کسانوں کی فلاح کے لئے تاریخی زرعی پیکیج

کسانوں کی فلاح کے لئے تاریخی زرعی پیکیج
کسانوں کی فلاح کے لئے تاریخی زرعی پیکیج

  

کھاد کی بوری 500روپے سستی ، 20ارب روپے کا فنڈ قائم

زراعت پاکستان کی معیشت میں شہ رگ کا درجہ رکھتی ہے اور قومی پیداوار میں زرعی شعبے کا حصہ نمایاں ہے۔ یہ واحد شعبہ ہے جس میں خواتین کی نمائندگی دوسرے شعبوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ ماضی میں حکومتوں نے زراعت اور اس سے وابستہ افراد کی بہتری کیلئے کوئی جامع اقدامات نہیں اٹھائے۔ پاکستان مسلم لیگ کی حکومت جب بھی برسراقتدار آئی اس نے کسان کی حالت کو سدھارنے اور انہیں ہرممکن سہولیات کی فراہمی کیلئے کوشاں رہی ہے۔ حکومت زراعت کی ترقی، زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ اور اعلیٰ معیار کی زرعی اجناس پیدا کرنے کے جامع پروگرام پر عمل پیرا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کاشتکاروں کو ان کی زرعی پیداوار کی مناسب قیمت دلائے بغیر زرعی ترقی کی منزل حاصل نہیں کی جاسکتی۔

وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف کسانوں کے مسائل کا بھرپور ادراک رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کسان کی فلاح وبہبود، ان کو پیداوار کا صحیح معاوضہ دلانے اور ان کی مشکلات کو کم کرنے کیلئے اربوں روپے مالیت کے تاریخی زرعی پیکیج کااعلان کیا ہے۔ بے شک 14ستمبر کا دن تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے زرعی پیداواری لاگت کو کم کرنے کیلئے جن اقدامات کا اعلان کیا ہے اس کے مطابق زرعی مشینری کی درآمد پر ٹیکسز 43فی صد سے کم کرکے صرف 9فیصد مقرر کئے ہیں جبکہ زرعی اجناس، پھلوں، سبزیوں اور مچھلی کی تجارت کیلئے کولڈ چین تعمیر کرنے کیلئے 3سال کیلئے انکم ٹیکس کی چھوٹ دی ہے۔ زمین کی تیاری، زرعی مشینری، فصل کی کاشت،کٹائی، آب رسانی، نکاسی آب اور ذخیرہ کرنے کیلئے استعمال ہونے والی مشینری کی درآمد اور مقامی خریداری پر سیلزٹیکس 17فی صد سے کم کرکے صرف 7فیصد مقرر کیا ہے۔ تازہ دودھ، پولٹری اور مچھلی کی مشروط سپلائی پر ودہولڈنگ ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے۔ چھوٹے کسانوں کیلئے سولر ٹیوب ویلز کی تنصیب کیلئے 14.5ارب روپے کے بلاسود قرضے جاری کئے جائیں گے جبکہ 14ارب روپے سے ٹیوب ویلز کیلئے رعایتی نرخوں کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ پیک آورز میں بجلی کی قیمت 10.35روپے فی یونٹ اور آف پیک آواز میں 8.85روپے فی یونٹ ہوگی۔

دنیا بھر میں زرعی اجناس کی قیمتیں کم ہونے سے کسانوں کی آمدنی متاثر ہوئی ہے جبکہ بیج، کھاد اور زرعی ادویات وغیرہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے اس توازن کو برقرار رکھنے کیلئے اور کھاد کی قیمتیں کم کرنے کیلئے 20ارب روپے کا فنڈ قائم کرنے کااعلان کیاہے جس میں صوبائی و وفاقی حکومتیں برابر کی حصہ دار ہوں گی۔ وزیراعظم نے پوٹاشیم اور فاسفیٹ کھاد کی قیمتوں میں فی بوری کم از کم 500 روپے کمی اور یوریا کھاد پر فی بوری 200روپے کم کرنے کااعلان کیا ہے۔ رواں مالی سال میں اس مد میں 25ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ کاشت کار اپنی پوری محنت اور سرمایہ کاری کھیتوں میں کرتا ہے اور اس کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔ بعض اوقات ناگہانی آفات کی بناء پر پوری محنت رائیگاں چلی جاتی ہے لہٰذا فصلوں کی انشورنس کا اعلان کیا گیا ہے مگر بعض چھوٹے کسان انشورنس کی قسط دینے کی سکت نہیں رکھتے لہٰذا حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ فصلوں کیلئے اٹھائے گئے قرضوں کی انشورنس کیلئے Premiumحکومت خود ادا کرے گی جس پر اڑھائی ارب روپے خرچ آئیں گے جس سے تقریباً 7لاکھ چھوٹے کاشتکاروں کو فائدہ پہنچے گا۔ زرعی پیکیج میں کاشتکاروں کے نقصانات کا ازالہ کرنے کیلئے کئی اقدامات کا اعلان کیاگیا ہے۔ بین الاقوامی منڈیوں میں اناج کی قیمتیں کم ہونے اور قدرتی آفات کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کے ازالہ کیلئے حکومت نے کپاس اور چاول کے کاشتکاروں کو 40ارب روپے سے 5000روپے فی ایکڑ مالی مدد دینے کا اعلان کیاہے۔ اسی طرح چھوٹے کاشتکاروں کی سہولت کیلئے ٹیوب ویل کے بجلی کے بلوں کی ادائیگی کی مدت میں 30جون 2016ء تک توسیع کر دی ہے۔ چاول کی نئی فصل کی خرید ممکن بنانے کیلئے چاول کے تاجروں کیلئے قرضوں کی واپسی کی مدت میں 30جون 2016تک بڑھا دی گئی ہے۔رواں سال چاول کی خرید و فروخت میں تاجر طبقہ کو بھی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت نے اس کے ازالہ کیلئے فیصلہ کیا ہے کہ سال 2015-16کیلئے چاول مل مالکان کو ٹرن اوور ٹیکس میں چھوٹ دی جائے گی۔

وزیراعظم پاکستان نے زرعی قرضوں میں اضافہ اور ان کی آسان فراہمی کیلئے جامع اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے کسانوں کو بروقت سرمایہ کی فراہمی اور انہیں آڑھتیوں اور ساہوکاروں سے نجات دلانے کیلئے اقدامات اٹھائے ہیں۔ موجودہ حکومت جب برسراقتدار آئی تو بنکوں کے ذریعے زرعی شعبے کو تین سو ارب روپے قرض کی سہولت دی جا رہی تھی۔ پاکستان مسلم لیگ کی حکومت نے اسے بڑھاکر پانچ سو ارب کر دیا اور رواں مالی سال میں مزید ایک سو ارب روپے کا اضافہ کر دیاہے۔ اضافی قرضے ساڑھے بارہ ایکڑ رقبہ والے کسانوں کو دیئے جائیں گے اور آنے والے دو سال میں یہ رقم مزید بڑھا دی جائے گی۔ حکومت نے زرعی اراضی کی پیداواری قدر 2000روپے سے بڑھاکر 4000روپے مقرر کرنے کااعلان کیا ہے۔اسی طرح قرضوں پر مارک اپ کی شرح میں 2فیصد کی کمی کی ہے۔2.5ارب روپے سے زرعی قرضوں کی مفت انشورنس کا انقلابی پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔ چھوٹے کاشتکاروں کو زرعی قرضے دینے والے کمرشل اور مائیکر و فنانس بنکوں کیلئے 30 سے 50فیصد نقصان کی گارنٹی کی سکیم جس کی بدولت 5ایکڑ نہری اور 10ایکڑ بارانی زمین والے 3لاکھ کسانوں کو بغیر سکیورٹی ایک لاکھ روپے تک کے قرضہ جات فراہم کئے جائیں گے۔وفاقی حکومت کی طرف سے جاری کردہ زرعی پیکیج سے پاکستان بھر میں کسانوں خصوصاً چھوٹے کسانوں کو 147ارب روپے کا براہ راست فائدہ ہوگا جبکہ زرعی شعبے کو 149ارب روپے کے اضافی قرضے میسر آئیں گے۔ اس طرح زرعی شعبے کو کل 341ارب روپے کے قرضے حاصل ہوسکیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وفاقی حکومت کے زرعی پیکیج سے کسانوں کے حالات کار میں نہ صرف بہتری آئے گی بلکہ ملکی معیشت پروان چڑھے گی اور ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حکومت پنجاب نے وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کی قیادت میں کسانوں کی ترقی اور زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے جامع اقدامات اٹھائے ہیں جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ حکومت پنجاب زرعی شعبہ کے ترقیاتی بجٹ میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔ مالی سال 2014-15میں زرعت کے ترقیاتی بجٹ کیلئے 7ارب 69کروڑ روپے مہیا کئے گئے تھے جبکہ موجودہ مالی سال کے بجٹ میں 10ارب 62کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اسی طرح صوبائی حکومت نے گذشتہ 7برسوں کے دوران کاشتکاروں کو شفاف طریقے سے 30ہزار ٹریکٹرز فراہم کئے ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت نے 2لاکھ روپے فی ٹریکٹر پر سبسڈی دینے کیلئے 6ارب روپے فراہم کئے۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کی ہدایت پر حکومت پنجاب نے گندم کی امدادی قیمت 1300روپے من اور گنے کی امدادی قیمت 180روپے فی من مقرر کی تاکہ کاشتکاروں کے معاشی حالات کو بہتر بنایاجاسکے۔اس کے برعکس سندھ میں کاشتکاروں کو گنے کی قیمت 155روپے فی من سے زیادہ نہ مل سکی۔حکومت پنجاب نے دیہی علاقوں میں سڑکوں کے نیٹ ورک کو بہتر بنانے کیلئے اربوں روپے کی لاگت سے تاریخی پروگرام ’’پکیاں سڑکاں سوکھے پینڈے‘‘ کا آغاز کیا ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد کسانوں کی پیداوار کو کھیت سے منڈی تک آسانی اور بروقت پہنچانا ہے۔

مزید :

کالم -