سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس، جائیداد کی ویلیو کا تعین اور خرید و فروخت پر سینیٹرز کے تحفظات

سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس، جائیداد کی ویلیو کا تعین اور خرید و فروخت ...

  

اسلام آباد (این این آئی) سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں پراپرٹی ٹیکس کے متعلق امور زیر بحث آئے ایون بالاء سے کمیٹی کو بجھوائے گئے انکم ٹیکس لاء ترمیمی بل 2016 اور انکم ٹیکس لاء ترمیمی آرڈنینس 2016 پر تفصیلی غور کیا گیا ۔ چیئرمین ایف بی آر نثار خان نے آگاہ کیا کہ صوبوں کا ڈی سی ریٹ تبدیل نہیں کیا گیا ۔ایف بی آر ضلعی سطح پر پراپرٹی کی قیمتیں معلوم کرنے کیلئے اپنے ذرائع استعمال کرتا ہے اور ایف بی آر ٹیکس صرف وفاقی سطح پر ہی وصول کرتا ہے۔ ڈی سی ریٹ لگانے سے پہلے تمام شراکت داروں سے کئی روز تک مذاکرات کیے گئے ۔زمین مارکیٹ قیمت کم ہونے سے ٹیکس کم وصول ہوتا تھا اب مارکیٹ قیمت میں اضافے سے ٹیکس وصولی بھی بڑھے گی پراپرٹی کاروبار کرنے والے طاقتور لوگوں پر ہاتھ ڈالا ہے پراپرٹی بزنس سے صرف آٹھ سو ملین ٹیکس اکھٹا ہوتا تھا جو شرمناک ہے پراپرٹی ٹیکس کا معاملہ پراپرٹی کی موجودہ مارکیٹ ریٹ کی حد تک عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکتا ہے لیکن انکم ٹیکس کے زمرے میں الگ مسئلہ ہے چیئرمین کمیٹی سلیم ایچ مانڈوی والا نے کہا کہ بجٹ سے قبل خزانہ کمیٹی کے اجلاسوں میں دی گئی تجاویز کو وزارت خزانہ اور ایف بی آر پہلے مان لیتی اب حکومت ڈی سی ریٹ طے کرنے کیلئے سٹیٹ بنک سے اختیار لے کر ایف بی آر کو دینا چاہتی ہے بجٹ میں جائیدا د کی قیمتوں کا تعین سٹیٹ بنک کو دیا گیا تھا اور سوال اٹھایا کہ کیا جائیداد کی قیمتوں کا اختیار ایف بی آر کو دیا جا سکتا ہے اور کہا کہ ٹیکس بڑھانے کی بجائے ود ہولڈنگ پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے بیرون ملک دوروں میں بنک ٹرانزکشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس پر لوگ حیرانگی کا اظہار کرتے ہیں سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ بل میں ترمیم سے متعلق ہماری باتوں کو ہوا میں اڑا دیا گیا ہم سے مشاورت کے بعد تجاویز دی جاتیں لیکن ایک بات بھی نہیں مانی گئی صوبہ سندھ نے پہلے ہی اس پر شدید احتجاج کیا کہ چھوٹے صوبوں کو ناراض نہ کیا جائے اور کہا کہ وہ اتھارٹی جو ٹیکس لیتی ہے وہ کیسے اراضی کی قیمت کا تعین کر سکتی ہے اور سوال اٹھایا کہ کیا لوگ ایف بی آر سے مطمئن ہیں کون ہے جو آپ سے مطمئن ہے ایف آر کے چیئرمین نے کمیٹی میں اعتراف کیا تھا کہ ادارے میں چار سو ارب کی کرپشن ہوتی ہے پراپرٹی والا کام بھی یہ کریں گے تو یہ کرپشن دوگنی ہو جائے گی ۔سینیٹر ز کامل علی آغا ، الیاس بلور، محسن عزیز نے کمیٹی اجلاس سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا ۔سینیٹر محسن عزیز نے بھی مخالف کرتے ہوئے کہا کہ آزاد ویلیو ایٹر کے ذریعے جائیداد کی مالیت کا تعین کیا جانا چاہیے اور کہا کہ ایف بی آر کے پاس مخصوص شعبوں میں ماہرین موجود نہیں کالے دھن کو سفید کرنے کی پالیسی اپنی جگہ لیکن کہیں جائیداد کی قیمت کم اور کہیں جائیداد کی قیمت زیادہ فارمولا درست نہیں فی مربع فٹ ریٹس کے تعین کیلئے قابل عمل فارمولا بنایا جائے خاصہ ٹیکس اکھٹا کیا جا سکتا ہے ۔ سینیٹر عائشہ فاروق نے کہا کہ پاکستان میں کروڑوں کی پراپرٹی والے لاکھوں ظاہر کر کے ٹیکس سے بچ جاتے ہیں ۔ سینیٹر سردار فتح حسنی نے کہاکہ پہلے ریٹ کو ایک سال کیلئے مختص کریں پھر بڑھائیں ڈی سی ریٹ پر فیصلہ نہ ہوا تو ملکی معیشت پر برے اثرات ہونگے ۔سینیٹر محسن لغاری نے کہا کہ اگر مالیت کا اندازہ کرنا ہے تو غیر جانبدار مالیت کا اندازہ کرنے والے بھی شامل کیے جائیں ۔ سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ جائیدادوں کا تخمینہ لگانے کیلئے بورڈ یا کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں خصوصی ماہرین شامل کیے جائیں۔ اجلاس میں سینیٹرز الیاس بلور ، محسن لغاری ، عائشہ رضا فاروق، کامل علی آغا، مشاہد اللہ خان ، فتح محمد حسنی محسن عزیز کے علاوہ چیئرمین ایف بی آر نثار خان ، ایف بی آر اور وزارت قانون و انصاف ، اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

مزید :

صفحہ آخر -