داعش کے ہاتھوں تنگ آئی لڑکی نے ایسا کام کرڈالا کہ دنیا میں ہنگامہ برپا ہوگیا

داعش کے ہاتھوں تنگ آئی لڑکی نے ایسا کام کرڈالا کہ دنیا میں ہنگامہ برپا ہوگیا
داعش کے ہاتھوں تنگ آئی لڑکی نے ایسا کام کرڈالا کہ دنیا میں ہنگامہ برپا ہوگیا

  

لندن (نیوز ڈیسک) شدت پسند تنظیم داعش کی گولیوں اور بموں کا نشانہ بن کر دنیا سے رخصت ہونے والوں کی خبریں تو روز سامنے آتی ہیں مگر برطانیہ میں ایک طالبہ نے اس تنظیم کے مظالم کی خبروں اور ویڈیوز سے تنگ آ کر ہی اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 19 سالہ نتاشا کسانڈا یونیورسٹی آف ہل کی طالبہ تھیں اور ان کے والدین اور اساتذہ کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی اور محنتی قابل طالبہ تھیں۔ انہوں نے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری شروع کی ہی تھی کہ شدید ذہنی مسائل اور ڈپریشن کی شکار ہوگئیں ۔ نتاشا کی والدہ نے بتایا کہ وہ ایک عرصے سے ذہنی مسائل سے دوچار تھیں اور جب بھی ظلم و تشدد کے واقعات ان کے علم میں آتے تو وہ شدید پریشان ہوجاتی تھیں۔ نتاشا کے والدین ان کی خود کشی سے کچھ عرصہ قبل یونیورسٹی آئے اور اپنی بیٹی سے ملاقات کی۔ ان کی والدہ نے بتایا کہ اس موقع پر نتاشا نے بار بار داعش کے مظالم کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہ اس کی وجہ سے شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں۔ نتاشا کا کہنا تھا ”دنیا تکلیف دہ باتوں سے بھری ہوئی ہے۔ جو لوگ مرنا نہیں چاہتے انہیں کیوں ماردیا جاتاہے، اور جو مرنا چاہتے ہیں وہ اپنی زندگی ختم کیوں نہیں کرپاتے؟“ نتاشا کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کی غمزدہ بیٹی کا اشارہ اپنی طرف تھا کہ وہ دنیا میں غم و الم دیکھ کر اپنی زندگی ختم کرنا چاہتی تھی مگر ایسا کر نہیں پارہی تھی۔

پولیس افسر کی 3 چپس چرانے پر خاتون گرفتار

اس ملاقات کے کچھ ہی عرصے بعد بدقسمت والدین کو خبر مل گئی کہ ان کی بیٹی نے اپنے ہوسٹل کے کمرے میں خود کشی کرلی تھی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نتاشا ڈپریشن میں مبتلا تھیں اور ان کے رویے سے شدید پریشانی اور اذیت بھی عیاں تھی لیکن کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اپنی زندگی ہی ختم کرنے والی ہیں۔ پولیس رپورٹ کے مطابق انہوں نے انٹرنیٹ کے ذریعے زہر خریدا تھا اور پھر اپنے ہوسٹل کے کمرے میں اسے پی کر زندگی کا خاتمہ کرلیا تھا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -