تحریک انصاف کے اپنے اراکین اسمبلی ہی حکومت کے خلاف بول پڑے، قومی اسمبلی کے اجلاس میں سیدھی سیدھی سنا دیں

تحریک انصاف کے اپنے اراکین اسمبلی ہی حکومت کے خلاف بول پڑے، قومی اسمبلی کے ...
تحریک انصاف کے اپنے اراکین اسمبلی ہی حکومت کے خلاف بول پڑے، قومی اسمبلی کے اجلاس میں سیدھی سیدھی سنا دیں

  


اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے بعدتحریک انصاف کے ارکان بھی اپنی ہی حکومت سے سوالات کرنے لگے، حکومتی ارکان نے ملک میں بڑھتی مہنگائی کے مسئلے اور ایوان میں بات کرنے کی اجازت نہ دینے پر استعفے اور بائیکاٹ کی دھمکی دیدی،حکومتی رکن نور عالم خان نے کہا گیس، بجلی اور یوریا کی قیمتوں میں کیوں اضافہ کیا،وزیر خزانہ ایوان میں آکر جواب دیں، ہم یہاں ڈیسک بجانے نہیں آتے،آئی ایم ایف کا وفد کیوں پاکستان آیا،بتایا جائے کیا ڈالر پھر تو مہنگا نہیں کررہے، اگر ہماری آواز سپیکر کو پسند نہیں تو استعفیٰ دیکر گھر چلے جاتے ہیں، جو غریبوں کیلئے آواز نہیں اٹھا سکتا اس پر لعنت ہو، اگر صحیح احتساب نہیں کر سکتے تو اس کو بند کردیں۔پی ٹی آئی کے کراچی سے رکن عطاءاللہ اور فہیم خان نے کراچی کے مسائل پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر بائیکاٹ کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہماری بات سنے بغیر اجلاس کی کارروائی معطل کردی،سپیکر صاحب آپ روزانہ اس طرح بھاگ جاتے ہیں، ہمیں بائیکاٹ پر مجبور نہ کریں،فیصل آباد سے رکن راجہ ریاض بھی حکومت سے نالاں دیکھائی دیے۔پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس کے دوران حکومتی رکن نور عالم خان نے متعدد بار ڈپٹی سپیکر سے نقطہ اعتراض پر بات کرنے کی اجازت مانگی مگر ڈپٹی سپیکر نے بولنے کی اجازت نہ دی جس پر حکومتی ارکان کیساتھ ساتھ اپوزیشن نے بھی احتجاج کیا اپوزیشن کو نہیں تو اپنے ارکان کو ہی بولنے دیں، بعد ازاں بات کرنیکی اجازت ملنے پر نور عالم خان نے کہا ہم یہاں ڈیسک بجانے آتے نہ ہی پہلی نشستوں پر بیٹھے ہوئے وزراءاور اپوزیشن لیڈروں کی باتیں سننے آتے ہیں،وزیر خزانہ ایوان میں کیوں نہیں آتے بتایا جائے، میں نے کاشتکار کیلئے آواز اٹھانی ہے،یہاں صنعتکار اپنے مسائل کیلئے آواز اٹھا تے ہیں لیکن غریب کاشتکار کیلئے کوئی آواز نہیں اٹھاتا،یوریا200روپے مہنگا ہوگیا لیکن چینی اور دیگر صنعتوں والے اپنی بات کرتے ہیں، وزیر خزانہ یہاں آکر مہنگائی کا جواب دیں، بجلی مہنگی ہوئی ہے اس کی وضاحت کیوں نہیں دی جا رہی، وزراءایوان میں ہوتے ہیں لیکن سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتے اور جواب کیوں نہیں دیتے،گیس،یوریا،بجلی،روٹی مہنگی ہورہی ہے اس کا جواب کیوں نہیں دیا جا رہا، ہم غریبوں سے ووٹ لیکر ایوان میں آئے ہیں جو غریبوں کیلئے آواز نہیں اٹھا سکتا ان پر لعنت ہو، اگر سپیکر کو ہماری بات پسند نہیں آتی تو استعفے دیکر چلے جائیں گے، آئی ایم ایف کا وفد آیا ہوا ہے، کیا وزیر خزانہ ڈالر اور تو نہیں مہنگا کر رہا۔ احتساب پاکستان بننے کے بعد سے سب کا ہونا چاہیے اس کیلئے میں احتساب کیلئے تیار ہوں، اگر صحیح احتساب نہیں کر سکتے تو اس کو بند کردیں، میں ایسی دس سیٹیں قربان کرنے کو تیار ہوں لیکن خاموش نہیں ہونگے، اس کے بعد سپیکر نے ایجنڈے کی تکمیل کے بعد ایوان کی کارروائی آج تک ملتوی کی تو کراچی سے حکومتی ارکان اسمبلی نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کیلئے فلور نہ ملنے پر احتجاج کیا۔پی ٹی آئی کے کراچی سے رکن عطاءاللہ اور فہیم خان نے کراچی کے مسائل پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر بائیکاٹ کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہماری بات سنے بغیر اجلاس کی کارروائی معطل کردی،سپیکر صاحب آپ روزانہ اس طرح بھاگ جاتے ہیں، ہمیں بائیکاٹ پر مجبور نہ کریں،فیصل آباد سے رکن راجہ ریاض بھی حکومت سے نالاں دکھائی دیے اور کہا جس حکومتی رکن اور وزیر سے متعلق ایوان میں ایجنڈا ہے وہ خود ایوان میں آکر اسے پیش کرے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد


loading...