کوک اسٹوڈیو میں سائیں ظہور اور صنم ماروی کی دوبارہ واپسی

کوک اسٹوڈیو میں سائیں ظہور اور صنم ماروی کی دوبارہ واپسی

  

لاہور(پ ر) کوک اسٹوڈیو کا سیزن 9 اپنے آخری مرحلے میں پہنچ گیا ہے اور اس کی آخری سے پہلے والی قسط بروز ہفتہ 17 ستمبر کو نشر کی جائے گی۔ اس سیزن کی چھٹی قسط میں سائیں ظہور اور صنم ماروی، ڈامیا فاروق اور باسط علی، مومنہ مستحسن اور عاصم اظہر، رضوان بٹ اور سارا حیدر کی حیران کن پرفارمنس شامل ہے۔ صنم ماروی اور سائیں ظہور نے اس سے قبل 2013 کے دوران کوک اسٹوڈیو کے پلیٹ فارم پر سیزن 6 میں اکھٹے پرفارم کیا ہے۔ ان کی شاندار آوازیں ایسا سرور سے بھرپور احساس پیدا کرتی ہیں جس کی بدولت نغمے کو ایک نیا عروج مل جاتا ہے۔ اس قسط میں 4 گانے شامل ہیں۔ جن میں صنم ماروی اور سائیں ظہور کا گانا 'لگی بنا'، ڈامیا فاروق اور باسط علی کا گانا 'انوکھا لاڈلا'، عاصم اظہر اور مومنہ مستحسن کا گانا 'تیرا وہ پیار' اور رضوان بٹ اور سارا حیدر کا گانا 'میری میری' موجود ہیں۔ اس قسط کے پہلے گانے کی ابتداء میں اصلی گانے 'انوکھے لاڈلے' کی پرانی یاد تازہ ہوجاتی ہے جسے ڈامیا فاروق نے نرم آواز سے مہیز بخشی ہے۔ یہ گانا اچانک ایک سیکنڈ کے لئے رکتا ہے اور اصلی نغمے کی تشکیل کی جانب آگے بڑھتا ہے جس میں باسط علی کی آواز نمایاں اور مضبوط انداز سے جگہ لیتی ہے۔ اسے رئیس فروغ نے لکھا ہے اور عاشق علی نے کمپوزنگ کی۔ اس گانے میں یہ دونوں گائیک ایک طرح سے سبقت لئے ہوئے ہیں جن میں شاندار ڈرم بیٹ، گٹار اور ماہرانہ انداز سے بجایا جانے والا ستار شامل ہے۔ یہ وقت تھم جانے والی ماہرانہ دھن فراہم کرتا ہے اور روح کو طاقت بخشتا ہے۔ اس قسط میں دوسرے گانے 'تیرا وہ پیار' کو بہترین طور پر متاثرکن، خوبصورت اور روح جھنجھوڑ دینے والا گانا قرار دیا جاسکتا ہے جس میں مومنہ مستحسن نے عاصم اظہر کے ساتھ گایا ہے۔

اس رومانوی اور دھیمے گانے کو اصل میں شجاع حیدر نے گایا تھا جو اب یہاں میوزک ڈائریکٹر کے طور پر شامل ہیں جس میں انہوں نے دل سے کام کیا ہے۔ اس گانے میں پیانو کی نرم آواز اور ستار کی ہلکی آواز مومنہ کی سریلی آواز کی مطابقت کا ماحول پیدا ہوتا ہے جسے انتہائی متانت کے ساتھ گایا گیا۔ جس کی رومانوی کہانی میں عاصم وائلن کے ساتھ جذبات سے بھرپور انصاف کررہے ہیں ۔ اس گانے کے درمیان تیزی آتی ہے جس میں پاکستان کے حالیہ ماضی کی پاپ اصناف کے عناصر اکھٹے لائے گئے ہیں جو آپ کو ایسے تصوراتی جگہ لے جاتے ہیں اور رومان اور کشش کے درمیان چھوڑے دیتے ہیں۔ اس قسط کے تیسرے گانے 'میری میری' میں بلے شاہ کا کلام کو دوبارہ پیش کیا گیا ہے۔

یہ گانا اچانک موڈی ماحول کی آواز سے بڑھ کر ایسا بن جاتا ہے جس میں رضوان نے سارا حیدر کے ساتھ صوفی انداز سے گایا ہے۔ اس گانے کی ابتداء گٹار کی مستحکم آواز سے ہوتی ہے جو آپ کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتی ہے۔ رضوان کی آواز آپ کو اپنی جانب مبذول کرتی ہے جو مستحکم طور پر جذبات کو خاموشی سے منتقل کرتی ہے۔ اس گانے کی دھمک کنٹری ویسٹرن اور صوفی اسٹائل پر مبنی ہے جس میں آئرش میوزک کا بھی انتظام ہے۔ اس میں بلیوز گٹار چلانے کے طریقے غیرمعمولی طور پر استعمال کئے گئے ہیں، جن کے ہمراہ سارا کی آواز بہترین انداز سے ساز سے جاملتی ہے جس کی بدولت انہیں گانے میں بھرپور توانائی اور بہترین شخصیت کے ساتھ نمایاں طور پر سبقت ملتی ہے۔

اس قسط کے آخری گانے 'لگی بنا' میں سائیں ظہور کی صنم ماروی کے ساتھ طاقتور آواز کا ملاپ ہے، اس گانے میں وارث شاہ کے کلام کے ساتھ ان کی پرسوز آواز بھی شامل ہے۔ اس کی دھن آپ کو آغاز سے ہی اپنی گرفت میں لے لیگی اور پورے گانے میں یہ گرفت برقرار رہے گی۔ سندھی اور پنجابی لوک طرز کے امتزاج کے ساتھ میوزک ڈائریکٹر جعفر زیدی نے ایسی آواز تخلیق کی ہے جہاں ہاؤس بینڈ کے آلات کی آواز کا ملاپ ہے جبکہ بول کے جذبات کو برقرار رکھا گیا ہے۔

مزید :

کلچر -