حفیظ شیخ کے دعوے اور آئی ایم ایف کے وفد کی آمد

حفیظ شیخ کے دعوے اور آئی ایم ایف کے وفد کی آمد

وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے دعویٰ کیا ہے کہ معیشت بحران سے نکل آئی ہے اور اب استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ہم عوام کے سوا کسی کے لئے کام نہیں کر رہے ہمارا مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے پاکستانی روپے کی قدر میں استحکام آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل بینک اور سٹیٹ لائف کی نجکاری پر غور کیا جا رہا ہے ٹیکس نیٹ میں چھ لاکھ افراد کا اضافہ ہوا مزید اضافے کے لئے بھی کوشاں ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں مسلسل کمی کی جا رہی ہے۔ زرعی شعبے میں حکومتی اصلاحات کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ڈالر کے ذخائر کو مستحکم کرنے کے لئے دوست ملکوں نے بھرپور تعاون کیا۔

ایک طرف تو ڈاکٹر حفیظ شیخ کے یہ دعوے ہیں اور دوسری جانب آئی ایم ایف نے حکومت کی دو ماہ کی معاشی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ آئی ایم ایف کا ایس او ایس مشن اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔ وفد کو ٹیکس آمدن پر بریفنگ دی جائے گی۔ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے اپنے دعوے میں کہا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے دومہینوں (جولائی / اگست) میں 580 ارب روپے ٹیکس جمع کیا گیا جبکہ گزشتہ مالی سال اس دورانیے میں (جب ملک میں نگران حکومت تھی) 509ارب روپے ٹیکس جمع کیا گیا تھا، ڈاکٹر صاحب کے پیش کئے گئے یہ اعداد و شمار بظاہر بڑے دلکش لگتے ہیں اور لگتا ہے کہ 509 ارب کے مقابلے میں 580ارب ٹیکس جمع کرکے کمال کیا گیا لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس عرصے میں ٹیکس جمع کرنے کا اصل ہدف کیا تھا جو حاصل نہیں ہو سکا یہ بات آئی ایم ایف نے بتا دی ہے کہ ان دو مہینوں میں ٹیکس جمع کرنے کا ہدف 648 ارب روپے رکھا گیا تھا جس کے مقابلے میں 580ارب روپے جمع ہوئے۔ آئی ایم ایف اپنے دورۂ پاکستان کے دوران دوسری باتوں کے علاوہ اس بات کا بھی جائزہ لے گا کہ دو مہینوں میں ٹیکس کا ہدف کیوں پورا نہیں ہوا، جس کا جواب بظاہر وزارت خزانہ کے افسروں کی طرف سے یہی دیا جائے گا کہ پاکستان کے لوگ مجموعی طور پر ہر کام تاخیر سے کرنے سے عادی ہیں اسی لئے ٹیکس ریٹرن اور ٹیکس جمع کرانے کی تاریخیں بھی بار بار بڑھانی پڑتی ہیں۔ مالی سال کی ابتدائی ششماہی میں کم ٹیکس جمع ہوتا ہے جبکہ دوسرے چھ مہینوں میں نسبتاً زیادہ ٹیکس جمع ہوتاہے اب اگر حکام ایسی کوئی دلیل آئی ایم ایف کے وفد کے روبرو پیش کرتے ہیں تو وہ اس سے کس حد تک متاثر ہوں گے یہ تو وہ جانیں لیکن مالی سال 2019-20ء کے لئے 5550 ارب روپے ٹیکس جمع کرنے کا جو ہدف مقرر کیا گیا ہے اس کا حصول بھی ماہرین کے نزدیک ممکن نہیں اس کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ گزرے مالی سال میں تو نظرثانی شدہ ٹیکس ہدف بھی حاصل نہیں ہو سکا جو کہیں کم تھا تو نئے سال میں ایسی کون سی تبدیلی آ گئی ہے کہ یکایک زیادہ ٹیکس جمع ہو جائے ہاں البتہ ایک تبدیلی ضرور آتی ہے کہ ٹیکس جمع کرنے والے ادارے (ایف بی آر) کا باس نجی شعبے سے درآمدکیا گیا ہے اب یہ اس کی مہارت کا کمال ہے کہ وہ ٹیکس ہدف حاصل کر پاتا ہے یا نہیں۔

حفیظ شیخ تو معیشت میں استحکام دیکھ رہے ہیں اور ان کے نزدیک روپے کی قدر بھی مستحکم ہو رہی ہے جو ڈالر اسحاق ڈار اپنے ”مصنوعی اور قابل مذمت“اقدامات کے ذریعے سو روپے سے نیچے لے آئے تھے اور جو اب بڑھتے بڑھتے 160کے ہندسے کو چھو کر واپس آیا ہے۔ اس کو اگر شیخ صاحب ”روپے کے استحکام“ کے نام سے یاد کرتے ہیں تو ان کی دریا دلی ہے۔ ورنہ تو روپے کی اس بے قدری نے پاکستانی معیشت کو دھول چٹا دی ہے صرف آٹو انڈسٹری میں 18لاکھ لوگ بیروزگار ہو گئے ہیں اور مزید ہو رہے ہیں۔پاکستان کو جو درآمدات کرنا پڑتی ہیں ان میں ایک بڑی آئٹم تیل ہے جس کے بارے میں آئل مارکیٹ کے ماہرین کی پیش گوئی ہے کہ یہ 100ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتا ہے کیونکہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد پیداوار کم ہو گئی ہے۔ اگر واقعی ایسا ہوتا ہے تو ڈاکٹر صاحب جن درآمدات میں کمی پر خوش ہو رہے ہیں اس کی ساری کسر بھی اسی ایک آئٹم میں نکل جائے گی روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے درآمدات کا حجم کم ہونے کے باوجود درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں دو تین گنا اضافہ ہو چکا ہے جس سے درآمدی بل بڑھے گا۔

تصویر کا ایک اور رخ بھی ہے جو غریب عوام دیکھتے ہیں اور ماہرین معاشیات کا تعلق چونکہ اعلیٰ کلاس سے ہوتا ہے اس لئے وہ اِدھر کم ہی دھیان کرتے ہیں اور اگر کرتے بھی ہیں تو گونگلوؤں سے مٹی جھاڑ کر مطمئن ہو جاتے ہیں اس وقت اشیائے خوردنی کے نرخوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے کوئی سرکاری ادارہ روزمرہ استعمال کی ایک بھی چیز بطور مثال پیش نہیں کر سکتا جس کی قیمت حد سے زیادہ نہ بڑھی ہو۔ صوبائی حکومت نے روٹی چھ روپے میں فروخت کروانے کے دعوے توبہت کئے لیکن آج بھی لاہور میں شائد ہی کسی جگہ روٹی چھ روپے میں دستیاب ہو، اور اگر کہیں ملتی ہے تو اس کا وزن کم ہوتا ہے ٹیکس نیٹ بڑھانے کے شوق میں تنخواہ دار طبقے کو دیا جانے والا ریلیف واپس لے لیا گیا ہے اور جو طبقہ بارہ لاکھ سالانہ تک تنخواہ پاتا تھا وہ انکم ٹیکس سے مستثنیٰ تھا اب یہ شرح 6لاکھ کر دی گئی ہے، کیونکہ تنخواہ دار طبقے سے انکم ٹیکس ایڈوانس ہی مل جاتا ہے اور اسے جمع کرنے میں بھی کوئی زیادہ سرگرمی نہیں دکھانی پڑتی اس لئے ٹیکس بابوؤں کو یہی حل سوجھا کہ 6لاکھ کمانے والے کو بھی ٹیکس نیٹ میں لے آئیں حالانکہ ہزاروں لاکھوں لوگ ایسے ہیں جن کا ماہانہ کچن کا خرچا 6لاکھ سے زائد ہے اور وہ ایک پیسہ ٹیکس نہیں دیتے چونکہ ایسے لوگ تلاش کرنے پڑتے ہیں اور اس کام میں محنت لگتی ہے اس لئے ٹیکس حکام ادھر کا رخ نہیں کرتے اور اگر کر بھی لیں تو ان سے ٹیکس نہیں اپنی ”محنت“ کا ”حصہ“ طلب کرتے ہیں جو انہیں آسانی سے مل جاتا ہے۔ ایسے میں ٹیکس ہدف کون پورا کرے گا؟

حفیظ شیخ صاحب نے دعویٰ تو یہی کیا ہے کہ معیشت استحکام کی طرف جا رہی ہے لیکن وہ اگر اسلام آباد کی کسی خوشحال بستی کی کسی سڑک پر دوچار سو آدمیوں سے سروے کرائیں تو انہیں بہت کم لوگ ایسے ملیں گے جو ان کے اس دعوے کی صداقت پر ایمان لے آئیں اور اگر یہ سروے کسی پسماندہ علاقے میں کرایا جائے تو عین ممکن ہے سروے کرنے والوں کو ملاحیاں بھی سننی پڑیں۔ جب تک مہنگائی کم ہو کر کم از کم اگست 2018ء کی سطح پر نہیں آ جاتی اس وقت تک حفیظ شیخ کے دعووں کو کوئی نہیں مانے گا وہ اگر ایسا کرکے دکھا سکتے ہیں تو میدان اور گھوڑا دونوں حاضر ہیں، بسم اللہ کریں اور مہنگائی کے روزانہ کے حساب سے بڑھتے سونامی کا راستہ روکیں کیونکہ دنیا جانتی ہے جب معیشت میں استحکام آتا ہے تو قیمتیں بھی مستحکم ہوتی ہیں۔ دنیا کے کسی ملک کا نام بتائیں جہاں معیشت مستحکم ہو، لیکن وہاں کے کروڑوں لوگ اپنی زندگی کا بیشتر حصہ محض اشیائے خوراک کے حصول کی جدوجہد میں گزار رہے ہوں۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...