سعودی عرب کی جیل میں قید ہندو کو ایک ایسی خوبصورت چیزمل گئی کہ ہر کوئی جیل میں ساری عمر رہنا پسند کرے گا

سعودی عرب کی جیل میں قید ہندو کو ایک ایسی خوبصورت چیزمل گئی کہ ہر کوئی جیل میں ...
سعودی عرب کی جیل میں قید ہندو کو ایک ایسی خوبصورت چیزمل گئی کہ ہر کوئی جیل میں ساری عمر رہنا پسند کرے گا

  

مکہ (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں قید ایک ہندو شخص کو قید خانے میں ہی ایسی عظیم الشان نعمت مل گئی کہ جس پر آزادی جیسی نعمت کو بھی ہزار بار قربان کیا جاسکتا ہے۔

سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق اس شخص کو رشوت ستانی کے جرم میں جیل بھیجا گیا تھا۔ تین ماہ کی قید کے دوران اس نے جیل میں درس قرآن دینے والے علماءکی قربت اختیار کی اور مختصر عرصے میں ہی اسلامی تعلیمات کی جانب راغب ہونے لگا۔ حج سے کچھ دن قبل بالآخر اس کی زندگی اس وقت بدل گئی جب اس نے اسلام قبول کرلیا اور یوں قید خانے میں رہتے ہوئے بھی زندگی کی سب سے بڑی نعمت پالی۔

نو مسلم برطانوی سفیر کی اہلیہ کے ہمراہ حج کی ادائیگی

قبول اسلام کے متعلق بات کرتے ہوئے اس خوش قسمت شخص کا کہنا تھا ”میں سمجھتا تھا مسلمان تمام غیرمسلموں کا استحصال کرتے ہیں، لیکن میں غلطی پر تھا۔ میرے ساتھ انتہائی شفقت کا سلوک کیا گیا اور ہندو ہونے کے باوجود میرے ساتھ عزت سے معاملات کئے گئے۔ میرے جرم کے باوجود کسی نے ہندو مت کی توہین نہیں کی۔ جب میں نے جیل میں مسلم علماءکی کلاس میں شمولیت اختیار کی تو خود کو اسلام کی جانب راغب محسوس کیا۔ مجھے قرآن مجید کے الفاظ سننے میں لطف محسوس ہوتا تھا اور مجھے لگا کہ یہ کلام دل اور روح پر اثر کرتا ہے۔ میں نے بالآخر جان لیا کہ انسانوں کی رہنمائی کے لئے اصل راستہ اسلام ہی ہے اور مجھے اب اس پر پختہ یقین ہے۔“

مکہ پرزن کے ڈائریکٹر میجر جنرل عبداللہ المقاتی کا کہنا تھا کہ ہندو قیدی کے قبول اسلام پر اس کے ساتھی مسلمان قیدیوں اور جیل کے افسران نے ایک چھوٹی سی تقریب کا اہتمام کیا جس میں ہر کوئی خوشی سے جھومتا نظر آیا اور اسلام قبول کرنے والے اپنے بھائی کو تحائف اور مبارکباد دیتا نظر آیا۔

نور اسلام سے منور ہونے والے اس قیدی کو قبول اسلام کے بعد ایک اور خوبصورت تحفہ حج کی سعادت کی صورت میں ملا۔ امیر مکہ اور سنٹرل حج کمیٹی کے چیئرمین پرنس خالد الفیصل نے حکم جاری کیا کہ بھارتی قیدی کو حج کی سعادت حاصل کرنے کی اجازت دی جائے۔ یوں اس خوش قسمت شخص کو قبول اسلام کے فوری بعد حج کی سعادت بھی نصیب ہوگئی، جس پر اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔

مزید :

عرب دنیا -