پیپلز پارٹی اکتوبر میں نواب شاہ سے جلسوں کا آغاز کرے گی!

پیپلز پارٹی اکتوبر میں نواب شاہ سے جلسوں کا آغاز کرے گی!

  

تجزیہ:چودھری خادم حسین

اکثر دوستوں اور پیپلز پارٹی کے بیٹ رپورٹر حضرات کا خیال اور یقین تھا کہ پیپلز پارٹی ستمبر کے آخری دنوں میں پنجاب سے جلسوں کا آغاز کرے گی، لیکن ہماری رائے تھی کہ اس میں تاخیر ہوسکتی ہے اورپارٹی سندھ سے جلسے شروع کرنا زیادہ آسان اور بہتر سمجھے گی، عید کے روز نوڈیرو میں بے نظیر ہاؤس میں غیر رسمی اجلاس ہوا تو اس تجویز پر تبادلہ خیال کے بعد طے ہوگیا کہ سلسلہ اکتوبر میں سندھ سے شروع کیا جائے اور پہلا جلسہ بے نظیر آباد(نواب شاہ) میں کیا جائے، پھر سندھ کے بعد پنجاب کا رخ کیا جائے۔اکتوبر میں مہم شروع کرنے کی وجہ تنظیم نو میں تاخیر بتائی گئی اور یہ طے کرلیا گیا کہ اس سے پہلے تنظیم نو کا کام مکمل کر کے اعلان کردیا جائے۔ یہ بھی یقینی عمل ہے کہ جو نہی تنظیم کا اعلان ہوگا تو ایک دم شور اٹھے گا کہ جو حضرات محروم ہوں گے وہ تنظیمی کمیٹیوں سمیت اپنے ناپسندیدہ عہدیداروں کے خلاف الزام بھی لگائیں گے، تاہم روائت کے مطابق یہ گرد بیٹھ بھی جائے گی اور ممکن ہے کہ ایک دو حضرات پارٹی چھوڑنے کا اعلان کریں یا ناراضی کا تاثر دے کر گھر بیٹھیں۔بہر حال پیپلز پارٹی کے پاس بھی اب کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا، اس لئے طوعاً کرعاً بھی تنظیم قبول کرلی جائے گی، ممکن ہے کہ بعض مخصوص حالات میں چیئرمین اِکادُکا تبدیلی بھی کردیں،تاہم مجموعی طور پر تنظیمی کمیٹیوں کی سفارشات کو اہمیت دی جائے گی۔اگرچہ بلاول بھٹو نے بعض اور ذرائع سے بھی آرا حاصل کررکھی ہیں،اس لئے تاثر یہی ہے کہ وہ تنظیم کا اعلان کرنے سے قبل سارے پہلوؤں پر غور کریں گے اور اپنے ’’مشیروں‘‘ سے بھی رائے لیں گے، اس طرح وہ اختلافات کو کم کرنے کی کوشش کریں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی جمہوریت کی بات کرتی ہے تو اس کا مقصد واضح ہے کہ جس طرح اس جماعت نے پانچ سال پورے کئے، اسی طرح مسلم لیگ (ن) بھی اپنی میعاد پوری کرے اور 2018ء میں انتحابات ہوں۔ پیپلز پارٹی اکتوبر میں کوئی تحریک شروع نہیں کررہی،بلکہ کارکنوں کو متحرک کرنے اور ووٹروں کو 2018ء کے لئے ذہنی طور پر تیار کرنے کی مشق شروع کرے گی اور یقیناًہدف حکومت اور حکمران جماعت ہوگی کہ نگاہ 2018ء کے انتخابات جیتنے پر ہے، اسی لئے سندھ سے شروع کر کے پنجاب آئیں گے۔ بلاول بھٹو جلسوں سے خطاب کریں گے، سندھ میں بہتر سیکیورٹی مہیا ہوگی، یہی ذہن میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ 2013ء میں پیپلز پارٹی کی جو کارکردگی تھی اس کی رو سے تو یہ الیکشن کی حد تک سندھ میں محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ کئی جتن کئے گئے، مگر پنجاب اور دوسرے دونوں صوبوں میں پارٹی کے حضرات ہونے کے باوجود تحرک پیدا نہ ہوا۔ ایک طبقے کا خیال ہے کہ بلاول کو وقت سے پہلے میدان میں اتار دیا گیا ہے، اگرچہ آصف علی زرداری کا خیال مختلف ہے، بہرحال اب تو میدان بھی سامنے ہے اور گھوڑے بھی موجود ہیں، ریس شروع ہو گی تو پتہ چل جائے گا، تاہم بلاول بھٹو کی یہ کوشش یا کہنا ابھی تک عملی شکل اختیار نہیں کرسکا کہ وہ پرانے جیالوں کو منانے کے لئے ان کے گھروں تک جائیں گے، حالانکہ ایسی مربوط کوشش لازمی ہونی چاہئے۔

سوال یہ ہے کہ وقتی طور پر عمران خان رائے ونڈ کے حوالے سے اخلاقی بنیاد پر اپوزیشن کی حمایت سے محروم ہوئے ہیں،لیکن ان جماعتوں نے مخالفت تو ترک نہیں کی، پیپلز پارٹی بھی تو جلسے کر ے گی تو نشانہ حکومت اور مسلم لیگ(ن) ہی ہوگی، ممکن ہے کہ 2018ء سے قبل پھر سے متحدہ اپوزیشن مضبوط بنیادوں پر سامنے آئے۔ مسلم لیگ(ن) کو اپنی حکمت عملی پر بھی غور کرنا چاہیے کہ زمام اقتدار اس کے ہاتھ میں ہے اور اس وقت ملک کو بیرونی مسائل کا بھی سامنا ہے، خصوصاً بھارت کی حکومت اور وزیر اعظم پاکستان کی کھلی دشمنی پر اترے ہوئے ہیں۔ اب تو افغان صدر اشرف غنی بھی حامد کرزئی کی طرح نریندر مودی کی خوشامد کرنے لگے ہیں اور پاکستان کو دھمکیاں دے رہے ہیں، یوں بھی امریکہ،بھارت اور فغانستان پر مشتمل ایک نیا اتحاد سامنے آیا ہے اور امریکی ترجمان نے کھلے بندوں بھارت، افغان تعلقات کی حمایت کی اور پاکستان کی تعریف کر کے بھی ڈو مور کا مطالبہ کردیا ہے، بلکہ کہا جارہا ہے یہ صورت حال ملک کے اندر سیاسی استحکام کا تقاضا کرتی ہے اور حکمران ہی بڑی ذمہ داری پوری کرسکتے ہیں۔

اس وقت ضروری امور میں ملک میں رائج قوانین کی درستگی اولین ترجیح ہے کہ احتساب اور انتخاب درست ہو سکیں، ان دونوں امور کے لئے پارلیمنٹ کا پلیٹ فارم ہے،جہاں انتخابی اصلاحات اور احتساب بیورو آرڈی ننس میں ترامیم کے بل زیر غور ہیں۔ ہم کئی بار گزارش کرچکے کہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی سمیت تمام جماعتوں کو پارلیمنٹ میں زور لگانا چاہیے کہ یہ دونوں مسودات قانون کی شکل اختیار کر لیں اور الیکشن کمیشن اور احتساب بیورو خود مختار، آزاد، دیانت دار اور انصاف کے اداروں کی شکل میں سامنے آسکیں تاکہ روز روز کے الزامات سے جان چھوٹے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خود سیاست دان بھی اس سے گریز کررہے ہیں۔ یہ بہتر عمل نہیں ہے، سب کو اس جانب تو جہ دینا ہوگی۔

مزید :

تجزیہ -