائیں گی۔ پابندیاں ، مذاکرات، ناکام مذاکرات، کامیاب ، مذاکرات۔

*۔۔۔ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایٹمی معاہدے اور مشرق وسطیٰ کو علیحدہ علیحدہ تناظر میں دیکھا جائے اور’’Handle‘‘ کیا جائے، لیکن شام ، عراق اور یمن کی ’’داخلی‘‘ صورت حال ایران کے ساتھ معاہدے کے ہاتھوں یرغمال ہے، کیونکہ امریکہ اور اس کے ساتھ باقی طاقتیں نہیں چاہیں گی کہ ایران پر اس قسم کا دباؤ ڈالا جائے،جو اسے ایک بہانہ مہیا کرے کہ وہ معاہدے میں عائد پابندیوں سے آزاد ہونے کا اعلان کر دے۔ سعودی عرب اور اس کے اتحاد یوں کو یہی خدشہ ہے۔

*۔۔۔ دوسری طرف اسلامی ریاست یا اسلامی خلافت کے خلاف(داعش) بین الاقوامی کو ششوں میں بھی ایران کا اہم کردار ہے، جس کی مدد کے بغیر انہیں شکست نہیں دی جا سکتی۔ سعودی عرب کے خیال میں یہ بھی ایک وجہ ہے، جس کے لئے امریکہ نے ایٹمی معاہدے میں ایران کو رعایت دی ۔سعودی عرب یہ سمجھتا ہے کہ یہ امریکہ کی غلطی ہے، کیونکہ ایران کو پابندیاں اُٹھ جانے کے بعد جو وسائل مہیا ہوں گے ان سے وہ مشرق وسطیٰ میں اپنے حامیوں کی بہتر طور پر امداد کر سکنے کی پوزیشن میں ہو گا، جو سعودی عرب کے ساتھ ساتھ امریکی مفادات کے بھی خلاف ہو گا، کیونکہ وسائل مہیا ہو جانے کے بعد ایران زیادہ بااعتماد طریقے سے مشرق وسطیٰ میں ’’Move‘‘کرے گا، کچھ طاقت، کچھ وسائل، نئی حکمتِ عملی اور بدلتی صورت حال کے پیش نظر عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی پوزیشن میں ہو گا، قطر اور اومان جو بیک ڈور ڈپلومیسی کا حصہ تھے، انہیں بھی اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کرے گا، ایسی صورت حال میں سعودی عرب کے پاس صرف ’’سنی‘‘کارڈ کھیلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا، اور یہ سارے عالم اسلام میں اثرات مرتب کرے گا، کیونکہ شیعہ اور سُنی تو ہر مسلم ملک میں موجود ہیں۔ ایران ، ترکی اور حماس کو بھی ساتھ ملانے کی کوشش کرے گا تا کہ حزب اللہ کا مقابلہ کیا جا سکے۔ یہ معاہدہ یران کو ایٹم بم بنانے سے تو ’’شاید‘‘ روک پائے، لیکن اس کے اثرات بڑے دور رس اور عالمی سطح پر مرتب ہوں گے، بلکہ ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

*۔۔۔ سعودی عرب شاید فوری طور پر اپنا ایٹمی پروگرام شروع نہ کرے، لیکن ایک عرصہ سے ،جب ایران کے ساتھ مذاکرات کا اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھ رہا تھا، اس وقت سے سعودی عرب اس بارے میں سوچ رہا ہے اور شاید کچھ ابتدائی کام بھی ہو گیا ہو، یہ ایک نئی اور خطرناک صورت حال ہو گی۔ غالباً 2006ء میں سعودی عرب کی طرف سے یہ عندیہ دے دیا گیا تھاکہ 100 ارب ڈالرز سے شروع کیا جانے والا پروگرام کس مرحلے میں ہے۔ شاید امریکہ کے علم میں ہو، جو ایران کے ساتھ معاہدے کے لئے باقی عوامل کے ساتھ اس کی وجہ سے بھی بے چین تھا۔ سعودی عرب نے اس سلسلے میں بظاہر ایٹمی توانائی کے پُرامن مقاصد کے حصول کے لئے روس، ارجنٹائن، چین، کوریا اور فرانس کے ساتھ معاہدے بھی کر لئے ہیں اور وہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ’’ہمیں بھی کھیل آتا ہے۔۔۔"we can also play game"اور ۔۔۔ بین الا قوامی برادری پر دباؤ ڈالنے کے لئے وہ ایران کو ہر قیمت پر معاہدے کی پابندی کرنے پر مجبور کرے۔ سعودی عرب کی طرف سے اپنا پروگرام شروع کرنے اور جاری رکھنے کے اشارے ملتے رہیں گے ،امریکہ کی مخالفت کی پرواہ کئے بغیر پروگرام شروع بھی جائے گا، کیونکہ سعودی عرب کسی بھی قیمت پر مشرق وسطیٰ اور خطے میں ایران کی بالا دستی نہ قبول کرتا ہے اور نہ ہی برداشت کرتا ہے۔ ظاہر ہے موجودہ صورت حال اس کے لئے قابل قبول نہیں، اب سعودی عرب کا رد عمل کیا ہو سکتا ہے؟ امریکہ کی طرف سے تحفظ کی گارنٹی نہیں ،بلکہ مکمل ضمانت "security Cover" خطے کو ایٹم سے پاک Nuclear-free قرار دلوانا، لیکن اسرائیل کی وجہ سے اس مطالبے کو امریکہ کی حمایت حاصل نہیں ہو سکتی، لیکن مطالبہ تو ہو سکتا ہے کہ ’’اگر ایران کو ایٹمی طاقت بننے کی اجازت نہیں تو پھر اسرائیل کو اس سے مبرا رکھا جائے‘‘ ؟۔۔۔لہٰذا سعودی عرب نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے تحفظ کے لئے نیوکلیئر آپشن پر مجبور ہو گا ،مشرق وسطیٰ میں صرف سعودی عرب کے پاس ہی وسائل ہیں جو اس پروگرام کے لئے درکار ہیں، سعودی عرب اپنا حق تسلیم کروانے پر زور دے گا، اگرچہ اس وقت سعودی عرب کے پاس یہ سہولتیں جو ہونی چاہئیں، نہیں ہیں، لیکن ایران پر دس سال کی پابندی کے دوران بہت کچھ کیا جا سکتا ہے،اور سعودی عرب کرنے کی کوشش کرے گا۔

پُرامن ایٹمی پروگرام کے لئے کئی ممالک سے امداد لے سکتا ہے، پاکستان بھی، جس کے ساتھ سعودی عرب کے بہت قریبی تعلقات ہیں ’’پُرامن ایٹمی پروگرام‘‘ کے لئے مدد دے سکتا ہے، اگرچہ یمن کے مسئلے پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات متاثر ہوئے ہیں، لیکن سعودی عرب پاکستانی معیشت کو سنبھالا دینے میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے، وہاں مقیم پاکستانی ہنر مندوں، مزدوروں، کی طرف سے قابل ذکر زرمبادلہ پاکستان میں آتا ہے، لہٰذا اسے ناممکن نہیں کہا جا سکتااور نہ ہی نظر انداز کیا جا سکتا سرکاری طور پر نہ سہی، ڈنکے کی چوٹ نہ سہی، کیونکہ پاکستان کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ اپنے مسائل ہیں، جو پیدا کئے گئے ہیں، حال ہی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات بھی اِسی سلسلے کی کڑی ہیں ۔

*۔۔۔ چونکہ ایٹمی پروگرام ایک وسیع المدتی پروگرام ہے ،سعودی عرب ایسے اقدامات کرنے کی کوشش کرے گا، جن سے ایران کی اہمیت کم ہو ۔یہ بھی ممکنات میں سے ہے کہ کوئی مُلک اِس سلسلے میں سعودی عرب کی مدد کے لئے تیار بھی ہو جائے۔ ایران ایٹمی دھماکہ بھی کروائے، لیکن ایک بات یقینی ہے کہ جدید ترین اسلحہ، بری، بحری، فضائی افواج کے لئے سعودی عرب کی اولین ترجیح ہو گی۔ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی بڑے حادثے کی صورت میں اسرائیل بھی متاثر ہو گا، جس سے عالمی سیاست کا رخ تبدیل ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکہ یہ کسی قیمت پر بھی نہیں چاہے گا ۔ اسرائیل بھی کسی ایسے حادثے سے بچنے کے لئے انٹیلی جنس معلومات ، خصوصاً سعودی عرب پر نظر رکھے گا کہ وہ ایران کے پروگرام کے جواب میں اپنا ایٹمی پروگرام تو شروع نہیں کر رہا، کیونکہ ایسی صورت میں اس کے لئے خطرات بڑھ جائیں گے ۔

مزید :

کالم -