ملتان کے قریب عوام ایکسپریس کا اندوہناک حادثہ!

ملتان کے قریب عوام ایکسپریس کا اندوہناک حادثہ!

  

ملتان کے قریب بچ ریلوے سٹیشن پر پشاور سے کراچی جانے والی عوام ایکسپریس اور مال گاڑی میں تصادم کی وجہ سے چھ افراد جاں بحق اور 150 سے زیادہ زخمی ہو گئے، ان میں سے درجن بھر افراد کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔ یہ حادثہ مال گاڑی کے سامنے ایک شخص کے آ جانے کے بعد مال گاڑی کو روکے رکھنے اور اِسی لائن پر عوام ایکسپریس کے آ جانے کی وجہ سے پیش آیا۔ عوام ایکسپریس بروقت روکی نہ جا سکی اور مال گاڑی سے ٹکرانے کی وجہ سے اس کی چار بوگیاں پٹری سے اُتر گئیں،یوں اتنا جانی اور مالی نقصان ہوا۔پشاور سے کراچی جانے والی عوام ایکسپریس میں وہ افراد سوار تھے، جو کراچی سے عید منانے کے لئے اپنے آبائی گھروں کو گئے اور اب واپس اپنے اپنے کام پر جا رہے تھے۔ اِس گاڑی میں کاروباری حضرات بھی تھے، جو زد میں آئے۔ زخمی ملتان کے نشتر ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ مرحومین اور زخمی ہونے والوں کے گھرانوں اور خاندانوں میں غم اور افسردگی کے بادل چھا گئے ہیں۔ریلوے کی طرف سے تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ ابتدائی طور پر عوام ایکسپریس کے ڈرائیور کو قصور وار قرار دیا گیا ہے، جبکہ ڈرائیور نے خود کو بے گناہ کہا اور بتایا کہ سگنل کا نظام سمجھ سے باہر ہے۔بہرحال تحقیقات جاری ہے، اِس سے پہلے وزیر ریلوے کی طرف سے مرحومین کے پسماندگان کے لئے 8لاکھ روپے اور زخمیوں کے لئے دو دو لاکھ روپے فی کس امدادی رقم کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ رقم جان کا بدلہ تو نہیں ہو سکتی، لیکن غم کم کرنے میں معاون ضرور ہو سکتی ہے۔

اگرچہ مکمل حالات تو تحقیقات کے بعد سامنے آئیں گے، یہاں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ سب سے بڑا تو یہ کہ کیا آگے جانے والی مال گاڑی کو کسی ریلوے سٹیشن پر روک کر عوام ایکسپریس کو گزارا جانا تھا تو مال گاڑی حادثے کی وجہ سے راستے میں روکی گئی، تو پیچھے اطلاع کیوں نہ دی گئی کہ عوام ایکسپریس یا دوسری کوئی گاڑی آ رہی ہو، تو اسے پیچھے کسی سٹیشن پر لائن کلیئر ہونے تک روک لیا جائے۔ پھر ڈرائیور پر فوری الزام لگانے سے کام نہیں چلے گا، اِس کے لئے پورے نظام کی تحقیق ہونا چاہئے۔ ریلوے غیر منافع بخش ادارہ بن چکا ہے۔ وزیر ریلوے اسے بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس کے لئے ریلوے پٹڑی کو دہرا کرنے سے، پٹڑی مرمت کے لئے جدید مشینری کی درآمد سے، نئے انجن اور بوگیاں منگوانے تک کے پروگرام اور منصوبے سامنے آ چکے ہیں۔ ریلوے کا سفر دُنیا بھر میں سستا اور محفوظ جانا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں اب تک کئی حادثات ہو چکے ہیں۔ وزیر موصوف گاڑیوں کی رفتار بھی بڑھانا چاہتے ہیں اگر نظام میں ایسی ہی خرابیاں رہیں اور حادثات ہوتے رہے تو اس سے نہ صرف عوام کا اعتماد مجروح ہو گا،بلکہ جو بیڑہ وزیر ریلوے اُٹھا چکے ہیں، وہ بھی پورا نہیں ہو پائے گا،اِس لئے اس حادثے کی تحقیقات بھی اس پیرائے میں ہونا چاہئے کہ آئندہ تحفظ کے لئے بھی سفارشات شامل ہوں۔

مزید :

اداریہ -