فٹیف ام الخبائث اور ساہوکاروں کی انجمن، وزیر اعظم نے ٹیپو سلطان بننے کا اعلان کیا لیکن حکومتی پالیسیاں بہادر شاہ ظفر کی ہیں : سینیٹر مشتاق احمد خان  

فٹیف ام الخبائث اور ساہوکاروں کی انجمن، وزیر اعظم نے ٹیپو سلطان بننے کا ...
فٹیف ام الخبائث اور ساہوکاروں کی انجمن، وزیر اعظم نے ٹیپو سلطان بننے کا اعلان کیا لیکن حکومتی پالیسیاں بہادر شاہ ظفر کی ہیں : سینیٹر مشتاق احمد خان  

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف اُم الخبائث اور ساہوکاروں کی انجمن ہے،ایف اے ٹی ایف سے بھیک مانگنے کے لئے حکومت نے شیر قوم کو لومڑی بنا دیا، وزیر اعظم نے ٹیپو سلطان بننے کا اعلان کیا تھا لیکن آئی ایم ایف اورایف اے ٹی ایف کے حوالے سے حکومت کی پالیسیاں بہادر شاہ ظفر کی ہیں، 80فیصد سینیٹر ز کو پتہ ہی نہیں ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی خوشنودی کے لئے پاس کئے گئے بلوں میں ہے کیا؟ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا خفیہ مشاورت کرکے اکثریت کو غلام بنانے کا رویہ درست نہیں، پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے پارلیمنٹیرینز کو سیاسی غلام بنایا ہے، ہم ان بلوں کو مسترد کرتے ہیں اور اس کی مذمت کرتے ہیں، نیب کا قانون آرٹیکل 25، آرٹیکل 10اور 10اے کے خلاف ہے،منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے خلاف قوانین کے ہم بھی حق میں ہیں لیکن یہ قوانین ایف اے ٹی ایف کی جانب سے آنے کی بجائے ہمیں خود اپنے قومی مفاد میں بنانے چاہئیں، حکومت اور اپوزیشن نے پارلیمنٹ کو ربڑ سٹیمپ بنادیا ہے،سر عام پھانسیاں عوام کی آواز اور مسائل کا حل ہیں لیکن حکومت یورپی یونین کے خوف کی وجہ سے قانون سازی نہیں کررہی۔

 تفصیلات کے مطابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ اپوزیشن کو مشترکہ اجلاس سے واک آؤٹ نہیں کرنا چاہئے تھا ،وزیر اعظم عمران خان ٹیپو سلطان کی بجائےبہادرشاہ ظفرکے راستے پرچل رہے ہیں، حکومت نے پارلیمانی روایات کو پامال کردیا ہے، ایک ہی دن میں بل کمیٹی میں جانے اور وہاں سے پاس ہونے کے بعد جلدی جلدی میں سینِٹ سے پاس کرکے رولز آف پروسیجر اینڈ کنڈکٹ آف بزنس کو پامال کردیا گیا،ایف اے ٹی ایف کی خوشنودی کے لئے آئین سے ماورا قانون سازی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ سیاست اور پارلیمنٹ سے مایوس ہورہے ہیں، قومی اسمبلی نے ایک پارلیمانی سال میں 29قوانین بنائے، ان میں سے صرف 14قوانین ایسے ہیں جو عوامی فلاح و بہبود کے ہیں ہی نہیں، 31صدارتی آرڈیننس جاری کرکے پارلیمنٹ کو بائی پاس کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سمجھ نہیں آرہی یہ سیکیورٹی سٹیبلیشمنٹ کا کارنامہ ہے، این آر او کی کارستانی ہے یا نیب کا خوف ہے کہ شدید اختلاف اور فاصلوں کو شراکت داری میں بدل دیا گیا؟حیرت کی بات ہے کہ اتنااتفاق رائے کیسے ہوگیا؟۔انہوں نے کہا کہ کراچی ڈوب رہا ہے، آئی پی پیز، شوگر ملز، فلور ملز اور ڈرگ مافیا نے عوام کا خون چوس لیا ہے،ہماری بچیاں لٹ رہی ہیں، خواتین اور بچے لٹ رہے ہیں، امن و امان نہیں ہے، یہ پارلیمنٹ اور بڑی پارٹیاں ان عوامی مسائل کے حل کے لئے متفق اور پریشان نہیں ہوتیں لیکن 24گھنٹوں میں ایف اے ٹی ایف کے قوانین کے لئے متفق ہوجاتی ہیں۔ 

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -