کینیڈا میں مقیم معروف افسانہ نگار روبینہ فیصل کی کتاب ” گم شدہ سائے“ کی رونمائی اور مشاعرہ

کینیڈا میں مقیم معروف افسانہ نگار روبینہ فیصل کی کتاب ” گم شدہ سائے“ کی ...
کینیڈا میں مقیم معروف افسانہ نگار روبینہ فیصل کی کتاب ” گم شدہ سائے“ کی رونمائی اور مشاعرہ

  


دبئی (طاہر منیر طاہر)    پاکستان سوشل سنٹر شارجہ  میں  ادبی کمیٹی نے کینیڈا میں مقیم معروف افسانہ نگار ، کالم نگار اور انکر پرسن محترمہ روبینہ فیصل کے ساتھ اک شام کا انعقاد کیا جس میں روبینہ فیصل کی نئی کتاب ”گم شدہ سائے “ کی تقریب رونمائی کی گئی تقریب کا آغاز  سید عرفان شاہ نے تلاوت کلام پاک سے کیا اور مقصود تبسم نے  ہدیہ نعت پیش کی ۔ تقریب دو حصوں پر مشتمل تھی پہلے حصے میں محترمہ روبینہ فیصل کی کتاب ”گم شدہ سائے “ پر  گفتگو کی گئی جبکہ دوسرے حصے میں مشاعرہ منعقد کیا گیا جس مین  محترمہ انعم عادل  نے نظامت کے فرائض سنبھالے اورکہا  کہ روبینہ فیصل کے افسانے حقیقت سے بہت قریب ہیں اور ان کی کہانیوں میں حقیقی زندگی کا عکس نظر آتا ہے  ۔ پاکستان سوشل سنٹر شارجہ کے جنرل سیکرٹری  چوہدری افتخار نے محترمہ روبینہ فیصل کا پاکستان سوشل سنٹر شارجہ میں آمد پر شکریہ ادا کیا اور کتا ب کی رونمائی پر مبارک باد بھی پیش کرتے ہوئے کہا کہ روبینہ فیصل کے کتاب ” گم شدہ سائے“افسانوں کی ایک منفرد کتاب ہے جس میں موجود کہانیاں حقیقت سے قریب ہیں  .

شرافت علی شاہ نے کہا کہ روبینہ فیصل کے افسانے پڑھنے کے بعد  ایسا لگتا ہے جیسے تمام افسانے نہیں بلکہ حقیقت ہے خصوصا ً ان کی کہانی پڑھنے والے کو باندھ کر رکھتی ہے ابتدا سے اختتام تک قاری کہانی میں اس قدر محو ہو جاتا ہے کہ کہانی مکمل کئے بنا چین نہیں پاتا ۔  احیاءالاسلام بھوج پوری نے کہا کہ ” گم شدہ سائے “ کو پڑھنے کے بعد یہ اندازہ ہوا کہ روبینہ فیصل کا مشاہدہ اور تحقیق مین بہت وسعت ہے کتاب میں شامل تمام افسانے نا صرف منفرد نوعیت کے ہیں بلکہ ہر افسانے کی کہانی  تمام کردار جاندار اور ایک خاص ماحول سے نسبت رکھتے ہیں. ادبی کمیٹی کے  سلیمان جاذب نے کہا کہ اکیسویں صدی کا افسانہ سماجی ناہمواریوں معاشی اور معاشرتی مجبوریوں، نفسی ونفسیاتی مسائل اور گلوبلائزیشن کی حشر سامانیوں سمیت ان گنت موضوعات کے بحران پر مشتمل ہے۔ 

اس موقع پر محترمہ روبینہ فیصل نے کہاکہ ادب کی تخلیق کاروں میں بیرون ملک رہنے والے احسن انداز میں کام کر رہے ہیں ناصرف کینیڈا بلکہ تمام خیلیجی ممالک ، امریکہ ، یورپ میں رہنے والے اردو دان خراج تحسین کے مستحق ہیں اور اس وقت جو کام یہاں ہو رہا ہے اس طرح کا کام پاکستان میں کم ہی نظر آتا ہے  روبینہ فیصل نے  کہا کہ کتاب ”  میں ان موضوعات اور کہانیوں کو شامل کیا ہے جو دیکھنے میں عام سی لگتی ہیں لیکن ان میں بہت کرب موجود ہے انہوں نے پاکستان سوشل سنٹر کی انتظامیہ کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا.

   ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی نے  کہ  دیار غیر میں مقیم شاعر و ادیب بہت عمدہ کام کر رہے ہیں روبینہ فیصل کی کتاب اردو افسانوں میں ایک نیا باب رقم کر ئے گی  مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ ان کی کتاب پر پاکستان کے تمام نامور شخصیات نے رائے دی ہے  ۔ محترمہ روبینہ فیصل کی کتاب  کی رونمائی  ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی ، جنرل سیکرٹری پاکستان سوشل سنٹر شارجہ جناب چوہدری افتخار ، ادبی کمیٹی کے  سلیمان جاذب ، انجینئر محمد احسن رانجھا اور شرافت علی شاہ نے کی بعد ازاں پاکستان سوشل سنٹر شارجہ کی طرف سے چوہدری افتخار اور سلیمان جاذب نے اپنی ٹیم اور ڈاکٹر صباحت عاصم کے ساتھ محترمہ روبینہ فیصل کو اعزازی شیلڈ پیش کی ۔

   دوسرے حصے میں  صباحت عاصم واسطی ، محترمہ روبینہ فیصل ،  ، سید سروش آصف ،  احیاءالاسلام بھوجپوری ، مسرت عباس ،  معید مرزا ،  احمد جہانگیر داجلی ، خاقان قمر ،محترمہ فرح شاہد ،  رانا عامر لیاقت ،  فیاض اسود ، محترمہ عائشہ شیخ عاشی ،محترمہ حنا عباس ، منور احمد ،  ابرار عمر ، محترمہ میگی اسنانی ،  نعمان نومی ، محترمہ سمعیہ ناز ، محترمہ نیہا شرما ، محترمہ ماہ رخ فاطمہ ، عبید الرحمن نیازی اورحسین شاہ زاد نے اپنا کلام سنایا.

 

مزید : عرب دنیا


loading...