خواجہ اظہار کی ڈرامائی انداز میں گرفتاری و رہائی ،نیا پنڈورا بکس کھل گیا ؟

خواجہ اظہار کی ڈرامائی انداز میں گرفتاری و رہائی ،نیا پنڈورا بکس کھل گیا ؟

  

(تجزیہ/کامران چوہان)سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن کی گرفتاری و رہائی نے ایک مرتبہ پھر سندھ کی سیاست میں ہلچل مچادی ہے ۔جمعہ کی سہہ پہر میڈیا میں پہلے یہ خبر آئی کہ خواجہ اظہار کے گھر پر چھاپہ مارا گیا لیکن اس کا علم نہیں ہورہا تھا کہ چھاپہ مارنے والے کون ہیں ؟ ابھی اس پراسرار چھاپے کی بازگشت جاری تھی کہ سندھ پولیس کے افسانوی کردار ایس ایس پی راؤ انوار منظر عام پر آئے اور ببانگ دہل کہا کہ خواجہ اظہار کے گھر پر چھاپہ میں نے مارا ہے ۔وزیراعلیٰ سندھ نے قائد حزب اختلاف کے گھر پر چھاپہ کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او سہراب گوٹھ کومعطل کیا ہی تھا کہ راؤ انوار پولیس پارٹی کے ہمراہ خواجہ اظہار کے گھر جاپہنچے اور میڈیا کے سامنے ان کو ہتھکڑی لگاکر اپنے ساتھ لے گئے ۔ا س گرفتاری نے ایک بھونچال پیدا کردیا ۔ابھی راؤ انوار خواجہ اظہار الحسن کے ہمراہ راستے میں ہی تھے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے ان کی معطلی کے احکامات جاری کردیئے ۔خواجہ اظہار الحسن کی گرفتاری اور وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے راؤ انوار کی فوری معطلی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے ۔قانون کے مطابق اس بات کو یقیناً مدنظر رکھنا چاہیے کہ آیا خواجہ اظہار الحسن کو قانون کے مطابق گرفتار کیا گیا تھا یا نہیں لیکن یہاں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ایک پولیس افسر اگر کسی ملزم کو گرفتار کرتا ہے تو اسے محض اس بناء پر معطل کردیا جائے کہ اس نے ایک بڑے آدمی کو گرفتار کیا ہے ۔یہاں یہ ضروری تھا کہ خواجہ اظہار الحسن سے تفتیش کے تمام مراحل مکمل کیے جاتے ۔ان پر انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت مقدمات درج ہیں بغیر عدالتی احکامات کے ان کی رہائی کو نادر شاہی احکامات ہی کہا جاسکتا ہے ۔ متحدہ کے اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار کی گرفتاری سے جہاں سندھ کی سیاست میں ہلچل مچ گئی وہیں بہت سارے نئے محاذ بھی کھل گئے ہیں۔ اس گرفتار ی سے سندھ پولیس کے اعلیٰ افسران کے درمیاں جاری اندرونی چپقلش اور سرد جنگ بھی عیاں ہو گئی کیونکہ وزیراعلیٰ سندھ اورآئی جی پولیس کی جانب سے خواجہ اظہارکو فوری طورپرڈی آئی جی ساؤتھ آفس منتقل ہونے حکم کے باوجود تھانہ گڈاپ میں سینئرپولیس افسران کا ایک گھنٹے طویل اجلاس ہوااورانہیں ڈی آئی جی آفس منتقل کرنے کی بجائے کراچی پولیس آفس منتقل کیا جاناانتہائی معنی خیزہے ۔ معطل ایس ایس پی راؤ انوار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیاپنڈورا باکس کھول دیا۔ راؤ نے سندھ پولیس میں افسران کے مابین سرد جنگ سے پردہ اُٹھادیا وہیں فاروق ستار اور بانی متحدہ کے آپس میں ملے ہونے کا بھی دعویٰ کردیا۔ معطل ایس ایس پی نے خبردار کیا کہ ساؤتھ افریقہ سے متحدہ کے لڑکے آئے ہوئے ہیں جو چند روز میں شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کریں گے۔ یہاں ایک بات انتہائی قبل ذکر ہے کہ گذشتہ ماہ رینجرزکی جانب سے متحدہ پاکستان کے سربراہ فاروق ستار سمیت متعدداراکین قومی وصوبائی اسمبلی کوپریس کلب کے باہرسے حراست میں لیا گیاتھا اورساری رات رینجرزکی حراست میں رہنے والے اراکین صوبائی اسمبلی کی یادنہ تووزیراعلیٰ سندھ کو آئی اورنہ ہی اسپیکرسندھ اسمبلی نے بیان دیا کہ مجھے اطلاع نہیں دی گئی مگراس بار آخر کیوں وزیراعلیٰ اوراسپیکرسندھ اسمبلی منظرعام پر آئے؟؟ اسی طرح چند روز ایم کیو ایم کے ہی رکن سندھ اسمبلی شیراز وحید کو بھی گرفتار کیا گیا ۔ان کی گرفتاری سے قبل بھی اسپیکر سندھ اسمبلی سے اجازت نہیں لی گئی تھی ۔ان کی گرفتاری پر اس طرح کا واویلا نہیں ہوا تھا جو خواجہ اظہار الحسن کی گرفتاری پر ہوا ۔ایک اوربات قابل ذکر ہے کہ کیا معطل ایس ایس پی ملیرکی جانب خواجہ اظہارپر لگائے گئے سنگین ترین الزامات اورمتحدہ کے حوالے سے کئے گئے انکشافات کی تحقیقات بھی ہوں گی اور انہوں نے کس بناپر یہ سب کہا اوراس کے حوالے سے سابق ایس ایس پی سے ثبوت بھی حاصل کیئے جانا ضروری ہے ۔ کراچی ملک کی معاشی شہہ رگ ہے کراچی کی خوشحالی میں ہی ملک کی بقاء ہے ۔اسی لئے نیشنل ایکشن پلان کے تحت جاری کراچی آپریشن بھی صرف اس وقت مکمل طورپر کامیاب ہو پائے گا جب بااثر افراد پر بھی قانون اطلاق اسی طرح ہوگا جیسے ایک عام فرد پر ہوتا ہے۔حکمرانوں کوچاہیے کہ آئین وقانون کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی سیاسی مصلحتوں کوبالائے طاق رکھ کر کراچی میں مستقل امن وامان کے قیام کیلئے اپنی ذمہ داری اداکریں ورنہ شہرقائدمیں قیام امن محض ایک خواب بن کر رہ جائے گا ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -