مسئلہ کشمیر پر عالمی برادری کا جانبدارانہ رویہ افسوسناک ہے: مولانا فضل الرحمان

مسئلہ کشمیر پر عالمی برادری کا جانبدارانہ رویہ افسوسناک ہے: مولانا فضل ...

  

لاہور(اے این این )جمعیت علماء اسلام کے سر براہ اور قومی کشمیر کمیٹی کے چیئر مین مو لا نا فضل الرحمن نے مقبوضہ کشمیر میں عید کے موقع پر مساجد میں تالے لگانے کے اقداما ت کی شدید مذمت کی ہے اور اسے انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہاکہ عالمی ادارے ان باتوں کا نوٹس لیں ،مذہبی آزادی سے بھی کشمیری عوام کو محروم رکھا جا رہا ہے ،اقوام متحد اپنی قرار دادوں پر عمل در آمد کرانے میں نا کام ثابت ہو ا یو این او کا کردار بھی جانبدارانہ رہا ہے ، مسئلہ کشمیر پر عالمی برادری کاامتیازی رویہ افسوسناک ہے ۔مر کزی میڈیا آفس کے مطابق وہ پا رٹی رہنماؤں مولانا محمد امجد خان ،مولانا سعید یوسف ،مولانا عبد القیوم ہالیجوی ،مفتی ابرار احمد سے گفتگو کر رہے تھے ۔مو لا نا فضل الرحمن نے کہا کہ عالمی دنیا سری نگر میں ہونے والے مظالم کا نوٹس لے بھارتی فورسزکی فائرنگ سے ہلاکتیں کھلا ظلم اور جبر ہے جس کی جس قدر مذمت کی جا ئے وہ کم ہے کشمیر میں بھارتی فوسز مسلسل ظلم کر رہی ہے ہیں لیکن کشمیر ی عوام کے جذبے میں کوئی فرق نہیں آیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عالمی دنیا خاموشی اختیار کر نے کے بجائے اپنا کردار ادا کر ے نہ صرف ظلم بند کرانے بلکہ کشمیری عوام کے مطالبے پر توجہ دے ۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر عالمی برادری کاامتیازی رویہ افسوسناک ، کشمیر ی اپنا حق خودارادیت کے حصول کے لیئے اپنی جانوں کے نذرانے دے رہے ہیں ، مسئلہ کشمیر حل کیئے بغیر جنوبی ایشاء میں پائیدار امن ناممکن ہے ، کشمیری قوم کی خواہش کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیئے پا کستان ان کے ساتھ کھڑا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پا کستان خطے میں امن کے لیئے کوشاں ہے اب خطے کے دیگر ممالک کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں ، کشمیر ی اپنا حق خودارادیت کے حصول کے لیئے اپنی جانوں کے نذرانے دے رہے ہیں ، مسئلہ کشمیر حل کیئے بغیر جنوبی ایشاء میں پائیدار امن ناممکن ہے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم کی خواہش کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیئے پا کستان ان کے ساتھ کھڑا ہے ، پوری دنیا مسئلہ کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرتی ہے ، پا کستان خطے میں امن کے لیئے کوشاں ہے اب خطے کے دیگر ممالک کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں۔

مزید :

صفحہ آخر -