کشمیر…… امرتا پریتم کی سوویں سالگرہ پر

کشمیر…… امرتا پریتم کی سوویں سالگرہ پر
کشمیر…… امرتا پریتم کی سوویں سالگرہ پر

  


جب 1947ء میں برصغیر کے کچھ گروہ انسانیت کی سطح سے گر کر درندگی اپنا چکے تھے۔ تو امرتا نے ”اج اکھاں وارث شاہ نوں“ ایک دلگداز نظم لکھی۔ امرتا کا کہنا ہے کہ یہ نظم اس نے ایک ٹرین کے سفر کے دوران لکھی تھی۔ جب چاروں طرف انسانی لاشے بکھرے ہوئے تھے۔ اس وقت اس کی نظم کی شہرت سے احساس کمتری میں مبتلا بعض ہندوستانی ادیبوں نے یہ اعتراض کیا کہ تم بابا گرو نانک کو بھی مخاطب کر سکتی تھیں۔ بعض کمیونسٹوں نے کیا آپ امن کے حوالے سے لینن اور مارکس کا ذکر بھی کر سکتی تھیں، لیکن امرتا پنجابی تھی اس کا آئیڈیل بھی پنجابی تھا۔ لیکن امرتا پنجابی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ایسی بے کل روح بھی تھی جو ساری دنیا کے انسانوں کے لئے تڑپتی تھی۔ اس کو ویت نام کے بہادر اور عظیم رہنما ہوچی منہ نے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا کہ میری اور تمہاری دونوں کی جنگ دنیا کے ظالموں کے خلاف ہے میرے ہاتھ میں تلوار ہے اور تمہارے ہاتھ میں قلم۔

13 جون 1966ء کے روز امرتا کو بلغاریہ کی ایک تقریب میں الوداعی دعوت دی جا رہی تھی۔ امرتا نے وہاں موجود ادیبوں کو مور کے پنکھ پیش کئے یہ کہہ کر یہ ہمارا قومی پرندہ ہے۔ اور یہی تحفہ امن کے نام پر دے رہی ہوں۔ ہم پوری دنیا میں امن چاہتے ہیں، امرتا جس نے پنجاب کے دکھ کے لئے ہمیشہ زندہ رہنے والی ایک نظم لکھ دی۔ جس نے دنیا بھر میں جابروں اور ظالموں کے مقابل غلامی کے درد میں مبتلا لوگوں کے لئے گیت لکھے۔ نظمیں کہیں۔

اسے شاید آج زندہ ہوناچاہئے تھا۔ اپنی 100 ویں سالگرہ پر وہ دیکھتی کہ آج کشمیر میں مور کے خوبصورت پروں سے پنکھا تیارکرنے والی عورت کس طرح ہندو توا کے ظلم کا شکار ہو رہی ہے۔ دس لاکھ بھارتی فوجی کس طرح امن کے موروں کے پنکھ بارود سے جھلسا رہے ہیں۔ امرتا جن بچوں کو گود میں بٹھا کر ان کی کلیلیں دیکھنا چاہتی تھی، کس طرح پیلٹ گن سے ان کے سرخ و سپید کلیوں جیسے چہروں کو داغدار کیا جار ہا ہے۔ اس دکھ اور کرب کو ارون دھتی رائے سمجھتی ہے۔ اور مودی کے مقابل کھڑے ہو کر سچ کہتی ہے۔ لوگوں نے دیکھا ہے کہ ظالم مودی کا چہرہ پہلے والا نہیں ہے۔ شاید گجرات کے قتل عام کے وقت جیسا ہو گیا ہے۔ ہر وقت ستا ہوا۔ گزشتہ روز وہ گائے کے تحفظ کے لئے ایک تقریب میں گیا۔ اس نے گائے کے سر پر ہاتھ پھیرا تو گائے نے منہ پھیر لیا۔ مودی کا چہرہ ستا ہوا تھا، جس طرح ایک قاتل کسی بے گناہ کو قتل کرتے ہوئے نظر آتا ہے۔ امرتا جب ازبکستان کے سرکاری دورے پر گئی تو اسے ازبکستان کی معروف اور مقبول شاعرہ زلفیا نے اپنے گھر ٹھہرایا۔ زلفیا نے کہا ہم عورتوں کے غم ایک جیسے ہوتے ہیں۔ امرتا نے غلامی کے دکھ پر بات کی۔

ہر با ضمیر اور حساس شاعر کے لئے اپنے وطن کی آزادی پہلے خطے اور قوم کی آزادی کے لئے اہم ہوتی ہے۔ جب امریکی سامراج دیت نام کے جنگلوں، شہروں اور دھان کے کھیتوں پر نیپام بم برسا رہا تھا۔ تو دینا بھر کے ادیب یہاں تک کہ امریکہ کے ادیب بھی ویت نام کے عوام کی آزادی کی حمایت کر رہے تھے۔ رابرٹ بلی تو ایک ایسا شاعر تھا جس نے اپنی کتابوں کی ساری کمائی ویت نام کے خلاف جنگ کے حوالے سے ہونے والے مظاہروں میں خرچ کر دی تھی۔ مجھے ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ بھارت کے ادیب اور شاعر کہاں چھپے ہوئے ہیں۔ ان کا قلم کیوں سوکھ گیا ہے ایک کشمیری نوجوان شاعر سید ذی شان جو یوری آج کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میرے دل میں فیض احمد فیض کی طرح وطن کی محبت جوش مارتی ہے اور میں ان سے ہی شعری واردات کا تجربہ سیکھتا ہوں۔ میں کشمیر سے محبت کرتا ہوں امرتا نے 1919ء میں جنم لیا تھا۔ اس وقت وہ گوجرانوالہ میں تھی جب امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں جنرل ڈائر انسانی خون سے ہولی کھیل رہا تھا۔ آج اس کی 100 ویں سالگرہ پر بھارت کا ڈائر کشمیر میں انسانی خون سے ہولی کھیل رہا ہے۔ سیدذی شان کی نظم شاید بھارت کے ادیبوں اور شاعروں کو وہ رستہ دکھا دے جو رابرٹ بلی نے 1965ء میں ویت نام کے لئے چنا تھا۔

سید ذیشان جو یوری کی نظم دیکھیں؟

نگر نگر ہیں الجھنیں، سحر سحر دھواں دھواں

نظر نظر ہے بے حسی۔ بحر بحر بلائے دل

کٹے کٹے ہیں تارِ دل، بجھی بجھی بہار میں

نہیں پتہ کہاں کی سمت چل ر ہا ہے کارواں

نہیں پتہ کہ کس جگہ پہ رک گئی ہے داستاں

اذان صبح سنی نہیں ابھی بھی رات رات ہے

نماز شب بھی ہے قضا یہ کیسی واردات ہے

چمن کی ہر کلی لہو سے لال لال ہے

ذہن سے ہر شب و سحر عجیب سے سوال ہیں

سوال ہے کہ کس طرح پیاس کو بجھائیں گے

سوال ہے کہ راہبر کہاں کو لے کے جائیں گے

سوال ہے کہ خواب سارے زیر خاک سو گئے

سوال کر رہی ہیں مائیں جن کے لعل کھو گئے

وطن کاذرہ ذرہ کیوں روشنی سے دور ہے

جو صوفیوں کی شان تھا کہاں چھپا وہ نور ہے

زہر ہماری سوچ میں ملا دیا ملا دیا

وطن کے عشق کا دیا بجھا دیا،بجھا دیا

بجھا دیا ہے شوقِ اعتبار اس دیار سے

وہ بھر رہے ہیں پیٹ اب لہو کے کاروبار سے

مگر اے ظلم کی ہوا ہمارے دن بھی آئیں گے

کہ جب متاع شوق تیری سازشیں مٹائیں گے

وہ لفظ لفظ جوڑ کر رکاوٹیں ہٹائیں گے

وہ تیری آگ زخم دل کے خون سے بجھائیں گے

سید ذیشان ایک نوجوان شاعر ہے، سری نگر میں رہتا ہے، کئی دنوں سے اس کا کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہے۔ رموز ایک کشمیری شاعرہ ہے۔ اس کی آواز میں کشمیر کا درد ہے۔ اس کی نظم کے دو مصرعے؟

تم میرے آشیانے کی ویرانگی نہیں

میرے جذبات کی دیوانگی دیکھو گے

کاش کشمیر کو آزاد کروانے کے دعوے کرنے والے پاکستان کے نوجوانوں کو کشمیر کے نوجوانوں کے ادب سے بھی روشناس کرواتے۔ فلسطینی ادیبوں نے دنیا بھر کے ادیبوں سے شاعروں سے حمایت حاصل کی ہے۔ کیا ہم کشمیر کے جہنم میں گھرے نوے لاکھ انسانوں کے لئے عالمی ضمیر کی بیداری کیلئے دنیا کے ادیبوں، دانشوروں، شاعروں کی حمایت حاصل نہیں کر سکتے۔

مزید : رائے /کالم


loading...