ڈونلڈ ٹرمپ نے پانچ سال بعد اوبامہ کو امریکی تسلیم کرلیا

ڈونلڈ ٹرمپ نے پانچ سال بعد اوبامہ کو امریکی تسلیم کرلیا

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ کے صدراتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نیصدر اوباما کی جائے پیدائش کے حوالے سے تسلیم کرلیا ہے کہ صدر اوباما امریکہ ہی میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کئی سالوں تک صدر اوباما کی جائے پیدائش کے بارے میں سوالات اٹھائے جاتے رہے اور ڈونلڈ ٹرمپ بھی اوباما کی جائے پیدائش کے حوالے سے مسلسل تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ ان لوگوں کی بھی کھل کر حمائت کرتے رہے ہیں جنہوں نے اوباما کی امریکہ میں پیدائش کے حوالے سے سوالات اٹھائے تھے ۔امریکی اخبار ’’نیو یارک ٹائمز ‘‘کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے پانچ سال تک اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کے بعد آخر کار ہتھیار ڈال دیے اور کہا ہے کہ پہلے سیاہ فارم امریکی صدر باراک اوبامہ کی پیدائش امریکہ میں ہوئی ہے اور میں اس الزام کو ختم کرتا ہوں کہ وہ امریکی نہیں ہیں۔ٹرمپ کی انتخابی مہم کے منتظمین کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ ڈونلڈ ٹرمپ ہی ہیں، جنہوں نے صدر اوباما کو مجبور کیا کہ وہ اپنی پیدائش کا سرٹیفیکیٹ جاری کریں ، واضح رہے کہ اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر کی جانب سے پیش کئے جانے والے برتھ سرٹیفکیٹ کو بھی جعلی قرار دیتے رہے ہیں۔قبل ازیں ایک روز قبل ڈیمو کریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے اپنی مہم کے دوران صدر اوباما کی امریکہ میں پیدائش سے متلعق سوالات اٹھانے والوں کی حمایت کرنے پر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔انھوں نے امریکہ کے ایک موقر اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ ‘‘میں شائع ہونے والی ایک خبر کا حوالہ دیا، جس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کہنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ اوباما کی جائے پیدائش کے معاملے پر اب کوئی بات نہیں کریں گے۔ہیلری کلنٹن نے اپنے ردعمل میں سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’’ٹوئٹر ‘‘پر ایک پیغام میں کہا کہ صدر اوباما کے بعد آنے والا وہ شخص نہیں ہو گا جس نے (اوباما کے پیدائش کے سرٹیفکیٹ سے متعلق) متعصبانہ مہم کی قیادت کی۔ یہ بات قطعی ہے،ہیلری نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی صدارت کیلئے ان فٹ ہے، اسے مسترد کردیا جائے۔

مزید :

صفحہ اول -