بھارت کی بلوچستان گیم۔ پرانا سکرپٹ

بھارت کی بلوچستان گیم۔ پرانا سکرپٹ
بھارت کی بلوچستان گیم۔ پرانا سکرپٹ

  

ویسے تو امریکہ نے یہ بیان دے دیا ہے کہ وہ بھارت کے وزیر اعظم مودی کے بلوچستان کے حوالے سے بیانات کی حما یت نہیں کرتا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ کے بیانات پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے وقت بھی امریکہ کا ساتواں بحری بیڑہ پہنچ رہا تھا اور نہ پہنچ سکا تھا۔اسی لئے امریکہ پر نہ تو اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ اور نہ ہی بھروسہ۔ امریکہ کا اس ضمن میں موقف جاننے کے لئے ایک بھارتی صحافی نے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان سے سوال کیا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ سوال بھارت کی حکومت نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کروایا تھا۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ یہ سوال جان بوجھ کر کروایا گیا ہے تو اس کا مقصد کیا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ بھارت کی حکومت اور را کو امریکہ کے جوا ب کاعلم نہیں تھا۔ اس کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے بھارت امریکہ سے بلوچستان پر رد عمل چاہتا تھا۔ تا کہ بلوچستان کو ایک عالمی ایشو بنایا جا سکے۔ اگر یہ سوال کسی پاکستانی صحافی نے کیا ہو تا تو کہا جا سکتا تھا کہ پاکستان نے امریکی پوزیشن کو واضح کرنے کے لئے سوال کروایا ہے۔ لیکن بھارتی صحافی کا سوال اپنی جگہ ایک گیم پلان کا حصہ لگ رہا ہے۔

جس جس طرح کشمیر میں تحریک آزادی زور پکڑ رہی ہے۔ حالات مودی کے کنٹرول سے باہر ہو رہے ہیں۔ مودی پریشان ہو گئے ہیں۔ اور اسی پریشانی میں انہوں نے پاکستان کو کشمیر کا جواب دینے کے لئے بلوچستان کو ایشو بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ایسا بھی نہیں ہے کہ مودی اس میں تنہا ہیں۔ مودی کو اب تک بنگلہ دیش اور افغانستان سے حمایت مل چکی ہے۔ دونوں ممالک نے بلوچستان کے حوالہ سے مودی کی ہاں میں ہاں ملا دی ہے۔ اس طرح بھارت اس وقت بلوچستان پر عالمی حمایت کے لئے کوشاں ہے۔ اور وہ ہر ملک سے اس ضمن میں حما یت مانگ رہا ہے۔

اسی ضمن میں براہمداغ بگٹی کو بھارتی شہریت دینے کا بھی اعلان سامنے آیا ہے۔ ویسے تو اس سے قبل عدنان سمیع نے بھی بھارتی شہریت حاصل کی ہے لیکن پھر بھی براہمداغ بگٹی کو اس موقع پر شہریت دینے کا اعلان بھارت کے ڈپریشن کا عکاس ہے۔یہ کہا جا رہا ہے کہ بھارت کے ڈپریشن کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ ایک کشمیر میں زور پکڑتی تحریک آزادی کشمیر۔ اور دوسرا پاک چین اقتصادی راہداری ۔ دونوں پر بھارت کا ڈپریشن روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ اسی ڈپریشن میں بھارت 1971 کا اپنا گیم پلان دھرانا چاہتا ہے۔ تب بھی بھارت نے مکتی باہنی کے لوگوں کو ٹریننگ دی۔ مشرقی پاکستان میں حالات خراب کروائے اور پھر عالمی رائے عامہ ہموار کی۔ اب بھی بھارت نے پہلے بلوچستان میں دہشت گردی کے ذریعے حالات خراب کروائے ۔دہشت گردی کے نیٹ ورک کو سپورٹ کیا۔ اب دوسرے مرحلہ میں بلوچستان کے حوالہ سے عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس کے بعد تیسرا مرحلہ ہو گا۔

لیکن شاید بھارت کو اس بات کا احساس نہیں کہ اب 1971 نہیں ہے۔ یہ وہ پاکستان نہیں۔ براہمداغ مجیب نہیں۔ براہمداغ نے بلوچستان میں کوئی انتخاب نہیں جیتا ہے بلکہ سرے سے لڑا ہی نہیں۔ بلوچستان کا بھارت کے ساتھ کوئی بارڈر نہیں ہے۔ بلوچستان کو مشرقی پاکستان کی طرح پاکستان سے کاٹا نہیں جا سکتا۔ بلوچستان زمینی طور پر پاکستان سے جڑا ہوا ہے۔ جبکہ مشرقی پاکستان کا مغربی پاکستان سے کوئی زمینی راستہ نہیں تھا۔ اور سمندری راستہ بھارت نے بلاک کر دیا تھا۔ آج پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ 1971 میں پاکستان ایٹمی طاقت نہیں تھا۔ 1971 میں پاکستان امریکہ کے کیمپ میں تھا۔ اور امریکہ نے پاکستان کو دھوکہ دیا۔ لیکن آج پاکستان امریکہ سے دور اور چین کے قریب ہے۔ چین کے لئے بلوچستان پاکستان سے زیادہ اہم ہے۔ جبکہ امریکہ کے لئے تب مشرقی پاکستان کوئی اہم نہیں تھا۔ چین بلوچستان میں ایک بڑی سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے۔ چین گوادر میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے لئے بھی بلوچستان مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لئے چین بلوچستان پر پاکستان کو امریکہ کی طرح دھوکہ نہیں دے سکتا۔

لیکن اس کے ساتھ پاکستان کے اداروں کو بھی سنبھل کر چلنا ہو گا۔ پاکستان کے اداروں کو بھی وہ غلطیاں نہیں کرنی ہو نگی جو 1971 میں کی گئی تھیں۔ جہاں بلوچستان میں غداروں کے خلاف آپریشن ناگزیر ہے۔ وہاں بلوچ عوام کے دل جیتنے بھی ضروری ہیں۔ جہاں دہشت گردوں کو پکڑنا ضروری ہے ۔ وہاں بے گناہوں کو نہیں پکڑنا۔ لوگوں کے مسائل حل کرنا ہے۔ انہیں یہ یقین دلوانا ہے کہ ان کا مستقبل پاکستان میں محفوظ ہے۔ جہاں ایک ایک دہشت گرد کو اس کے انجام تک پہنچانا ضروری ہے وہاں ایک بھی بے گناہ اس کی زد میں نہیں آنا چاہئے۔ ہمیں بلوچ عوام کو یہ یقین دلانا ہو گا کہ وہ محب وطن ہیں۔ کیونکہ ہم مشرقی پاکستان میں اس طرح کی غلطیاں کر چکے ہیں۔ اس لئے آپریشن کرنے والے اداروں کو نہایت احتیاط سے کام کرنا ہوگا۔ ان کی ایک غلطی بھی خطرناک ہو سکتی ہے۔

ابھی تو بھارت نے بلوچستان کا محاذ کھولا ہے۔ لیکن کراچی کے حالات اور سکرپٹ دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ جب بھارت کو بلوچستان میں ناکامی ہو گی تو کراچی کا محاذ کھولے گا۔ اس ضمن کراچی پلان بی ہے۔کیونکہ بھارت کو امید ہے کہ چین کا راستہ روکنے والی عالمی طاقتیں بلوچستان کے مسئلہ پر بھارت کا ساتھ دیں گی، جبکہ کراچی کے لئے عالمی حمایت ملنا مشکل ہے۔ اسی لئے الطاف حسین کو خاموشی اختیار کرنی پڑی۔

مزید :

کالم -