بٹ خیلہ ،نوجوان حادثہ میں جاں بحق ،لواحقین کا احتجاج

بٹ خیلہ ،نوجوان حادثہ میں جاں بحق ،لواحقین کا احتجاج

  

بٹ خیلہ (بیورو رپورٹ )سڑک حادثے میں زخمی نوجوان کی ہلاکت کے خلاف زبردست احتجاج کیا گیا مظاہرین نے غفلت ولاپرواہی میں ملوث ڈی ایچ کیو ہسپتال کے سرجن کے خلاف مقدمے کے اندراج اور قومی جرگے نے ڈی سی سے ملاقات میں ڈاکٹر کے خلا ف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ضلع ناظم نے واقعے کا نوٹس لے کر اے ڈی سی کو تین دن کے اندر واقعے کی انکوائری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ غفلت کے مرتکب افراد کوسزا دی جاسکے واقعے کے مطابق عیدالضحیٰ سے دو روز قبل اماندرہ کے قریب تیز رفتاری کے وجہ سے این سی پی سوزوکی الٹنے سے تین دیگر معمولی زخموں کے ساتھ بٹ خیلہ کا نوجوان صفدر خان ولد شمشیر علی خان المعروف بہادرخان بھی شدید زخمی ہوگیا تھا جسے ڈی ایچ کیو ہسپتال بٹ خیلہ لایا گیاتاہم کیجولٹی میں ایم او کی عدم موجودگی اور مبینہ طور پرسرجن حیات شہزادکی جانب سے فوری ع طبی امداد نہ دینے کی وجہ سے مجروح جاں بحق ہو گیاسرجن کی غفلت کے باعث نوجوان کی ہلاکت کے خلاف گذشتہ روز بٹ خیلہ کے سینکڑوں افرادنے ضلعی کونسلر صدام حسین تحصیل کونسلر محمد الیاس خان اور کونسلر ظفر علی خان کی قیادت میں بازار میں احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم ایمرا ویلفیئر آرگنائزیشن کے اراکین کے علاوہ مختلف طبقوں کے نمائندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی مظاہرین ڈاکٹر ز اور ہسپتال کی ناقص کارکردگی کے خلاف نعرے لگاتے ہو ئے ایم ایس کے دفتر کے سامنے پہنچ گئے اس موقع پر کونسلران صدام حسین محمد الیاس خان ظفر علی خان دلنواز خان اور دیگر افراد محمد جمیل سبحان علی نظام الدین عابد علی اور برہان خان وغیرہ نے خطاب کرتے ہو ئے نوجوان کی ہلاکت کی پر زور مذمت کی اس کے علاوہ مقامی مالکان جائیداد کے نمائندہ قومی جرگے نے محمد ادریس خان کی قیادت میں ڈپٹی کمشنر ظفر علی شاہ سے ملاقات کی اور انھیں صورت حال سے آگاہ کیاڈی سی نے جرگے کوانصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی مظاہرین جرگہ ممبران کی قیادت میں مقامی لیویز پوسٹ چلے گئے جہاں پر وزیر اعلیٰ کے مشیر شکیل خان ایڈوکیٹ اور خاتون رکن صوبائی اسمبلی نگینہ خان نے مظاہرین سے مذاکرات کئے جس کے بعد سرجن حیات شہزادکے خلاف متوفی کے بھائی سکندر خان کی شکایت پرروزنامچہ رپورٹ درج کر لی گئی جس کے بعد تحقیقات اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں مذید قانو نی کاروائی کی جائے گی دوسری جانب ضلع ناظم سید محمد علی شاہ نے مذکورہ واقعے کا نوٹس لے لیا ہے انھوں نے ایم ایس ڈاکٹر وکیل محمدسے ملاقات کی اورتفصیل سے آگاہی حا صل انھوں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرطفیل خان کو اس سلسلے میں انکوائری افسر مقرر کر تین دنوں کے اندر رپورٹ طلب کر لی ہے تاکہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی کی جاسکے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -