این اے120۔۔۔بُرد باری اور برداشت کا متقاضی

این اے120۔۔۔بُرد باری اور برداشت کا متقاضی
 این اے120۔۔۔بُرد باری اور برداشت کا متقاضی

  

قومی اسمبلی کا حلقہ این اے120 پورے مُلک کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ محض ایک حلقے کا ضمنی الیکشن نہیں ہے،بلکہ یہاں ہونے والا فیصلہ مُلک کے آئندہ سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔2018ء کے عام انتخابات میں سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، اِس امر کے فیصلے کو این اے 120 کے ضمنی الیکشن سے جوڑا جا رہا ہے۔اِس امر میں شبہ بھی کوئی نہیں، کیونکہ اِس میں حصہ لینے والی جماعتوں اور امیدواروں میں جس گرم جوشی اور جانفشانی سے انتخابی مہم چلائی وہ اِس سے پہلے کسی ضمنی انتخاب میں دیکھنے کو نہیں ملی۔ ویسے بھی یہ حلقہ دیگر حلقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ یہاں سے منتخب ہونے والے میاں محمد نواز شریف وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے۔ اب ان کی نااہلی کے بعد یہ نشست خالی ہوئی ہے، جس پر اُن کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز امیدوار ہیں جبکہ اُن کے مدمقابل پی ٹی آئی کی 2013ء والی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد الیکشن لڑ رہی ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے فیصل میر، جماعت اسلامی کے ضیاء الدین انصاری سمیت چالیس سے زائد امیدوار میدان میں ہیں۔اِن تمام نے جماعتی سطح پر یا آزاد حیثیت میں جس طرح انتخابی مہم میں حصہ لیا وہ قابل تعریف ہے بالخصوص سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز اپنی و الدہ کی انتخابی مہم میں جس طرح دن رات ایک کئے رہیں اور ہر گلی محلے میں گھر گھر جا کر الیکشن مہم چلائی اُس سے انتخابی ماحول صحیح معنوں میں گرما گیا۔

ویسے تو این اے120 کی انتخابی مہم مجموعی طور پر نہایت پُرامن رہی اور متحارب امیدواروں کے کارکنوں کے آمنے سامنے ہونے اور تُو تکرار کے چند ایک واقعات کے سوا کوئی ناخوشگوار سانحہ پیش نہیں آیا۔ دوسری اچھی بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی مہم کے دوران سرکاری یا عوامی عہدے رکھنے والے سیاست دانوں یا افسروں کو انتخابی مہم میں حصہ لینے سے باز رکھا اور جس نے اِس پابندی کو توڑنے کی کوشش کی اُسے نوٹس دے کر طلب بھی کیا گیا اِس کا بھی انتخابی مہم پر خاصا اثر رہا اور ضابطہ اخلاق کی پابندی نہ کرنے والوں کی حوصلہ شکنی بھی ہوئی۔

پولنگ کے روز امن و امان کا قیام از حد ضروری ہے۔ ضمنی انتخاب میں حصہ لینے والی جماعتوں اور امیدواروں سمیت تمام ووٹرز سپورٹرز کا فرض ہے کہ وہ ماحول کو خوشگوار رکھنے کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔کہا جاتا ہے کہ50فیصد الیکشن پولنگ کے روز ہوتا ہے انتخابی مہم کے دوران تو سب نے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا یوں 50فیصد مرحلہ مکمل ہو گیا باقی50فیصد اتوار 17ستمبر 2017ء کو صبح سے شام تک ہونا ہے۔اِس مرحلے کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ہم سب کا فرض ہے اِس میں ایک اہم کردار الیکٹرانک میڈیا کا بھی ہے جسے لائیو کوریج کرتے وقت ذمہ دارانہ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ایسے واقعات جو ماحول خراب کرنے کا باعث بنتے ہوں یا جن سے انتخابی عمل متاثر ہوتا ہو اُنہیں ہوا دینے کی بجائے کنارہ کشی ہی بہتر ہے۔میرا خیال ہے کہ سب سے زیادہ ذمہ دارانہ رول میڈیا ہی پلے کر سکتا ہے، رائے عامہ ہموار کرنے کے ساتھ ساتھ مثبت پہلوؤں کی تشہیر سے 17ستمبر2017ء کے ضمنی الیکشن کو پُرامن،خوشگوار اور سب فریقوں کے لئے قابلِ تسلیم بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)،پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی سمیت دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین سے بھی گزارش ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو پولنگ کے روز پُرامن رہنے اور بُردباری کے ساتھ ساتھ صبرو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کریں۔ اِس روز پولنگ سٹاف اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کی بھی شدید ضرورت ہے۔ امن و امان کی صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لئے جو قواعد و ضوابط طے کئے گئے ہیں اُن کی پابندی بھی لازم ہے، ہمیں مہذب قوم ہونے کا ثبوت دینے کے لئے ہر اُس اقدام کا ساتھ دینا اور حمایت کرنی چاہئے جو حالات کو پُرامن رکھنے کے لئے ضروری ہیں۔

مزید : کالم