علامہ قادری کے دفاع میں کالم

علامہ قادری کے دفاع میں کالم
 علامہ قادری کے دفاع میں کالم

  

انتخابات میں دھاندلی کی تحریک پر عمران خان عدالت میں شکست کھا گئے تھے ، پانامہ لیکس پر عوام میں ہار گئے ہیں....اسٹیبلشمنٹ کرے نہ کرے اپوزیشن نے اپنا گھوڑا تبدیل کرلیا ہے۔ عمران خان جس بات کو نہیں سمجھ سکے وہ یہ ہے کہ سیاست کے بھی اصول ہوتے ہیں ، بے اصولی کی سیاست ناکام سیاست ہوتی ہے ، تبھی تو پانامہ لیکس پر لوگ نکل رہے ہیں نہ لیڈر کیونکہ اس تحریک میں جس کو سب سے آگے لگانے کی کوشش ہو رہی ہے ،اسے سب سے پیچھے ہونا چاہئے !

ہمارے کئی تجزیہ کار اور ٹی وی اینکر علامہ طاہرالقادری پر سیخ پا ہو رہے ہیں کہ وہ 29نومبر سے پہلے باہر کیوں چلے گئے ہیں ، انہوں نے عمران خان کا ساتھ کیوں نہیں دیا ہے، وغیرہ وغیرہ، انہیں سمجھ نہیں آرہی ہے کہ علامہ قادری کے بغیر وہ اور عمران خان حکومت کو کیسے چلتا کریں گے جبکہ طاہرالقادری کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ ان کی سپورٹ پر حکومت کو گھر کیسے بھیج سکتے ہیں ۔ اس لئے وہ عمران خان کو دغا دینے کی بجائے چغہ دے کر نکل گئے ہیں !

آخر ہمارے تجزیہ کار کیوں سمجھنا نہیں چاہتے کہ علامہ طاہرالقادری بھی فیصلے کرنے میں اتنے ہی آزاد ہیں جتنے عمران خان ہیں، قیادت کا حق خالی عمران خان کو نہیں ہے ۔ طاہرالقادری اگر عمران کے ساتھ مل سکتے ہیں تو آصف زرداری کے ساتھ کیوں نہیں مل سکتے ہیں؟....کیا ان کا حق نہیں ہے کہ وہ بھی لانگ ٹرم سیاست کریں ، ان کی سیاست کون سا عمران خان پر منحصر ہے ، چنانچہ اگر علامہ قادری نے کوئی فیصلہ کیا ہے تو وہ ایسا کرنے میں آزاد ہیں۔ اگر وہ پانامہ لیکس سے ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے لئے انصاف کا حصول زیادہ اہم سمجھتے ہیں تو انہیں اس کا پورا پورا حق ہے کیونکہ علامہ نے عمران کے ساتھ جینے اور مرنے کی قسمیں نہیں کھا رکھی ہیں ، خاص طور پر جب عمران خان ایک مرتبہ بھی چل کر منہاج القرآن ان کا شکریہ ادا کرنے یا پانامہ لیکس پر ساتھ دینے کی دعوت دینے نہیں پہنچے ہیں!

یقینی طور پر منہاج القرآن میں اس بات پر غور ہوا ہوگا کہ اگر پانامہ لیکس پر تحریک میں دو درجن مزید افراد بھی شہید کروالئے جائیں تو منہاج القرآن کو کیا ملے گا؟ کیا علامہ صاحب کو وزارت عظمیٰ مل جائے گی ؟....یا پھروہ وزیر اعظم عمران خان کی اپوزیشن سے مل کر دوبارہ سے سڑکوں پر ہوں گے؟ علامہ کے مصاحبین تفصیلی غوروخوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہوں گے کہ مزید کارکنوں کو کسی ناگزیر صورت حال سے دوچار نہیں کرنا چاہئے اور اگر ٹی وی اینکروں کو زیادہ شوق ہے تو وہ ٹی وی کیمروں کے آگے سے اٹھ کر میدان میں آجائیں اور پولیس کی آنسو گیس اور لاٹھیوں کو سہہ کر اپنے اپنے چینلوں کے لئے منظر کشی کریں۔ اس پیش منظر کے تحت اگر منہاج القرآن نے مزید وقت لیا ہے تو درست کیا ہے۔ ان کا بھی حق ہے کہ پیپلز پارٹی کی طرح دیکھیں کہ اکیلے عمران خان کی کیاسیاسی اہمیت و حیثیت ہے کیونکہ رائے ونڈ کے لئے تو عمران خان نے ملک بھر سے کارکنوں کوکال دی ہے ۔

علامہ قادری کے خلاف کارکنوں کی بغاوت کے امکانات اتنے ہی معدوم لگتے ہیں جتنے مستحکم سمجھے جا سکتے ہیں ۔ البتہ یہ بات اپنی جگہ اٹل ہے کہ میڈیا کے ایک حصے نے منہاج القرآن کی طرز سیاست کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور علامہ کے مریدین کی عقل کا ماتم بھی خوب کیا ہے ، اس لئے ممکن ہے اس مرتبہ کارکنوں نے بغاوت تو نہ کی ہو مگر علامہ کو وہ جوش و جذبہ نہ دکھایا ہو جس کی انہیں توقع تھی۔

دوسری جانب شیخ رشید بھی پی ٹی آئی کے خلاف تحفظات لئے گھوم رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران کے چند مشیر نہیں چاہتے کہ ان کا سایہ زیادہ دیر تک عمران خان پر پڑا رہے ۔ یہی مشیران یقینی طور پر عمران خا ن کو مشورہ دے رہے ہوں گے کہ اگر وزارت عظمیٰ کے سنگھاسن پر براجمان ہونا ہے تو انہیں علامہ قادری سے بھی فاصلہ رکھنا چاہئے اور زیادہ سے زیادہ سولو فلائٹ کی کوشش کرنی چاہئے۔ اسی لئے اپوزیشن مجموعی طور پر عمران خان کی طرز سیاست سے نالاں ہے اور ان کے اس سیاسی رویے کو اپنی راہ کی دیوار سمجھ رہی ہے ۔ شیخ رشید کو پوری حکومت کا سامنا الگ ہے اور الیکٹرانک میڈیا کے اینکر پرسنز کا الگ ، ان پر دوہرا دباؤ ہے ۔انہیں حکومت کو بھی ٹف ٹائم دینا ہے اور ٹی وی اینکروں کو بھی مطمئن کرنا ہے۔ خود ان کے پاس اس قدر افرادی قوت ہے نہیں کہ حکومت کو چلتا کریں ،پھر ان کی یہ تجویز کہ آرمی چیف ، چیف جسٹس اور نواز شریف بیٹھ کر مسئلے کا حل نکالیں کسی بھی جگہ سنجیدگی سے نہیں لی گئی ہے ، وہ بلاول بھٹو کو بھی عمران خان کے ساتھ کھڑا کرنے میں ناکام رہے ہیں جبکہ وزیر اعظم نواز شریف نے علیحدہ سے چیلنج کردیا ہے کہ اگلے عام انتخابات میں عوام ان کا پتہ کاٹ دیں گے، اندریں حالات ان کے لئے ایک چپ سو سکھ کی پالیسی ہی بھلی ہے۔

شیخ رشید کی طرح علامہ قادری بھی عمران کے مشیران سے نالاں ہیں کیونکہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے ورثاء کی آنکھوں میں جڑے سوال بہرحال انہیں تنگ کرتے ہوں گے جن کا پی ٹی آئی اور الیکٹرانک میڈیا بھرپور سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ پھر علامہ قادری نے جس طرح آرمی چیف کو راولپنڈی کے جلسے میں انصاف کے حصول کے لئے امتحان میں ڈالا ہے اس پر یقینی طور پر شہداء کے ورثاء کی امیدیں بڑھ گئی ہوں گی جن سے گھبرا کر علامہ صاحب نے پردہ سکرین سے غائب ہونے کا ارادہ باندھ لیا۔ آرمی چیف نے علامہ صاحب اور شہداء کے ورثاء کو پیغام بھجوایا ہوگا کہ ماڈل ٹاؤن سانحے پر عدالتی کاروائی اطمینان بخش ہے ، انہیں چاہئے کہ وہ اس ضمن میں عدالت سے بھرپور تعاون کریں ۔ اس پیغام نے مایوسی پھیلائی ہوگی جس بنا پر علامہ نے لندن روانگی میں عافیت جانی ہے۔ان کے منظر نامے سے ہٹ جانے سے پانامہ سکینڈل منظر سے ہٹا ہے یا نہیں ، تحریک قصاص ضرور ہٹ گئی ہے ۔

مزید :

کالم -