سعودی آئل فیلڈ پر ڈرون حملہ

سعودی آئل فیلڈ پر ڈرون حملہ
سعودی آئل فیلڈ پر ڈرون حملہ

  


امریکی صدر بش سینئر کا زمانہ تھا…… 02اگست 1990ء کو عراق نے کویت پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کر لیا۔ عراق کا موقف تھا کہ کویت، ماضی ء قریب میں عراق کا حصہ تھا جس کو اتحادیوں نے زمانہ ء جنگ میں الگ کرکے اس پر اپنی مرضی کا امیر مقرر کر دیا تھا۔لیکن صدام حسین نے جونہی کویت پر حملہ کیا، بین الاقوامی مذمتوں کے فلڈ گیٹ کھل گئے۔ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا اور عراق سے مطالبہ کیا گیا کہ فوراًکویت سے نکل جاؤ ورنہ……

اس ”ورنہ“ کا اگلا اقدام اظہر من الشمس تھا…… لیکن امریکہ نے پھر بھی جلد بازی سے کام نہ لیا۔ مشرقِ وسطیٰ میں عراق ایک بڑی فوجی قوت سمجھا جاتا تھا۔ اس کے آرمرڈ ڈویژنوں کا بھی بڑا شہرہ تھا، اس لئے بش سینئر نے بڑے تحمل سے اپنے اتحادیوں کو ریاض میں جمع کرنا شروع کر دیا۔ 35ممالک کی افواج، ریاض کے گردونواح میں اکٹھی ہو گئیں اور اس کے بعد ”آپریشن ڈیزرٹ شیلڈ“ شروع ہوا۔ اصل جنگ صرف چار دن جاری رہی۔ فروری 1991ء کے آخری ایام میں امریکہ نے حملہ کرکے عراقی ملٹری فورس کو تباہ کر دیا۔ اس جنگ کی تاریخ بہت عبرت آموز ہے۔ پاکستان نے بھی اپنی فوج کا ایک دستہ (5000سولجرز پر مشتمل) اس جنگ میں بھیجا لیکن دوسرے کئی اتحادی ممالک کی طرح پاکستان کو اس جنگ میں عملی حصہ لینے کا موقع نہ ملا…… مجھے یاد ہے جب یہ جنگ شروع ہوئی تو CNNپر بغداد اور اس کے گردونواح کے علاقوں پر امریکی بحری جنگی جہازوں پر سے لانچ کئے گئے ٹام ہاک میزائلوں کی بارش کر دی گئی تھی۔ عراق پر اس میزائل حملے کے مناظر جو 29،30برس قبل کی میری یادوں میں محفوظ تھے وہ اگلے روز اس وقت تازہ ہو گئے جب ابقیق (Abqaiq) آئل فیلڈ پر ایک ڈرون حملے میں سعودی عرب کا ایک بڑا علاقہ شعلوں کی لپیٹ میں آ گیا۔

اس ڈرون حملے کی ذمہ داری فوراً ہی یمن کے حوثی باغیوں نے قبول کرلی۔ لیکن امریکہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے ایران پر الزام لگایا کہ یہ ڈرون حملہ کسی یمنی علاقے سے نہیں بلکہ ایرانی علاقے سے کیا گیا ہے۔ اس حملے کی کوئی زیادہ تفصیلات اب تک ہمارے الیکٹرانک میڈیا پر نہیں دکھائی گئیں …… اندازہ فرمایئے کہ اگر کویت پر حملہ ہو تو فوراً ہی ایک حملہ آور کولیشن فورس اکٹھی کر لی جاتی ہے اور عراق کو سبق سکھا دیا جاتا ہے۔ لیکن آج مقبوضہ کشمیر میں 80،90لاکھ کی مسلم آبادی 44 دنوں سے زیرِ کرفیو ہے۔ پاکستانی میڈیا اور حکومت کے اربابِ اختیار کا گلا چیخ چیخ کر بیٹھ گیا ہے لیکن کسی امریکی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ جو امریکی مفادات اور مصلحتیں 1990-91ء کی خلیجی جنگ میں تھیں وہ آج 29برس بعد اگر 180ڈگری بدل گئی ہیں تو پاکستان کو سوچنا چاہیے کہ اس نے ”امریکہ کے یار“ انڈیا کے خلاف کیا جوابی آپشن اختیار کرنی ہے جو انڈیا کے آئینی آرٹیکل 370 کی تنسیخ کا جواب ہو سکے۔

ہم ڈیڑھ ماہ سے کشمیر کو ڈسکس کئے جا رہے ہیں۔ ہمارے سول اور ملٹری اکابرین آخری حدوں تک جانے کے دعوے کر رہے ہیں اور کشمیر کو ایک نیو کلیئر فلیش پوائنٹ قرار دے رہے ہیں۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ سعودی آئل فیلڈ پر یہ ڈرون حملہ بھی اپنی بغل میں ایک اور نیوکلیئر فلیش پوائنٹ رکھتا ہے!

فی الحال دیکھتے ہیں کہ جس جگہ ڈرون حملہ ہوا ہے اس کی لوکیشن اور اہمیت کیا ہے…… نقشے پر دیکھیں تو ابقیق آئل فیلڈ، سعودی عرب کے مشرقی حصے میں واقع ہے۔ دمام اور دہران کی آئل فیلڈز سے جنوب مغرب میں واقع یہ آئل فیلڈ دنیا کی سب سے بڑی آئل فیلڈ ہے جس کا نصف حصہ اس حملے میں تباہ ہو گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 57 لاکھ بیرل یومیہ کی پروڈکشن بند ہو گئی ہے۔ اس کا اثر بین الاقوامی تیل کی منڈی پر ضرور پڑے گا کیونکہ یہ آئل فیلڈ عالمی تیل کی کل پیداوار کا سات فی صد فراہم کررہی تھی۔ سعودی عرب نے اگرچہ کہا ہے کہ اس نقصان کو جلد ہی پورا کر لیا جائے گا لیکن واقفانِ حال جانتے ہوں گے کہ اس طرح کے نقصانات کی بحالی کتنی محنت، سرمایہ اور وقت مانگتی ہے……

اس ڈرون حملے سے طرح طرح کے وسوسے، اندیشے اور خیالات میرے ذہن کی سکرین پر نمودار ہو رہے ہیں۔ مثلاً:

1۔ امریکی وزیرخارجہ پومپیؤ نے چھوٹتے ہی ایران کو اس حملے کا ذمہ دار کیوں ٹھہرایا ہے؟ یمن کے حوثیوں نے جب خود اعلان کر دیا تھا کہ یہ حملہ ان کی طرف سے کیا گیا ہے تو ان کے اعلان کو تسلیم نہ کرنے کی وجوہات کیا ہیں؟

2۔ ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے فوراً تردید کر دی ہے کہ یہ حملہ اس کی طرف سے نہیں ہوا۔ اگر ایسا ہی ہے تو دیکھنا پڑے گا کہ حالیہ ایام میں ان علاقوں میں ایسا کون سا نیا اقدام (واقعہ)ہوا ہے جو اس حملے کا باعث ہوا؟

3۔ کیا یہ حملہ اسرائیل کی طرف سے کیا گیا ہے اور کیا امریکی ایماء پر کیا گیا ہے؟

4۔کیا اتنی اہم اور بڑی آئل فیلڈ پرخاطر خواہ ائر ڈیفنس انتظامات موجود نہیں تھے؟اگر تھے تو کیا اس حملے کی وارننگ موصول ہوئی تھی؟ کیا کوئی جوابی میزائل چلایا گیا تھا؟

5۔کیا حملہ آور ڈرون، آگ کے شعلوں میں گر کرراکھ ہو گیا تھا یا بچ کر نکل گیا تھا؟ اگر بچ گیا تھا تو اس کا سراغ کیوں نہیں لگایا گیا اور یہ ساری اطلاعات و معلومات صیغہ ء راز میں کیوں رکھی گئی ہیں؟

6۔پاکستان کا ردِ عمل اس پر کتنا موثر ہے۔ عمران خان کا 19ستمبر کو ہونے والا دورۂ سعودی عرب کیا شیڈول کے مطابق ہو گا یا اس کو ملتوی کیا جا رہا ہے؟

7۔سعودی عرب میں مسلم افواج کی کولیشن کا جو ہیڈکوارٹر، جنرل راحیل شریف کی کمانڈ میں قائم ہے اس کی Inputکیا ہے؟

8۔کیا سعودی عرب کی دوسری بڑی بڑی تیل کی تنصیبات کا فضائی دفاع کا نظام اس حملے کے بعد زیرِ خطر (Vulnerable) نہیں ہوگیا؟

9۔کیا سعودی حکومت، ایران کو اس حملے کا ذمہ دار گرداننے کا کوئی عندیہ دے رہی ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا سعودی ملٹری کی طرف سے ایران کی تیل کی تنصیبات (آبادان، بوشہر، اہواز، مارون، ریگِ سفید، بی بی حاکمہ، پازنان وغیرہ)بھی خطرے کی زد میں نہیں آ گئیں؟

10۔ اگر اس طرح کے ایک دو حملے اور ہوتے ہیں تو اس کے اثرات پاکستان پر کیا پڑیں گے اور ان سے عہدہ برآ ہونے کے سلسلے میں پاکستان کی سٹریٹجی کیا ہو گی؟

قارئین گرامی! متذکرہ بالا سارے ہی نکات غور طلب ہیں۔ ان پر ہمارے میڈیا میں بحث ہونی چاہیے اور ٹاک شوز کا انعقاد ہونا چاہیے…… میں آپ کی توجہ چند روز پہلے ایک ایرانی خبر کی طرف بھی مبذول کروانی چاہتا ہوں …… الجزیرہ ٹی وی نے یکم ستمبر 2019ء کو یہ خبر دی تھی کہ ایران نے ایک بالکل نیا اور پاور فل ڈرون تیار کیا ہے جس کی رونمائی بریگیڈیئر جنرل علی رضا صباحی فرد نے ایک تقریب میں کی تھی جو اس روز تہران میں منعقد ہوئی اور جس میں اس نئے اور پاور فل ڈرون کے بارے میں دنیا بھر کے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا گیا کہ اس ڈرون کا نام ”کیان“ ہے…… کیانی اور ساسانی خاندان ایرانِ باستاں کے دو بڑے نامور خانوادے تھے جن کے چار بادشاہ یکے بعد دیگرے ایرانی تخت پر بیٹھے۔ ان کے ناموں سے پہلے لفظ ”کَے“ لگایاجاتا تھا۔ مثلاًکے قباد،کے خسرو، کے طہماسپ اور کے کاؤس …… اس خاندان کو ”خاندانِ کیان“ کہا جاتا ہے۔ اقبال نے اس کی عظمت و شوکت کا ذکر اپنے کئی اشعار میں کیا ہے، مثلاً:

دل کیا ہے، اس کی مستی و قوت کہاں سے ہے

کیوں اس کی اک نگاہ الٹتی ہے تختِ کَے؟

ایران نے اپنے اس نئے ڈرونوں کے سلسلے کو ”کیان“ (Kian) کا نام درجِ بالا نسبت ہی کی وجہ سے دیا ہے۔ اس ڈرون کا افتتاحی مظاہرہ کرتے ہوئے جنرل علی رضا نے کہا کہ: ”یہ نیا ڈرون (کیان اول) ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کر سکتا ہے اور 16000فٹ کی بلندی پر پرواز کر سکتا ہے۔ اس میں جیٹ انجن لگا ہوا ہے، اس کا اصل مشن سروے لینس اور ریکی ہے اور اس کے نشانے کی درستگی (Precision) آزمودہ ہے۔ یہ ڈرون ایران کی سرحدوں سے باہر جا کر دشمن کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے“۔

ایران کی ڈرون سازی کی صنعت کی ترقی کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتاہے کہ صرف تین ماہ پہلے (20جون 2019ء) میں ایران نے اپنی فضاؤں میں جدید ترین امریکی ڈرون مار گرایا تھا۔جن حلقوں اور طاقتوں نے اس حملے کے لئے ایران کو ذمہ دار ٹھہرانا ہے وہ ایرانی ڈرون سازی کی اس ترقی کو بہانہ بنا کر سعودی عرب کو بہکا سکتی ہیں۔ اب یہ کام سعودی انٹیلی جنس کا ہے کہ وہ یہ معلوم کرے کہ یہ ڈرون کہاں سے آیا، کس طاقت کا تھا، اس میں کون کون سے میزائل نصب تھے، اس کی کوئی خبر سعودی ایئر ڈیفنس سسٹم کو کیوں نہ ہو سکی اور یہ گیم پلان دراصل ہے کیا؟ کیا بڑی طاقتیں ایران اور سعودی عرب میں جنگ کروانا چاہتی ہیں اور اگر یہ جنگ ہوئی تو کون سی بڑی طاقت کس ملک کا ساتھ دے گی؟

دیکھنے میں یہ بھی آ رہا ہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے بعض اراکین کے درمیان کئی بین الاقوامی تنازعات پر اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔گزشتہ دنوں ٹرمپ نے اپنے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو سیک کیا تو اس کی بڑی وجہ بھی یہی اختلاف تھا۔ بولٹن، شمالی کوریا، افغانستان اور ایران کے خلاف سخت اقدامات کا داعی تھا۔ لیکن ٹرمپ اس سے متفق نہ تھا۔ جون 2019ء میں جب ایران نے امریکی ڈرون (گلوبل ہاک) مار گرایا تھا تو امریکہ کی طرف سے اس کا کاؤنٹر اٹیک صرف دوچار ہاتھ دور رہ گیا تھا۔ ٹرمپ نے عین وقت پر نجانے کیوں یہ جوابی حملہ منسوخ کر دیا تھا۔ اب اسی ڈرون کے معاملے میں دیکھ لیجئے کہ مسٹر پومپیو(امریکی وزیر خارجہ) نے جھٹ الزام لگایا کہ یہ حملہ ایران نے کیا ہے۔ جبکہ صدر ٹرمپ نے اس پر جو ٹویٹ کیا ہے اس میں ایران کا کا نام نہیں لیا بلکہ یہ لکھا ہے: ”مجرم کون ہے ہمارے پاس اس کو جاننے کی وجوہات موجود ہیں۔ امریکہ ہر طرح کے ردعمل کے لئے تیار (Locked and Loadd) بیٹھا ہے…… ہمارے ردِ عمل کا انحصار ثبوت ملنے پر ہے“۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ سعودی عرب کا ردِعمل جاننا چاہتے ہیں کہ وہ کس کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔ دوسری طرف سعودی بھی ابھی تک خاموش ہیں۔ وہ اس تلاش میں ہیں کہ اس حملے کا منبع کیا ہے، کس ملک نے اس ڈرون کو حملہ آور ہوتے دیکھا اور وہ کس طرف سے آ رہا تھا۔

اس خطے کی عسکری اور سیاسی صورتِ حال کئی برسوں سے دگرگوں ہے۔یمن کی جنگ، قطر اور اس کے ہمسایوں کے مابین کشیدگی اور امریکہ۔ ایران چپقلش اس کی واضح مثالیں ہیں۔ ٹرمپ کو معلوم ہے کہ اگر اس خلیجی خطے میں اب کسی بھی طرح کی جنگی چنگاری بھڑکی تو اس کے اثرات، سٹرٹیجک تباہیوں اور تبدیلیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس حوالے سے صدر ٹرمپ کو داد دینی چاہیے کہ وہ ابھی تک اس خارزار میں پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...