یورپی یونین کے پارلیمینٹرینز کابروقت مطالبہ!

یورپی یونین کے پارلیمینٹرینز کابروقت مطالبہ!

مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو،ذرائع مواصلات کی بندش اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر دنیا بھر میں انسان دوست افراد مضطرب ہو گئے اور ان مظلوم انسانوں کی آواز بنتے جا رہے ہیں، حال ہی میں یورپی یونین کے اراکین پارلیمینٹ نے مطالبہ کر دیا ہے کہ اس ستم پر بھارت کے خلاف تجارتی اور سفری پابندیاں لگائی جائیں کہ مودی حکومت کے کان پر جون نہیں رینگ رہی فرینڈز آف کشمیر گروپس کے چیئرمین رچرڈ کورسیٹ نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث اور دہشت گردی کا مرتکب ہے، بھارت پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ کرفیو اٹھائے۔ ذرائع مواصلات اور شہری آزادیاں بحال کرے امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک میں بھی تشویش اور مذمت کی جا رہی ہے۔جہاں تک یورپی یونین کے پارلیمینٹرین کا مطالبہ ہے تو ان کی طرف سے درست سمت راہنمائی کی گئی ہے اور بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کو تقسیم کر کے ضم کرنے اور کشمیر کا لاک ڈاؤن کر کے کشمیریوں کو ان کے اپنے گھروں میں قید کرنے کے بعد فوج کے ذریعے گرفتاریوں اور تشدد کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا اس کے ساتھ ہی معقول مطالبہ بھی ہونا چاہئے تھا یہ درست کہ دنیا بھر میں احتجاج اور مظاہرے ہوئے اور ہو رہے ہیں اور سب مقبوضہ کشمیر کے عوام کی حمایت میں بول رہے ہیں لیکن مناسب اور درست مطالبہ پہلی مرتبہ سامنے آیا، یہ تو پاکستان کی طرف سے ہونا چاہئے تھا چہ جائیکہ یورپی یونین کی طرف سے ایسا ہوا ہے۔ ہم نے اپنے ملک کے اندر احتجاج کیا۔ بیرونی طور پر ہمارے سفارت خانوں نے تعاون کیا، تاہم زیادہ کوشش خود کشمیریوں اور پاکستان نژاد شہریوں اور تنظیموں نے کی جو اب بھی کر رہے ہیں۔ ہمارے وزیر خارجہ ایک بار انسانی حقوق کمشن کے اجلاس میں جنیواگئے اور اب سارا بھروسہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خطاب پر ہے۔ اس سلسلے میں اب یہ واضح ہوا کہ خود ہمارے دفتر خارجہ نے ایسی کوئی لابنگ نہیں کی کہ بھارت پر دباؤ بڑھے۔ انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس میں بھی کوئی قرارداد پیش نہ ہوئی۔ مذمت ہوئی اور 58 ممالک نے مشترکہ طور پر کی لیکن یہ سب بے اثر ثابت ہوا۔اب یورپی یونین کے پارلیمینٹرینز نے جو تجویز پیش کی اسے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے اور باقاعدہ مہم شروع ہونی چاہئے، وزارت خارجہ کو جنرل کونسل سے قرارداد منظور کرانے کی بھرپور جدوجہد اور سلامتی کونسل کا اجلاس بلا کر پابندیاں لگوانے کی کوشش اب تو شروع کر دینا چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...