غدارکون: یہ فیصلہ کون کرے گا؟

غدارکون: یہ فیصلہ کون کرے گا؟

  

وطن عزیز کی تا ریخ جتنی پرانی ہے یہاں پر غداری اور حب الوطنی کے سر ٹیفکیٹ جاری کرنے کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے، یہ مکر وہ کار وبار بد قسمتی سے قیام پاکستان کے ساتھ ہی شر وع کر دیا گیا تھا، کیونکہ اس وقت بھی ہمارے معا شر ے میں اختلاف کی گنجا ئش بہت کم تھی جو وقت گز رنے کے ساتھ ساتھ اب بالکل ختم ہوتی جارہی ہے، حالا نکہ ڈائیلاگ اوراختلاف کسی بھی معا شرے کا حسن ہوا کرتا ہے ، تا ریخ کا مطا لعہ بتاتا ہے کہ جب دلیل ختم ہو جاتی ہے تو پھر غداری کے فتوے سامنے آتے ہیں یا پھر طا لبان جیسی قو تیں پر وان چڑ ھتی ہیں جو رائے عامہ کے ذریعے فیصلے کرنے کی بجائے میدان جنگ میں تلوار اور گو لی کی زبان میں فیصلے کرنے کو تر جیح دیتی ہیں قیام پاکستان کے ساتھ ہی جو غداری اورحب الوطنی کے سر ٹیفکیٹ جاری کرنے کا کارو بار شروع کیاگیا تھا، وقت کے سا تھ ساتھ اب 2016 ء میں اس کی ہیئت تبد یل ہو کر ایک نئی شکل سامنے آ ئی ہے جس کے مطابق اب غداری اور حب الوطنی کے سر ٹیفکیٹ جاری کرنے کی چند منظو ر نظر ا فراد اور چند جماعتو ں کو با قا عد ہ فر نچا ئز یں جاری کی جارہی ہیں۔اسی طر ح غداری اور حب الو طنی کے سر ٹیفکیٹ جاری کرنے کی ایک فر نچائز شیخ الاسلام طا ہر القا دری کو دی گئی ہے۔ یہ سر ٹیفکیٹ جاری کرنے کے حقوق یا فرنچائز کہاں سے ملتی ہیں اورکن شر ائط پر دی جاتی ہیں، اس کے بارے میں پوری قوم اور بچہ بچہ جان چکا ہے۔ ماضی میں یہ ہتھیار سیاسی اداروں، سیاسی شخصیات اور جمہوری قو توں کے خلا ف کون استعمال کر تا رہا ہے ، اس پر بھی کچھ کہنے یا لکھنے کی ضر ورت نہیں۔ہمارا خیال تھاکہ یہ ہتھیار اور روایتی الزام تراشی کا وطیرہ اب بہت پر انا ہو چکاہے ، بدلتے حالات کے مطا بق سیاست اور اہل سیاست کے خلاف یہ ہتھیار استعمال نہیں کیاجا ئے گا، مگر جب ایک بار پھر میدان سجنے جا رہا ہے تو منتخب حکومت کے خلاف سا زشیں ایک بار پھر عروج پر ہیں، وہی روایتی قوتیں ، وہی الزامات، وہی غداری کا ہتھیار استعمال کیاجا رہا ہے۔ البتہ ماضی کی نسبت اب یہ تبدیلی ضرو رآئی ہے کہ اب بدلتے حالات میںآزاد میڈ یا ، بیدار سو ل سو سا ئٹی ، خو د مختا ر عد لیہ اور تیز ی سے مضبو ط ہوتے ہوئے جمہوری اداروں کی وجہ سے کھیل کا انداز بدل گیا ہے۔ ماضی میں براہ راست حملہ کیا جاتا تھا، اب یہ ڈیوٹی کچھ اور لوگوں کی لگا دی گئی ہے۔ وطن عزیز کی تا ریخ بھی عجیب و غریب ہے یہاں پر اے این پی سے لے کر ایم کیوا یم تک اور قوم پرست جماعتوں ، پیپلز پارٹی سے لے کر اب مسلم لیگ (ن) تک جس شخصیت یا جماعت کو غداری کے تمغوں سے نوازا گیا، جواباً عوام نے انہی شخصیات اور جماعتوں کو بار بار حیران کن مینڈیٹ سے نوا ز ا۔ کیا عوام کی طر ف سے بار بار دیا جانے والایہ فیصلہ کن مینڈ یٹ ایسی سا زشی قو توں اور عنا صر کی آنکھیں کھولنے کے لئے کا فی نہیں ہے ؟اگر تاریخ پر نظر دو ڑ ائیں تو سا نحہ مشر قی پاکستان کے پیچھے بھی یہی محرکات نظرآتے ہیں، اگر اس وقت بھی عوامی مینڈ یٹ کا احترام کیا جاتا تو شاید آج پاکستان دنیا کے نقشے پر کسی اور شکل میں موجود ہوتا ۔اس کے باوجود کہ ماضی کے کئی غداروں با چہ خاں ،غفار خاں اور ماضی کی سیکیو رٹی رسک سیا ستدان بینظیر بھٹو کے نام سے اےئر پو رٹ اور بڑے بڑے ادارے منسو ب ہیں، مگر مجھے کو ئی ایسا ادارہ یا بلڈنگ دکھا دیں جو غداری کے سر ٹفیکٹ جاری کرنے والوں کے نام سے منسو ب کی گئی ہو یا عوام نے ایسے کر داروں کو بار بار مینڈ یٹ ، عزت اور اقتدار سے نوازا ہو۔ بات کہاں سے شر وع ہوئی اورکہاں چلی گئی ۔

قارئین با ت ہورہی تھی غداری کی نئی فر نچا ئز بمعہ میڑ یل طاہر القادری جیسی شخصیت کو دی گئی ہے جن کے کر دار سے پوری دنیا اور پاکستان کا بچہ بچہ واقف ہے۔ خا ص کر ضلع جھنگ کے تمام لوگ ان کے کر دار اور بچپن کے مخصو ص مشاغل سے پوری طر ح وا قف ہیں۔ وا قفا ن حال کا دعویٰ ہے کہ ان کے مشاغل کے دستادیزی ثبو ت بھی مو جود ہیں میں تو کل سے یہ سو چ رہا ہوں کہ اگر ان کے دستاویز ی ثبو ت لے کر رانا ثنا ء اﷲیا حنیف عباسی میدان میں آگئے تو پھر غداری کی فر نچا ئز کا کیا بنے گا؟خونی رشتو ں کو اپنی بداعمالیوں کے ذریعے پامال کرنے کے واقعات اور بکرے کے خون کوانسانی خون ظاہر کرنے کے مبینہ ڈر امے کے حوالے سے تا ریخ سا ز عد التی فیصلہ بھی تو ر یکارڈ پر موجود ہے۔یہ کس قدر تا ریخی اور خو فناک حقیقت ہے کہ شریف خاندان کی خا ندانی اتفا ق مسجد میں چند ہزار کے عوض امامت کر وانے والا طا ہر القا دری آج پاکستان سمیت دنیا کے 50سے زائد ممالک میں نہ صر ف درجنوں جائز اور ناجائز کمپنیوں کاما لک ہے، بلکہ کھر بوں روپے کی جا ئیداد کا مالک ہے، مگر جس خا ندان نے اس کو ملازم رکھا تھا، یہ خاندان اس وقت بھی ارب پتی تھا، موصوف ان کی جائید اد پر سوال اٹھا رہے ہیں اور اس سے بھی بڑا لطیفہ یہ ہے کہ مو صو ف کینیڈین شہر ی ہیں ، باقا عدہ ملکہ سے وفاداری کا حلف اٹھا چکے ہیں، سال میں 9 سے 10 ماہ کا عر صہ کینیڈا جیسے ملک کے پر فضا مقام پر گزارتے ہیں، وہاں اپنے مر یدوں سے اربوں روپے اکٹھے کرتے ہیں اور اس کے بعد ایک یا دو ماہ کے لئے پاکستان آجاتے ہیں، یہاں سے اربوں روپے اکٹھے کرتے ہیں، پھر واپس چلے جاتے ہیں۔ اب تو موصوف کی قیمت اس لحا ظ سے بہت بڑھ چکی ہے کہ مو صو ف پاکستان میں احتجاجی اورپر تشد د سیاست کا ایک اکلوتا برینڈ بن چکے ہیں،جس کو بو قت ضرو رت کوئی بھی رینٹ پرلے سکتا ہے ۔

بال ٹھا کر ے جیسی طبیعت رکھنے والا یہ شخص پاکستان کا شہر ی بننے کی بجائے کینیڈ ین شہر یت کو ترجیح دیتا ہے اور یہ بھی بھول جاتاہے کہ جس شخص کو وہ غدار کہہ رہا ہے، اس شخص نے جلا وطنی کے بدترین دور میں بھی امریکا ،برطانیہ سمیت کسی ملک کی نیشنلٹی قبول نہیں کی، بلکہ اس نے میڈان پاکستان بننے کو ہی ترجیح دی، جبکہ جس ڈکٹیڑ پرویز مشرف نے ان کو جلا وطن کیا تھا، اس نے پہلی فرصت میں برطانوی شہرت حاصل کر لی۔ پاکستان کی بدقسمتی دیکھئے کہ وہ کینیڈ ین شہری پاکستان کے جمہوری سسٹم کو نہ صرف ڈکٹیٹ کرتا ہے، بلکہ جمہوری حکومت کو ختم کر کے اپنی مرضی کا نظام لا کر اپنی بادشاہت قائم کرنے کی خواہش بھی رکھتا ہے اور وہ شخص اس بات پر بھی غور نہیں کرتا کہ اس کے سابق دوست پرویز مشرف نے جس شخص کو ملک سے نکالا، اس کو وزیر اعظم بننے سے روکنے کے لئے قانون بنایا، اس کے باوجود وزیراعظم میاں نواز شریف نے تمام رکاوٹوں کو عبور کر کے دو تہائی اکثریت کے ساتھ وزیراعظم بنا اور یہ معجزہ کسی سازش کے ذریعے نہیں، بلکہ عوام کی طاقت اور ووٹ کی طاقت سے رونما ہوا۔ اگر آپ کو یہ غصہ ہے کہ میاں نواز شریف عوام کی طاقت سے کروڑوں ووٹ لے کر دوبارہ اقتدار میں کیوں آیا تو سازش کرنے کی بجائے اس کا شکوہ اللہ تعالیٰ سے کریں کیونکہ وہی ذات ہے جو عزت اور ذلت کے فیصلے کرتی ہے۔

یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ طاہر القادری جن لسٹوں اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کو غدار ثابت کرنے پر بضد ہے، اگر اس سے وزارت داخلہ یہ تصدیق کرے کہ آپ نے یہ خفیہ رپورٹس حاصل کہاں سے کی ہیں تو طاہر القادری کو لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں، مگر میاں نواز شریف کی حکومت کی کون سی شخصیت اور کون سی وزارت ان سے یہ سوال کرے گی کہ تم کون ہوتے ہو ایسے بے بنیاد اور مشکوک کاغذات کی بنیادپر ایک ایسے شخص کو مجرم قرار دینے والے جس نے پوری دنیا کے دباؤ اور اربوں ڈالر کی پیشکش کو ٹھکرا کر بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں دھماکے کر کے پاکستا ن کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا، آج جس پر پوری قوم فخر کرتی ہے۔وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان طاہر القادری سے یہ ضرور سوال کریں کہ حضور آپ جس وقت پاکستان کے دشمنوں سے چند ٹکے لے کر پاکستان کے سنہرے مستقبل کے ضامن اور گیم چینجز منصوبے سی پیک کو رول بیک کروانے کے لئے دھرنے دے رہے ہیں، عین اس وقت آپ کی نظر میں جو شخص غدار ہے، وہ شدید بیماری کے باوجود روزانہ کی بنیاد پر انرجی،صحت ،تعلیم اور موٹروے کے منصوبوں کے افتتاح کرنے میں مصروف ہے۔

قارئین ! ایسا مذاق بھی صرف پاکستان میں ہی ہو سکتا ہے کہ عدالتی فیصلوں سے لے کر عوامی فیصلوں تک کا ریکارڈ گواہ ہے کہ شیخ الاسلام طاہر القادری ایک سند یا فتہ جھوٹا شخص ہے اور وہ کروڑوں ووٹ لے کر وزیراعظم بننے والے نوازشریف کو غدار کہہ رہا ہے ۔شیخ الاسلام سے مسلم لیگ (ن) کے ووٹر اور سپورٹر یہ سوال پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو آؤ ہمارے ساتھ عوام کی عدالت میں فیصلہ کر لو، عوا م کے ووٹ اور عوامی فیصلہ ثابت کردے گا کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا، کون غدار ہے اور کو ن محب وطن، ویسے بھی آج آزاد پرنٹ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پوری قوم کو لمحہ بہ لمحہ باخبر رکھے ہوئے ہے کہ کون پاکستان کو آگے لے کرجا رہا ہے اور کون عالمی اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ بن کر ترقی کے عمل کو روک رہا ہے ؟اب پوری قوم جانتی ہے کہ طاہر القادر ،عمران خان ،شیخ رشید اور چودھری برادران وزیراعظم کی ذاتی رہائشگاہ رائے ونڈ پر چڑھائی کر کے کس کو خوش کرنا چاہتے ہیں؟ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری نے بہت قربانیاں دے کر پاکستان کی سیاست میں مفاہمت کا کلچر متعارف کروایا تھا ،لیکن بدقسمتی سے گھیراؤ جلاؤ کے شوقین یہ ناکام سیاسی گروپ ایک بار پھر پاکستانی سیاست کو 90 ء کی دہائی میں لے جانا چاہتے ہیں۔یقیناًآج پوری قوم اور کشمیری سوچ رہے ہوں گے کہ جب وزیراعظم نواز شریف امریکا میں امریکی قیادت اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر مسئلہ کشمیر کا کیس پیش کرنے جا رہا ہے تو ایسے وقت میں حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے یہ لوگ وزیراعظم کے گھر پر چڑھائی کر رہے ہوں گے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جس وزیراعظم کے خلاف اس کے ملک میں پُر تشدد احتجاج کیا جا رہا ہو۔ وہ قوم اور کشمیریوں کا کیس کیسے پیش کرے گا، حالانکہ ایسے وقت میں تو اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو متفقہ طور پر وزیراعظم سے ملاقات کر کے ان کو روانہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ ایک مضبوط وزیر اعظم ہی قوم کا بہتر کیس لڑ سکتا ہے ۔ایسے وقت میں پرتشدد احتجاج کا فائدہ یقیناًبھارت کا ہو گا۔ اب فیصلہ قوم کو کرنا ہے کہ ان کا آخر ایجنڈا کیا ہے ؟ یہ سب کچھ آنے والے چند دنوں میں واضح ہو جائے گا اور آنے والے والا ثابت کردے گا کہ کون ملک کا وفادار ہے اور کون ملک کا غدار ہے؟ میرے خیال میں اب یہ فیصلہ ہو ہی جانا چاہیے ۔

مزید :

کالم -