حادثہ میں خاتون کی ہلاکت، پولیس والا جب جائے وقوعہ پر پہنچا تو ایسی حقیقت سامنے آگئی کہ آج تک اس کے آنسو نہیں رک سکے

حادثہ میں خاتون کی ہلاکت، پولیس والا جب جائے وقوعہ پر پہنچا تو ایسی حقیقت ...
حادثہ میں خاتون کی ہلاکت، پولیس والا جب جائے وقوعہ پر پہنچا تو ایسی حقیقت سامنے آگئی کہ آج تک اس کے آنسو نہیں رک سکے

  

لندن (نیوز ڈیسک) قسمت انسان کو بعض اوقات ایسے حالات سے دوچار کردیتی ہے کہ جس کا تصور کبھی خواب میں بھی نہیں کیا ہوتا، اور شاید اسے ہی قسمت کی ستم ظریفی کہا جاتا ہے۔ برطانیہ میں ایک پولیس اہلکار کے ساتھ بھی ایسا ہی ناقابل یقین واقعہ پیش آگیا کہ بیچارہ ایک حادثے کی تحقیق کے لئے گیا اور سسکیاں بھرتا واپس آیا۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق مانچسٹر پولیس کے اہلکار راب سمتھ کو سٹریٹفرڈ کے علاقے میں ایک حادثے کی تحقیقات کے لئے بھیجا گیا تھا۔ راب جائے حادثہ پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ ایک تیز رفتار گاڑی نے ایک معمر خاتون کو ٹکر ماردی تھی جس کے نتیجے میں خاتون موقع پر ہلاک ہوگئی تھی۔ اس کے جائے حادثہ پر پہنچنے سے پہلے ہی بدقسمت خاتون کی لاش ہسپتال منتقل کی جاچکی تھی۔ ابھی وہ جائے حادثے سے شواہد اکٹھے کر ہی رہا تھا کہ اسے ایک فون کال موصول ہوئی جس میں یہ اندوہناک خبر سنائی گئی کہ سٹریٹفرڈ کے علاقے میں حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں اس کی والدہ دنیا سے رخصت ہوگئی تھیں۔ اس وقت راب عین اسی جگہ پر کھڑا تھا جہاں چند منٹ قبل اس کی والدہ نے سڑک پر تڑپ تڑپ کر جان دے دی تھی۔

حمل کا ٹیسٹ عورتوں کو ہی نہیں بلکہ مَردوں کو بھی کروانا چاہیے، سائنسدانوں نے ایسی وجہ بتادی کہ تمام مرد یہ ٹیسٹ کروانے بھاگ پڑیں گے

راب کو جب معلوم ہوا کہ وہ اپنی ہی والدہ کی موت کی تحقیقات کررہا تھا تو اس کا دل صدمے سے بے حال ہوگیا اور بیچارہ سڑک پر بیٹھ کر آنسو بہانے لگا۔ مانچسٹر پولیس کا کہنا ہے کہ اعلیٰ افسران کو جب معلوم ہوا کہ جائے حادثہ پر تحقیقات کے لئے بھیجے گئے اہلکار راب سمتھ کی والدہ ہی اس جگہ ہلاک ہوئی تھیں تو فوری طور پر مزید اہلکاروں کو ان کے پاس بھیجا گیا۔ راب جائے حادثہ پر موجود تھے اور غم سے نڈھال تھے جس پر ان کے ساتھیوں نے انہیں سہارا دیا اور انہیں اپنے ساتھ لے کر ہسپتال روانہ ہوئے۔

راب کی والدہ سوزن کے بارے میں ان کے عزیز و اقارب کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی زندہ دل اور شفیق خاتون تھیں۔ وہ اپنے دوستوں اور عزیز و اقارب سے باقاعدگی کے ساتھ ملاقات کرتی تھیں اور ہمیشہ ان کی ضروریات کا خیال رکھتی تھیں۔ حادثے کے روز بھی وہ اپنے عزیز و اقارب سے ملاقات کے بعد گھر کی جانب پیدل رواں دواں تھیں کہ سٹریٹفرڈ کے علاقے میں ایک چوراہے میں ایک گاڑی نے انہیں کچل دیا۔ گاڑی کے 33 سالہ ڈرائیور کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ نشے میں تھا اور اس کی حالت ڈرائیونگ کرنے کے قابل نہ تھی۔ ملزم کو گرفتار کر کے اس کے خلاف قانونی کاروائی شروع کر دی گئی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -