مسائل اور سیاسی جماعتیں

مسائل اور سیاسی جماعتیں
مسائل اور سیاسی جماعتیں

  


بلاول بھٹو زرداری ایک بار پھر اندرون سندھ کے دورے پر ہیں۔ اس مرحلے میں انہوں نے حیدرآباد پریس کلب میں میٹ دی پریس سے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے مولانافضل الر حمان کے نئے انتخابات کے انعقاد کے مطالبہ کو یکسر مسترد کیا اور کہا کہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کرنا آسان ہے، لیکن ان کا انعقاد مشکل ہے۔ ان کی پارٹی جمہوریت کا تسلسل چاہتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ موجود اسمبلی میں رہتے ہوئے نئے وزیراعظم کے انتخاب کی گنجائش ہے اور قابل ِ عمل طریقہ ہے۔ وفاقی وزیر قانون کی کراچی میں آئین کی شق 149کے نفاذ کی تجویز پر بہت سخت موقف اختیار کیا۔اگر وفاقی حکومت کراچی کو توڑے گی تو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

یہ قدم وفاق کو کمزور کرنے کے برابر ہوگا۔ انہوں نے سوال کیا کہ آپ سمجھتے ہیں کہ وفاق محفوظ رہ سکے گا۔ کل بھی بنگلہ دیش بنا تھا، کل (آنے والا) سندھو دیش بنے گا، سرائیکی دیش بنے گا، اور کئی دیش بن جائیں گے۔ وفاقی حکومت کے اعلان کے بعد ان کی سوچ سامنے آگئی ہے۔ کہاں گئے وہ سیاست داں جو کل تک کہتے تھے کہ ” مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں“۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اپنی عوامی رابطہ مہم جاری رکھیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش مسائل سے نمٹنا کسی ایک سیاسی جماعت کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر ان مسائل کے بارے میں غور کرنا ہو گا اور ان کا حل تلاش کرنا ہو گا۔ انہیں نے وزیراعظم عمران خان کے لئے بار بار سلیکٹیڈ کا لفظ استعمال کیا۔انہوں نے عمران خان کی حکومت کے خلاف سخت الفاظ میں تنقید کی۔

پاکستان میں حکومت مخالف سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کے پاس کہنے کو کوئی نئی بات نہیں۔ اسی طرح بلاول بھٹو کے پاس بھی کوئی قابل عمل روڈ میپ نہیں۔ ایک دوسرے کے الفاظ کی گردان اور ایک دوسرے کے خیالات کو دہرانے کا عمل جاری ہے۔ چینلوں پر بحث کا جائزہ لیں، سیاست دانوں کے بیانات کو دوبارہ پڑھا جائے،تو سوائے پرانی باتوں کو دہرانے کے کسی کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے۔

یہ بات عالم آشکار ہے کہ پاکستان شدید معاشی بحران کو شکار ہے، اس بحران کی وجہ سے سماجی صورت حال ابتر ہوئی ہے۔ کسی سیاسی جماعت حتیٰ کہ برسراقتدار جماعت پاکستان تحریک انصاف کے پاس بھی کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ گھسے پٹے انداز میں معاشی بحران سے نمٹنے کی ناکام کوششیں کی جارہی ہیں، جن کا منفی نتیجہ عوام کو متاثر کر رہا ہے۔ پاکستان میں سیاسی بد نظمی انتہاء پر ہے، انتظامی سطح پر عام لوگوں کے مسائل حل نہیں ہو رہے ہیں۔ وفاقی حکومت ہو یا صوبائی حکومتیں، ان کی پالیسیوں میں تسلسل نہیں ہے، یکسانیت کا فقدان ہے۔ کیا اٹھارویں ترمیم اس کی ذمہ دار ہے یا سیاسی جماعتوں کے درمیاں ذہنی ہم آہنگی کی کمی ہے۔ ممکن ہے کہ عمران خان کی حکومت پر تنقید جائز ہو، لیکن کیا پاکستان موجودہ صورت حال کے گرداب سے اسی صورت میں نکلے گا کہ سیاست دان آپس میں کوئی ذہنی ہم آہنگی نہ رکھتے ہوں۔

کیا کسی سیاسی جماعت نے اب تک کوئی ایسا منصوبہ پیش کیا ہے،جس کی روشنی میں کہا جا سکے کہ پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کا منصوبہ ہے۔ کیا سیاسی صورت حال میں کوئی تجویز سامنے لائی گئی ہے جس سے کہا جا سکے کہ پاکستان کو اس طرح سیاسی نہج پر چلنا چاہئے یا چلانا چاہئے۔ ایسا لگتا ہے کہ سب ہی تنقید برائے تنقید کے قائل ہو گئے ہیں، یا پھر کسی کے پاس بھی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔ پاکستان کا یہ المیہ رہا ہے۔ کیا اس المیہ کی ذمہ داری انجینئرڈ انتخابات پر جاتی ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی عدلیہ کے نئے سال کے آغاز پر ایک تقریر میں کہا ہے کہ انجینئرڈ ا حتساب کا تاثر خطر ناک ہے۔ اختلافی آوازوں کا دبانا جمہوری نظام کے لئے خطر ناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تاثر کو بہت خطرناک سمجھ رہے ہیں کہ ملک میں جاری احتساب سیاسی انجینئرنگ ہے، اس تاثر کے ازالے کے اقدامات کر رہے ہیں چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم آئین اور قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کرنے کے لئے پُرعزم ہیں۔ بلاول بھٹو نے بھی کہا کہ ملک میں بہت کچھ ہو رہا ہے جو ذرائع ابلاغ سے غائب ہوتا ہے۔ جمہوریت پسند لوگوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ذرائع ابلاغ کی پر اسرار خاموشی کو بہت سارے عناصر جمہوریت کے ساتھ ساتھ ملک کی بقاء کے لئے بھی بہت خطر ناک تصور کرتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے علاوہ ملک کے مقتدر حلقوں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ کی آزادی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

مزید : رائے /کالم


loading...